341

پاکستان اور اس کی سچائی

تحریر: ڈاکٹر عظمیٰ فیاض احمد.
اس دنیا میں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی جس طرح ایک بلب کو چمکانے کے لئے مثبت اور منفی چارج کی ضرورت ہوتی ہے اگر ایک چارج نہ ہو تو بلب روشنی دینے کے قابل نہیں ہوتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مثبت اور منفی کے ملاپ سے عمل مکمل ہوتا ہے. یہی صورت حال ایک انسان کی بھی ہوتی ہے انسان میں بھی مثبت اور منفی خیالات موجود ہوتے ہیں جو اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں. کوئی بھی انسان نہ تو مکمل ٹھیک ہوتا اور نہ ہی مکمل غلط ہوتا ہے ہر انسان میں اچھائی اور برائی پائی جاتی ہے یعنی خوبیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں. یہی صورت حال ہمارے معاشرے کی بھی ہے اس میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں. اسی طرح ایک ملک میں بھی یہی صورت حال واقع ہوتی ہے یعنی ملک میں بھی اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں جس کی بدولت ملک کا تجزیہ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے.

آجکل ہمارے ملک پاکستان کی تصویر دنیا میں منفی نقظہ نظر سے دکھائی جا رہی ہے. ہر جگہ صرف اور صرف منفی پہلو واضع کیا جاتا ہے جس کا عکس ہماری نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے کیونکہ ان کو شروع سے ہی پاکستان کا منفی عکس نظر آتا ہے. جس کی وجہ سے ہماری بچوں میں پاکستان سے محبت کا جذبہ بہت ہی کم ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں چلے جائیں جس کی بدولت ہماری قوم میں اچھے ڈاکٹرز، انجیئنرز اور بہت سے شعبوں سے تعلق رکھنے والے قابل لوگ دوسرے ممالک کی طرف نکل جاتے ہیں. جس کا اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے کیونکہ ہم اپنا قیمتی سرمایہ کھو بیٹھتے ہیں.

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ پانی کے کولر کے ساتھ گلاس کو باندھ دیتے ہیں اس کا مطلب کہ پاکستانی چور ہیں ہر جگہ یہی دکھایا جاتا ہے حالانکہ ہم نے کبھی سوچاہے کہ پانی کا کولر رکھنے والا بھی تہ پاکستانی ہے جس نے ثواب کی نیت سے رکھا ہے لیکن بس ہمیں تو منفی پہلو دیکھانا ہے اس لئے ہم کولر رکھنے والے کو نہیں دیکھتے بلکہ گلاس اٹھنے والے کو دیکھتے ہیں اسی طرح مسجد میں جوتے اٹھانے والے کو دیکھا جاتا ہے لیکن اس کے بر عکس ان لوگوں کو نہیں دیکھا جاتا جن کی کوشش سے مسجد کی تعمیر ہوئی ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ عبارت گاہ محفوظ نہیں ہیں. اگر غور سے مشاہدہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلے کہ مسجد کی تعمیر میں کتنے لوگوں نے حصہ ڈالا اور کس طرح سے محنت کر کے اس کی تعمیر کروائی اسی طرح ایک اور مثال کہ پاکستان میں کسی جگہ ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو لوگ زخمی کا بٹوا تک نکال لیتے ہیں لیکن اسی پاکستان میں لوگ اسی زخمی کو ہستپال میں پہنچانے کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں اور اس زخمی کو خون جیسی قیمتی چیز دینے والے بھی اسی پاکستان کا حصہ ہیں. اسی طرح اگر پاکستان میں کسی جگہ کوئی دھماکہ ہو جاتا ہے تو ایک یا دو گھنٹے کے اندر ہسپتالوں میں اسی پاکستان کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خون کا عطیہ دینے کے لئے جمع ہو جاتی ہے. اسی طرح کسی جگہ پر اگر زلزلہ آ جاتا ہے تو لوگ جوق در جوق اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے لئے امداد اکٹھی کرتے ہیں ان میں کچھ لوگ اسی امداد کو کھا جاتے ہیں جس کی بدولت سارا پاکستان بد نام ہو جاتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھایا جاتا کہ کتنے لوگوں کی امداد سے ان زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے سامان اکٹھا کیا گیا؟ یعنی ہر انسان کی کوشش تھی کہ کچھ نہ کچھ اکٹھا کرکے اپنے بھائیوں کی مدد کی جائے. لیکن ہر وقت ہمارا منفی چہرہ دکھایا جاتا ہے جس کی بدولت عالمی دنیا میں ہماری اہمیت دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے. اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن کی مدد سے ہم جان سکتے ہیں کہ کس طرح ہماری اہمیت ختم ہو تی جا رہی ہے.

ہمارے پیارے ملک پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت ملک کے بہت سارے ادارے فلاحی کام سر انجام دے رہے ہیں جیسا کہ عبدالستار ایدھی اور رمضان چھیپا وغیرہ اس طرح کے کئی فلاحی ادارے ہیں جو ان حالات میں کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات ایک کر کے ہر مشکل حالات سے گزر کر ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں لیکن حالات کی تصویر بالکل اس کے بر عکس دکھائی جاتی ہے. اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کی سچائی کیا ہے لیکن ہم سب تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں. حالانکہ ہر کامیابی کے پیچھے کئی ناکامیاں ہوتی ہیں مگر ہمیں تو صرف اور صرف ظاہری صورت دیکھنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کے بجائے اپنی رائے قائم کرنی شروع کردیتے ہیں. جس کی بدولت سب سے زیادہ نقصان ہمارے ملک کا ہوتا ہے. اس لئے کبھی بھی کسی چیز کا ایک رخ دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے لیکن یہاں تو ہمارے ملک کا مسئلہ ہے اگر ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کا منفی چہرہ سامنے رکھیں گے تو لوگ ہمارے بارے میں منفی خیالات مرتب کریں گے. اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنے ملک کے بارے میں مثبت رائے قائم کریں. کیونکہ جب تک ہم اپنی سوچ کو نہیں بدلیں گے اس وقت تک دوسرے ہمارے بارے میں کیسے مثبت خیالات سوچیں گے.
میرے وطن کے اداس لوگوں
نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو کہ
کوئی تم کو بے حساب مانگے
نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو کہ
کوئی اٹھ کر کہے نہ تم سے کہ
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو
وطن یہ اپنا ہمیں تھما دو
اٹھو اور اٹھ کر یہ بتا دو ان کو
کہ ہم ہیں اہل ایمان سارے
نہ ہم میں کوئی صنم گدا ہے
ہمارے دل میں بس اک خدا ہے
جھکے سروں کو اٹھا کر دیکھو
قدم کو آگے بڑھا کر دیکھو
ہے ایک طاقت عیاں سر پر
قدم قدم پے جو ساتھ دے گی
اگر گرے تو سنبھال لے گی
میرے وطن کے اداس لوگو
اٹھو اور اٹھ کر وطن سنبھالو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں