376

پی ٹی آئی گورنمنٹ ۔۔ 100 دن کا ایجنڈا اور دل جلے۔۔۔

(سوشل میڈیا سے انتخاب۔۔)
100 دنوں میں حکومت کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ’’ ایسی‘‘ حکومت بھی 100 دن پورے کرگئی ،اسی لیئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ”مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ”
بات 50 لاکھ گھروں سے شروع ہوئی تھی 100 دن میں ”خیموں” اور ”ٹینٹوں” تک پہنچ گئی۔ ان تین ماہ میں حکومت نے کتنے ’’ چن ‘‘ چڑھائے اور کتنے اتارے ہیں نہ وہ’’ دور بین‘‘ سے دکھائی دے رہے ہیں نہ ڈھونڈے سے مل رہے ہیں ۔
اپوزیشن کا دعوی ہے کہ خان صاحب 100 دن پہلے بھی کنٹینر پر تھے اور 100 دن بعد بھی کنٹینر پر ہیں بلکہ پوری حکومت کنٹینر پر کھڑی ہے۔
جواب آں غزل کے طور پر یہ کہا جا رہا ہے ۔100 دن گننے کا بہت شکریہ، اب مزید 1725 دن گننے شروع کر دیں۔دونوں طرف سے کئی ’’دل جلوں ‘‘نے حکومت کے 100 دن پورے ہونے پر کچھ یوں تبصرے کیئے ہیں کہ
پیدل چلتے ہوئے سر پر ہیلمٹ پہن لیں 100 دن مکمل ہو چکے ہیں، کہیں ایک کروڑ نوکریوں کی بارش آپ کا سر نہ پھاڑ دے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ایک اور دل جلے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ گھر سے باہر نکلتے وقت احتیاط کریں کہیں دودھ اور شہد کی نہروں میں نہ گر جائیں۔
اس کے جواب میں کہا گیاکہ پٹواریوں کی قسمت میں ہی ذلیل ہونا لکھا ہے پہلے کرسیاں گنتے تھے اور اب دن گن رہے ہیں ۔
اپوزیشن کا دعوی ہے کہ خان صاحب نے100 دن میں 100 ”یوٹرن” لے کر ریکارڈ تو ڑ دیا ہے 100 دنوں میں نہ کوئی نیا منصوبہ شروع ہوا بلکہ پرانے منصوبوں پر بھی کام روک دیا گیا۔افراط زر میں اضافہ ،مہنگائی معیشت کی بد حالی، زرمبادلہ کے زخائر میں کمی،دہشت گردی میں اضافہ ہوا، تبدیلی کے دعوے ،جنوبی پنجاب صوبہ، فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام، بلوچستان کے ساتھ ری کنسی ایلیشن ،کراچی کے لیے ترقیاتی پیکیج کے وعدے تو پورے نہ ہوسکے لیکن جو کام نہ کرنے کے وعدے کیے تھے البتہ وہ پوری دلجمعی سے کئے گئے۔
”پروٹوکول” نہ لینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، آج بھی عوام حکمرانوں کی گاڑیوں کو گزرتا دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں ۔پیٹرول 40 روپے کرنے کا دعوی تھا تو اب وہ 100 کے ہندسے کے قریب پہنچ چکا ہے
بڑی بڑی سرکاری رہاشی عمارتوں کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں آرام گاہوں میں بدل دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے پہلے’’ رجوع‘‘ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اب ’’حالت رکوع‘‘ میں جا چکے ہیں ۔تین ماہ میں افراط زر 5.8 سے 6.8 فیصد جی ڈی پی 5.9 سے 4 فیصد ڈالر 124 سے 134 روپے پر نیٹ ریزرو 10.15 بلین ڈالر سے 7.29 بلین ڈالر پر پہنچ چکے ہیں ۔ریاست مدینہ کی مثال ’’قصہ پارینہ‘‘ ہو چکی۔
عمر دراز مانگ کر لائے تھے 100 دن…….. 50 الزام لگانے میں کٹ گئے اور 50 مانگنے میں۔۔
100 دن میں حکومت کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن حکومت کے کام اور کارکردگی کے بارے میں رائے تو قائم کی
جاسکتی ہے ۔
یہ بھی درست ہے کہ اگر ”نظام ”بگڑا ہوا ہو تو اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے لیکن یہ تو پتہ ہونا چاہیے کہ ٹھیک کیسے کرنا ہے جبکہ حکومت کے حوالے سے ایک تاثر بہت تیزی سے قائم ہوا ہے کہ مسائل کا حل تو دور کی بات مسائل کا ’’ادارک‘‘ بھی نہیں ہے ۔ حکمران جماعت کے لوگوں کا موقف ہے کہ خان صاحب کے 100 دن کا حساب مانگنے والے پہلے سابقہ حکمرانوں سے 40 سالوں کا حساب مانگیں ۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے 100 دن کا ایجینڈہ خود عمران خان نے طے کیا تھا اور اسکے آخر پر ”یوٹرن” کا نشان لگا دیا ۔
حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر مبصرین کا اعتراض یہ ہے کہ حکومت اگروعدے پورے کر نہیں سکتی تو وعدے کیوں کیئے گئے ؟
سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان سیاستدان نہیں ہیں ؟جھوٹے وعدے، امیدیں ،دعوے تو ہر سیاستدان عوام سے کرتا رہا ہے اور اگر عمران خان نے کر لیے توکیا فرق پڑتا ہے؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے عمران خان کو غیر روایتی سیاستدان کے طور پر قبول کیا۔سچ تو یہ ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاست کا شکار ہو چکے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس حوالے سے’’ ایکسپوز‘‘ ہو چکے ہیں اور وہ باقی ماندہ حکومت بھی اگر وہ روایتی سیاستدان کی طرح چلائیں تو اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے ۔
حکومت کے خیر خواہ بڑی دور کی کو ڑی لاتے پائے گئے ہیں اور ان کا دعوی یہ ہے کہ خان صاحب کو اپنی ٹیم تبدیل کرنا پڑے گی ۔ہم نے تو سنا تھا کہ قوم کو جس رہبر کی تلاش ہے وہ رہبر مل گیا ہے اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انکی ٹیم اچھی نہیں۔
خان صاحب نے اپنی کتابوں میں خود کو’’ لیڈر‘‘ قرار دے رکھا ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لیے حال ہی میں خان صاحب نے یوٹرن ’’ٹرمنالوجی‘‘ کااستعمال کیا ہے بلکہ خان صاحب نے نپولین اور ہٹلر کو یو ٹرن نہ لینے پر بے و قوف قرار دے کر خود کو ان سے بھی بڑا لیڈر ثابت کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب کے پاس اچھی ٹیم بنانے کی صلاحیت ہی نہیں تو پھر وہ کس بات کے لیڈر ہیں ؟
خان صاحب کو عوام نے تو ’’وزیروں کی ٹیم‘‘ بنا کر نہیں دی انہوں نے اپنی ٹیم خود بنائی ہے ۔ جو ’’چھان بورا ‘‘تھا وہ تو انہوں نے استعمال کر لیا۔ اب گڈری میں اور کون سے لعل چھپے ہیں ؟ لیڈر وہ ہوتا ہے جو کوئلے کو بھی ہیرا کر دیتا ہے یہاں تو ہیرے بھی پتھروں میں تبدیل ہو رہے ہیں تو اصل میں قصور کس کا ہے ؟
حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں جو سب سے اہم کام ہوا ہے وہ اسٹیٹ کی رٹ چیلنج کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ کام عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔ خان صاحب کے اقتدار میں آنے سے پہلے انکے بارے میں یہ رائے موجود تھی کہ’’ سخت ‘‘فیصلوں کا بوجھ عمران خان پر ڈالا جائے گا ۔
تجاوزات کا خاتمہ ایک انتہائی مشکل کام تھا ۔سابقہ حکومتوں نے لوگوں کو روزگار میں فراہمی میں ناکامی کی وجہ سے تجاوزات کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے تجاوزات اور قبضوں میں اضافہ ہوا ۔عدالت کی مدد سے خان صاحب نے یہ کام بھی کر دکھایا۔
کرپشن کے خاتمہ اور احتساب پر بھی حکومت پوری طرح ’’یک سو ‘‘نظر آتی ہے۔
جبکہ حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف دکھائی دی نوازشریف دور میں کرتار پور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اب اس کا کریڈٹ بھی خان صاحب کو ہی جائے گا ۔
100 دنوں کا ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ خادم اعلی سے لے کر خادم رضوی تک۔۔ سب اندر ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں