364

سگریٹ نوشی فیشن سے کینسر تک ٹوبیکو ایکٹ ردی کی نظر

تحریر: محمد نعیم یوشا

جہاں پاکستان کو صحت کے شعبے میں بے شمار مسائل کا سامنا ہے تو وہیں سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے منہ کے کینسر سے بڑھتی اموات جیسے خطرے کا سامنا ہے جو کہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھ جاے گا. پاکستان میں سگریٹ نوشی پر قوانین تو بنائے گئے مگر عملدرآمد آج تک نہ ہو سکا. جنوبی پنجاب کے اضلاع اور حاصل پور میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اس پر سارے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں. ایک طرف تعلیمی ادارے تو دوسری طرف سرکاری ادارے جہاں پر دهڑ لے سے سگریٹ کے کش لگائے جارے ہیں. جبکہ پبلک مقامات اور سرکاری دفاتر میں اس کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں سگریٹ و تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا سب سے بڑا سبب بھی نوجوان طبقہ کو قرار دیا جارہا ہیں انسداد تمباکو نوشی کے لئے حکومت نے سگریٹ کے پیکٹ پر رنگین تصویری تنبیہی پیغامات بھی پرنٹ کروائے جس کی وجہ سے دنیا میں ایسا کرنے والا پاکستان 23واں ملک بنا مگر اس کے لیے قوانین پر عملدرآمد کروانے والے ممالک میں ہمارا کوئی شمار نہیں. یہاں پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کو انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ بارہ سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہوئے شرح میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں. پاکستان کی دیہی خواتین اور شہری اشرافیہ کی نوجوان لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کی جانب راغب ہو رہی ہیں. آگاہی کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے سے وابستہ افراد کی ہے، جو مزید افراد کو سگریٹ نوش بنانے کا بھی ذریعہ بن رہے ہیں. جب کہ ان سارے مسائل پر متعلقہ ادارے اور اسسٹنٹ کمشنر آفس خود بھنگ کے نشے میں محسوس ہوتے ہیں. ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ اس پر توجہ مرکوز کی جاتی مگر اس کے لیے وقت کون نکالے. ہم ایک بھی ایسا سموک فری پوائنٹ بنا کر دوسروں کے لیے مثال بن سکتے تھے مگر اس کے لیے محنت اور لگن کی ضرورت ہے جو کہ گئے وقتوں کی بات ہوئی. پابندی کے باوجود امپورٹڈ سگریٹ کی فروخت جاری ہے. جس پر ایکسائز. پان چھالیہ پر جعلی چھاپے مارتی بہاولپور فوڈ ٹیم اور آخر میں کچھ اشخاص کی شہ پر ٹارگٹ کرتی لوکل ایڈمنسٹریشن جو کہ 5 روپے زائد پر مخصوص دکانات کو جرمانہ تو کرتی ہیں مگر آج تک کسی بھی ممنوعہ چیز کی فروخت کو روکنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے.

جبکہ دوسری طرف سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ سے پاکستان میں ہزاروں بچے مردہ پیدا ہو رہے ہیں ( یہاں پر سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ سے مراد سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے جسم میں جانے والا دیگر افراد کا اُگلا گیا سگریٹ کا دھواں ہے). پاکستان میں حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح بہت کم ہے لیکن گھروں میں شوہر اور دیگر افراد کی تمباکو نوشی کے دوران اُگلا گیا دھواں انہیں شدید متاثر کرکے ان کے بچوں کی جان لے رہا ہے۔ یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی گھروں میں تمباکو نوشی ( سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ) کا دھواں سالانہ 17000 بچوں کی مردہ پیدائش کی وجہ بن رہا ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی نہ کرنے والی حاملہ خواتین کے جسم میں جانے والا ( دیگر افراد کا اُگلا گیا ) سگریٹ کا دھواں، بچوں کو شدید متاثر کرکے بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں یا پیدائشی عمل کے دوران ہلاک کر رہا ہے۔

یونیورسٹی آف یارک کے ماہرین نے حال ہی میں طبّی تحقیقی جریدے ’’بی ایم جے ٹوبیکو کنٹرول‘‘ میں ایک سروے پیش کیا ہے۔ سروے میں شامل ماہرین کی ٹیم نے 30 ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور گھرانوں سے مختلف سوالات کرکے نتائج مرتب کئے . اگر خواتین دورانِ حمل سگریٹ نہ بھی پئیں تب بھی سگریٹ کا دھواں ان کے اور ان کے بچے کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ زہریلے دھوئیں کی مسلسل موجودگی سے کم وزن بچے جنم لیتے ہیں، مردہ ہوتے ہیں یا پھر ان میں کوئی پیدائشی نقص واقع ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں سیکنڈ ہینڈ اسموک سے متعلق ڈیٹا کی کمی تھی اور اسی لئے اپنی نوعیت کا یہ پہلا سروے کیا گیا ہے۔ سروے میں مصر، آرمینیا، پاکستان، نیپال، موزمبیق، گیبون، نائجیریا، روانڈا، مالی اور اردن وغیرہ شامل تھے۔

پانچ سالہ سروے میں 37,427 حاملہ خواتین سے سوالنامے بھروائے گئے جو ان کے بچوں کی پیدائش کی کیفیت اور گھر میں شوہر کے سگریٹ پینے کے متعلق تھے۔ سب سے کم شرح کانگو میں دیکھی گئی جو 17 فیصد تھی جبکہ پاکستانی گھروں میں خواتین میں سیکنڈ ہینڈ اسموک کا سامنا کرنے کی شرح 91.6 فیصد نوٹ کی گئی۔ اس طرح جب ڈیٹا سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں یہ شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور سالانہ صرف سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کی وجہ سے یہاں 17000 بچے مردہ پیدا ہورہے ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کامران صدیقی یارک یونیورسٹی کے شعبہ صحت سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں 40 فیصد خواتین کو سگریٹ کے دھویں کا سامنا ہے۔ سروے کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ مرد اپنے گھر میں حاملہ خواتین کو سگریٹ کے دھوئیں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں تو اس خوفناک کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے. ان تمام مسائل اور بڑھتے مرض، غیر قانونی فروخت، پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی اور قوانین پر عملدرآمد اور علاج و معالجہ پر آگاہی کے لیے میڈیا کے دوستوں، مستند ڈاکٹرز، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تعلیمی اداروں کے مالکان خاص کر آر پی او بہاولپور، ڈی پی او بہاولپور، سول ایڈمنسٹریشن کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اس مسئلے پر خاموشی لوکل ایڈمنسٹریشن کو آگے آنا ہوگا تاکہ اس اہم مسئلے پر آگاہی پیدا کرکے اس لعنت پر پاکستان اور بہاولپور کے گردونواح میں قابو پایا جا سکے. کیونکہ صحت مند معاشرے ہی ملک کی ترقی میں سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں