359

سپریم کورٹ کا فیصلہ یا آسمانی وحی؟

تحریر : پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ. بہاولنگر

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ مسیح کیس کا فیصلے کیا ہے. جس کے بعد سے کچھ سیکولر طبقات کے سوا پوری قوم اپنے بھرپور احتجاج اور دھرنون کے ذریعے ہر فورم پر سراپا احتجاج اور غم ناموس رسالت کےلئے سڑکوں پر ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے ملک کے سیکولر طبقات اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر اس فیصلہ کی قانونی صداقت، جسٹس صاحبان کی قابلیت اور اس کو آئین پاکستان کی روح کے عین مطابق اور شریعت محمدی کے ساتھ سپریم ثابت کرنے اور اس کی لیگل اتھارٹی کو تسلیم کرنے کا سیاسی بھاشن دے ر ہے ہیں. آئیے دیکھتے ہیں کہ حکومت اور جو سیاسی لوگ یہ راگ الاپ رہے ہیں ، وہ خود اس سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کو کس حد تک تسلیم کرتے رہے ہیں۔ فی الحال ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رویہ کو جانچ لیتے ہیں.

1) پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور بانی ذوالفقار علی بھٹو کو قصوری کیس میں اسی آنریبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت دی جسے آج تک پیپلزپارٹی اور اس کے قائدین بلاول زرداری بھٹو تک نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کی عدالتوں کو سرعام کنگرو کورٹس کہتے ہیں.

2) ملک کے تین بار رہنے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کے متعلق سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا تو انہوں نے سپریم کورٹ پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ انہوں نے معہ اپنی جماعت اسے تسلیم نہیں کیا.

3) 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دھاندلی نہیں ہوئی تو ہردلعزیز عوامی لیڈر اور موجودہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے معہ اپنی جماعت کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا.

حیرت ہے کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کیس کی مجرمہ کو سپریم کورٹ نے بری کردیا ہے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اعلانیہ فرما تے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے معاملے میں ایک پیج پر ہیں. تو باقی ساری کی ساری قوم بھی اس فیصلے پر ایمان لے آئے. ان مفاد پرست لوگوں اور حکومت کے حریص لیڈروں کو استنجے کے مسائل تک کا تو علم نہیں ہے. نیز یہ لوگ روزانہ اسمبلیوں اور حکومتی و سیاسی میٹنگز میں تلاوت کرتے ہوئے تماشہ بنتے رہتے ہیں اور چلے ہیںایک اسلامی نظریاتی ایٹمی طاقت کی راہبری کرنے!!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس میں کمی یا ان کی شان میں گستاخی کرنے کی ایک ہی سزا ہے اور مسلمان قوم کو اس کے سوا کچھ قبول بھی نہیں ہے خواہ کتنی ہی اعلٰی سپریم کورٹ اور کتنے ہی معزز ترین جسٹس کیوں نہ ہوں۔اور ایسی سزا کا اطلاق سب سے پہلے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے حیات النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ایک منکر رسول کو قتل کرکے کیا جسے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حق قرار دیا چنانچہ سب کا اس بات پر اتفاق واجتہاد ہے کہ:

*گستاخ نبی کی ایک سزا*
*سر تن سے جدا، سر تن سے جدا*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں