351

راہ محبت…قسط سوم…..(افسانہ از ایشاء گل)

تحریر: ایشاءگل
قسط سوم

سابقہ قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بابا جان جلدی سے ہزار روپے نکالیں مجھے دیر ہو رہی ہے۔
ناہید نے جلدی جلدی میں ناشتہ کیا اور اب امان کے سر پر کھڑی ہو کر پیسے مانگ رہی تھی۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی ناہید تم جو خود پیسے کماتی ہو وہ کدھر اڑاتی ہو۔
ثمینہ بیگم اس کے بچپنے اور جلد بازیوں سے تنگ آئی ہوئی تھیں۔ارے بیگم کیوں ہر وقت میری بچی کو ٹوکتی رہتی ہو یہی تو دن ہے اس کے کھیلنے کودنے کے مستیاں کرنے کے۔
( کھیلنے کودنے پر ثمینہ نے اپنا سر پیٹ لیا ) اب اتنا بھی بچپنا نہیں ہے اسکا خیر سے تئیسویں سال میں لگ چکی ہے آپ کی صاحب زادی۔
ارے امی جان اب بس بھی کر دیں نا اور بابا جان آپ تو پیسے نکالیں مجھے دیر نہیں بلکہ بہت دیر ہو رہی ہے۔
ناہید ان کی توجہ پانے کے لئے ذرا اونچی بولی تو امان نے فوراً سے پہلے ہزار کا نوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
بدلے میں ناہید ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر ( آپ بہت اچھے ہیں بابا آئی لو یو سو مچ ) ان سے اپنی محبت کا اظہار کرنے لگی جو وہ اکثر کیا کرتی تھی۔
اور بگاڑیں اس چہیتی کو۔
سمینہ نے کہا تو ناہید نے بابا کو چھوڑ کر امی حضور کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور ان کا گال چومتی ہوئی باہر بھاگ گئی۔
اس دفعہ ثمینہ اسے کچھ کہنے کی بجاۓ مسکرانے لگیں۔
امان کی وہ بہت چہیتی تھی اور ثمینہ اسے کتنا بھی ڈانٹ کیوں نا لیتیں سچ تو یہ تھا کہ گھر کی رونق اسی سے تھی۔

معیز لان میں بیٹھے بچوں کو (abc) پڑھا رہا تھا۔
آج موسم بہت خوشگوار تھا اس لئے تمام بچے لان میں موجود تھے۔۔۔ارے انکل ہمیں ہمارا سبق پڑھائیں یہ abc تو ہمیں بچپن سے آتی ہے(بچپن تو ایسے کہہ رہا تھا جیسے ابھی اسکا بڑھاپا چل رہا ہو)
ایک بچے نے ہانک لگائی۔۔۔
یہ انکل کس کو بولا۔۔۔
معیز کو بھی انکل کے نام پر ویسے ہی کرنٹ لگی جیسی ناہید کو باجی کے نام پر لگ جایا کرتی تھی۔۔۔
ارے انکل آپ ہی کو تو کہا۔۔۔
وہی بچہ پھر سے بولا۔۔۔۔
کوئی انکل ونکل نہیں ہوں میں تمہارا بھائی یا سر بول سکتے ہو ویسے سر زیادہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔
کس کا سر ٹھیک رہے گا۔۔۔؟؟
ناہید نے اس کے ساتھ مگر کچھ فاصلے پر ( کہ کہیں کسی بات پر ہوش سے بیگانہ ہو کر وہ اسکا گلا ہی نا دبا ڈالے) بیٹھتے ہوئے کہا۔ معیز ناہید کی خالہ کا بیٹا تھا اس سے دو سال بڑا اور اکلوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تب ہی سب گھر والوں کے ساتھ ساتھ یہاں والوں کا بھی لاڈلا تھا سواۓ ایک ناہید کے۔۔۔
کیوں کہ ناہید کا کوئی لاڈلا نہیں بن سکتا تھا۔
(یا سچ بات یہ تھی کہ اسکا لاڈلا بننے کا کسی کو شوق بھی نا تھا) کسی کا نہیں تم یہ بتاؤ کہ غالباً اس وقت تو تم گھوڑے گدھے اور ہاتھی سب بیچ کر سوئی ہوتی ہو اور پھر تمہیں ہوش کر خرگوش کہہ کر اٹھانا پڑتا تھا مگر آج ادھر کیسے۔۔۔۔
ناہید نے کوئی جواب نا دیا اور چپ کر کے بچوں کو دیکھنے لگی۔ معیز کچھ حیران سا ہوا کچھ دنوں سے وہ اس سے لڑ نہیں رہی تھی معیز کوئی بات کرتا بھی تو نظر انداز کر دیتی۔
ابھی بھی وہ اس سے کسی کرارے جواب کی توقع لیے بیٹھا تھا مگر سامنے سے جواب ملا ہی نہیں۔۔۔
معیز نے ناہید کے چہرے کی طرف دیکھا وہ بہت خوش اور پرسکون لگ رہی تھی۔۔۔
اس کی یہ خوشی (جو کہ نجانے کس بات پر تھی) اور سکون معیز کو بہت بھلا سا لگ رہا تھا وہ ایک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔
ناہید کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے معیز کو دیکھ کر فریحہ جو کہ ابھی لان میں آئی تھی مسکراتی ہوئی جان بوجھ کر زور سے بولی۔۔۔
بچو سبق یاد ہوگیا سب کو۔۔۔
معیز ایک دم چونکا۔۔۔
اور پھر فریحہ کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنا سر کھجانے لگا۔۔۔
معیز صاحب ذرا دھیان سے اگر آپ کی نظروں کی گڑبڑی کا ان محترمہ کو احساس ہوا تو وہ آپ کے سر پر ایک بھی بال نہیں چھوڑے گی۔۔۔
فریحہ نے معیز کے کان میں سرگوشی سی کی جس پر ناہید نے سر اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا مگر اس کی نظروں سے صاف واضع تھا کہ اس سرگوشی کا ایک بھی لفظ اس کے پلے نہیں پڑا کیوں کہ وہ کسی اور کے ہی خیالوں میں ہی کھوئی ہوئی تھی۔
جس پر دونوں نے شکر کیا اور بچوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔ناہید نے اس بار اس گول گپے سے چاکلیٹ نہیں جھپٹی بلکہ اسے بلا کر ایک پیاری سی جھپی اور کس کی جس پر وہ بچہ تو بچہ باقی بچے اور بڑے دو بچے (فریحہ، معیز) تک حیران ہو گئے۔۔۔
یہی نہیں بلکہ وہ محترمہ خود بھی حیران ہو گئیں کہ یہ اسے اچانک کیا ہوگیا لگتا تھا ریان صاحب کی باتوں کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوگیا تھا۔۔۔۔

آج ناہید پہلی بار خوب دل لگا کر تیار ہوئی تھی۔
مہندی کلر کی پیروں تک آتی فراک کے ساتھ سفید چوری دار پاجامہ اور دوپٹہ پیروں میں ہم رنگ سینڈل گلے میں نازک سی چین کانوں میں ٹاپس پہنے ہونٹوں پر نیچرل پنک لپ سٹک لگاۓ اور آنکھوں میں کاجل بھرے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی۔
بالوں کا جوڑا کیے ہوئے تھی مگر پھر ہاتھ بڑھا کر اس نے ہیئر کلپ کھول دیا جس سے اس کے سیاہ بال اس کے کندھوں پر لہرا گئے۔ آج یشل اپنے والدین سمیت اس کی طرف آ رہی تھی۔۔۔
کیوں (کیا وجہ بتانے کی ضرورت ہے )۔۔۔۔
ناہید بے صبری سے ان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی فریحہ کو اس نے صرف اتنا بتایا تھا کہ یشل ویسے ہی اپنی پیرنٹس کے ساتھ آ رہی ہے۔۔۔
یشل تو آتی رہتی تھی مگر اس کے پرنٹس پہلی دفعہ آ رہے ہیں یہ کہہ کے اس نے فریحہ سے کھانے میں اچھا خاصا انتظام کروا لیا۔ بچوں کو وہ اسکول میں ہی چھٹی کی خوش خبری سنا چکی تھی۔ ثمینہ کو آج بازار کا چکر لگانا تھا مگر ناہید نے انہیں بھی کل چلی جائیے گا کہہ کر روک لیا۔
خیر تو ہے آج بڑی خوش لگ رہی ہو یشل کے ساتھ مل کر کہیں جانے کا پلان ہے کیا۔
فریحہ نے اس کی مسلسل ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
( ہاں ہمیشہ کے لئے یشل کے گھر شفٹ ہونے کا پلان ہے) ارے نہیں کہیں جانے کا پلان نہیں ہے تم یہ بتاؤ بریانی بن گئی۔۔۔
ناہید بات بدل گئی۔
ہاں بن گئی نکالوں تمہارے لئے۔۔۔
فریحہ نے پلیٹ پکڑی اور بریانی ڈالنے لگی بغیر ناہید کے جواب کا انتظار کے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسکا جواب کیا ہوگا۔۔۔۔
مگر اسے حیرت کا جھٹکا تب لگا جب ناہید نے کہا نہیں ابھی رہنے دو میں سب کے ساتھ ہی کھاؤں گی (سب مطلب یشل کی فیملی)۔۔۔۔ارے مطلب بریانی کو نا۔۔۔۔۔
حیران تو ہونا بنتا ہی تھا ناں۔۔۔۔
فریحہ کچھ دیر اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی ایسے جیسے کچھ کھوج رہی ہو۔۔۔
ناہید اس کی نظروں سے گھبرا کر لان میں چلی آئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ فریحہ پر کچھ ظاہر ہو۔۔۔
وہ چاہتی تو اسے بتا سکتی تھی کہ وہ لوگ کیوں آ رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ فریحہ کو لگے کہ اسکی شادی سے پہلے ناہید میڈم کو اپنی شادی کی پڑ گئی۔۔۔
وہ چاہتی تھی کہ فریحہ کو یہ لگے کہ اس بارے میں اسے بھی کچھ معلوم نہیں اور نا ہی اس نے ان لوگوں کو بلایا۔۔۔
تا کہ اسے دکھ نا ہو کہ اس کا رشتہ ہو نہیں رہا اور ناہید اپنا رشتہ کروانے بیٹھ گئی ہے۔۔۔
ناہید کو فریحہ کا احساس تو تھا ہی آخر اس کی بہن جو تھی۔
اس نے ریان کو بہت منع بھی کیا کہ اپنے پیرنٹس کو تب تک نا بھیجے جب تک اس کی بہن کا رشتہ نہیں ہو جاتا لیکن اس دفعہ ریان نے اسکی سنے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔۔۔۔

اور پھر وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نا تھا یہاں تک کہ ناہید کے بھی۔۔۔۔۔
ناہید کو لگا اس نے کچھ غلط سن لیا ہے نہیں بلکہ بہت غلط۔
ہوا یہ کہ وہ لوگ ناہید کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھنے کی بجاۓ فریحہ کو بہو تسلیم کر کے چلے گئے۔۔۔۔
اور جاتے جاتے یشل ایسے تھی کہ جیسے بے جان جسم۔۔۔۔
ایک ایک قدم اٹھانا اس کے لئے بہت بھاری پڑ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ہونکوں کی طرح اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھے گئی کہ یہ انہوں نے کیا کیا۔۔۔۔
بھائی کو پتا لگا تو کیا ہوگا اور ناہید۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں ناہید کا چہرہ گھوم گیا اسے ایسا لگا جیسے ناہید ابھی رو دے گی۔۔۔۔
اور ہوا بھی ایسا ہی ناہید ان کے جاتے ہی اپنے کمرے میں بھاگ گئی اور اپنا کمرہ لاک کر کے کسی چھوٹے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔
اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ ریان کے پیرنٹس اس کی بجاۓ اس کی بہن کو پسند کر گئے تھے۔
اسے ہر چیز کے لئے ریان پر غصہ آ رہا تھا۔
یقیناً اس نے اپنے پیرنٹس کو سہی طرح بتایا نہیں ہوگا جو انھیں غلطی لگ گئی۔۔۔
مگر نہیں یشل بھی تو ساتھ تھی نا وہ تو کہہ سکتی تھی نا کہ فریحہ نہیں ناہید کے لئے آئے ہیں ہم۔۔۔
مگر یشل بے چاری بھی کیا کرتی اس نے شمسہ کا بازو ہلا ہلا کر انہیں بتانے کی کوشش کی کہ ماما یہ آپ کیا کر رہی ہیں ہم تو ناہید کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں ناں پھر آپ فری آپی کی بات کیوں کر رہی ہیں۔۔۔
مگر نہیں جی یشل کی بات سننا ان کے لئے اس وقت واجب ہی نا تھا۔۔۔
وہ تو بس فریحہ کی سادگی کو دیکھ کر واری واری جا رہی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں مگر فریحہ جیسی بہو انھیں کہاں مل سکتی تھی۔۔۔
ناہید جیسی تو ہزاروں مل سکتی تھیں مگر یہی بات کوئی ریان سے تو پوچھتا کہ اسے ناہید جیسی کوئی مل سکتی تھی یا نہیں۔
یقیناً نہیں۔۔۔۔
ناہید کا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے اور اپنے رونے میں اسے ایک پل کے لئے بھی خیال نہیں آیا کہ اس کے گھر والوں خاص کر فریحہ کے چہرے پر کس قدر خوشی سمٹ آئی ہے اگر وہ دیکھ لیتی تو جلنے کی بجاۓ اپنا رونا دھونا بند کر کے ان کے ساتھ شامل ہو جاتی۔۔۔۔۔

ماما یہ آپ نے کیا کیا ناہید کی بجاۓ اسکی بہن سے میرا رشتہ پکا کر آئے۔
یشل کی زبانی جب ریان کو معلوم ہوا تو وہ بھڑک ہی اٹھا۔
امی آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں آپ کو جب معلوم بھی ہے کہ میں ناہید کو پسند کرتا ہوں پھر بھی۔۔۔۔۔
دکھ کے مارے ریان سے مزید بولا ہی نا گیا۔
بیٹا میں جانتی ہوں لیکن فریحہ بہت اچھی لڑکی ہے میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ناہید بری ہے مگر فریحہ جیسی لڑکی اگر کوئی چراغ لے کر بھی ڈھونڈے تو تب بھی نا ملے۔۔۔
( وہی پرانا گھسا پیٹا ڈائلوگ)
مجھے ڈھونڈنی بھی نہیں تھی ایسی لڑکی ماما مجھے تو بس ناہید چاہیے تھی۔۔۔
آپ نے یہ اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔۔۔
ریان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اسکی ماں اس کے ساتھ دھوکہ بھی کر سکتی ہے۔۔۔
میرے بچے میرے ریان میں نے کچھ غلط نہیں کیا ابھی تو تمہیں میرا یہ فیصلہ غلط لگ رہا ہے مگر جلد ہی تمہیں احساس ہوگا کہ میں نے تمہارے لئے بہتر انتخاب کیا ہے۔
شمسہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
مجھے نہیں جاننا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا آپ میری ماں ہیں یا دشمن میرے جذبات کا آپ کو بلکل بھی احساس نہیں کیا۔
مجھے احساس ہے بیٹا مگر۔۔۔۔
مت کہیں مجھے بیٹا۔۔۔
ریان نے انہیں ٹوکا اور پیر پٹکتا غصے سے کمرے سے نکلنے لگا۔
نکلتے نکلتے ایک شکوہ بھری نگاہ دروازے پر کھڑی یشل پر ڈالی ( جو کہ خود اسکی حالت دیکھ کر رو دینے کو تھی ) اور چلا گیا۔ اور ایسی ہی شکوہ بھری نگاہ یشل نے بھی اپنی ماں پر ڈالی اور خود بھی اپنے بھائی کے پیچھے نکل گئی۔

ثمینہ اور امان بہت ہی خوش تھے یشل کی فیملی انہیں بہت ہی اچھی لگی تھی۔
سب سے اچھی بات تو یہ تھی کہ وہ فریحہ کو دیکھتے ہی دل و جان سے اسے اپنی بہو بنانے کو تیار ہو گئے۔
فریحہ بھی بہت خوش تھی اس لئے نہیں کہ اس کا رشتہ ہوگیا تھا اس لئے کہ اپنے ماں باپ کے چہرے پر جیسی خوشی وہ اب دیکھ رہی تھی ایسے پہلے نا دیکھی تھی۔
ان کی بات بات سے خوشی جھلک رہی تھی اور خدا کا بار بار شکر ادا کیا جا رہا تھا۔
فریحہ کچھ سوچتے ہوئے مسکرائی اور ناہید کے کمرے کی طرف جانے کے لئے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
اسے ناہید سے کچھ پوچھنا تھا۔

مسلسل رونے کے بعد اب وہ دھیرے سے اپنی آنکھوں کو دبا رہی تھی جو کہ رونے کی وجہ سے دکھ رہی تھیں۔
اپنی ساری زندگی میں وہ کبھی اتنا نہیں روئی تھی جتنا آج وہ روئی تھی بلکہ آج تو آنکھوں سے پورا کا پورا سیلاب بہہ نکلا تھا۔اور وہ چاہتی تھی کہ اس سیلاب سے اس کی جتنی تباہی ہوئی ہے اسکی خبر کسی کو بھی نا ہو۔
ورنہ ناہید ایسی تو نا تھی کہ چپ رہتی وہ تو ایسی تھی کہ چیخ چیخ کر بتاتی کہ آج کیا ہوا ہے میرے ساتھ۔۔۔
میں نے جس سے محبت کی وہ میرا نصیب بننے کی بجاۓ کسی اور کا نصیب بننے جا رہا ہے اور وہ کسی کوئی اور نہیں بلکہ میری اپنی ہی بہن ہے میرے بدلے میں اسے پسند کر لیا گیا ہے۔
یعنی ناہید جیسی حسین لڑکی کے ہوتے ہوئے (یقیناً وہ حسن کا شاہکار ہی تو تھی) فریحہ جیسی عام سے شکل و صورت والی لڑکی کو پسند کر لیا گیا۔
یہ بات اس کے ماننے میں ہی نہیں آ رہی تھی مگر ایسا ہو چکا تھا۔
موبائل مسلسل بجے جا رہا تھا وہ جانتی تھی کہ کون اتنا بے چین ہو رہا ہے مگر اس وقت وہ غصے میں تھی اور ریان کی کسی بات کو سننے کے لئے تیار نا تھی۔
مگر پھر نجانے کیوں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے فون اٹھا ہی لیا۔۔۔
ہیلو ناہید۔۔۔۔ناہید۔۔۔کچھ بولو نا خاموش کیوں ہو۔۔۔۔
ناہید میری بات سنو یہ جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اچھا نہیں ہوا مگر میں کیا کروں اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ماما بابا ایسا کریں گے تو میں انھیں بھیجتا ہی نا میں ان سے دوبارہ بات کروں گا انھیں سمجھاوں گا کہ مجھے کوئی اور نہیں بلکہ تم چاہیے ہو۔
ہیلو ناہید تم سن رہی ہو نا۔۔۔۔
اس میں آپ کے پیرنٹس کا قصور نہیں ہے شائد میری بہن ہی ایسی ہے کہ اسے پانے کے لئے کوئی بھی ایسا کر سکتا ہے شائد واقعی میں وہ ایسی ہی ہے جسے پانے کی ہر کوئی خواہش کر سکتا ہے۔
وہ بہت اچھی ہے (ہاں شائد بہت اچھی) آپ اس کے ساتھ بہت خوش رہیں گے اس کے ساتھ کوئی بھی خوش رہ سکتا ہے کیوں کہ اسے سب کو خوش رکھنا آتا ہے۔
وہ بہت اچھی ہے بہت اچھی۔
ریان تم سن رہے ہو ناں وہ بہت اچھی ہے۔
( ہاں شائد ایک میں ہی بری ہوں)۔
ناہید اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی ہوئی بول رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ ایک اور دفعہ بولتی کہ فری بہت اچھی ہے ریان نے اس کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے فون بند کر دیا۔
جانتا تھا کہ ناہید پر کیا بیت رہی ہے ایسے میں اس سے بات نا کرنا ہی بہتر ہے۔
ناہید بند ہوئے موبائل کو خالی خالی نظروں سے گھورنے لگی۔
میں اسکی خوشیاں کیسے چھین سکتی ہوں میں ایک بہن ہو کہ اس کی دشمن نہیں بن سکتی میں اس سے اسکا نصیب نہیں چھین سکتی کیوں کہ وہ بہت اچھی ہے مجھ سے بھی اچھی۔
ناہید اپنے الفاظ پر چونکی “مجھ سے بھی اچھی” مگر میں تو اچھی ہوں ہی نہیں اگر میں اچھی ہوتی تو وہ مجھے پسند کرتے ریان میرا ہوتا۔۔۔۔۔میرا۔۔۔۔اور ایک بار پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہان کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

راہ محبت…قسط سوم…..(افسانہ از ایشاء گل)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں