354

راہ محبت…قسط دوم…..(افسانہ از ایشاء گل)

تحریر: ایشاءگل

قسط دوم

(قسط اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

فریحہ لاؤنج میں بیٹھی بچوں کو پڑھا رہی تھی۔
یہ بچے ناہید کے اسکول کے تھے جنہیں پڑھانے کی وہ بلکل بھی زحمت نہیں کرتی تھی۔
ناہید اسکول سے تھکی ہاری آتی تھی اور آتے ہی کچن میں گھس جاتی۔
ناہید کی تھکن کو زیر نظر رکھتے ہوئے اور کچھ فریحہ سارا دن گھر ہی ہوتی تھی اس لئے اس کے بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری بغیر ناہید کے کہے اس نے اپنے سر لے لی۔
بچے بھی اس پیاری سی باجی سے پڑھنے پر بے حد خوش ہوتے۔
ابھی بھی فریحہ بچوں کو پڑھا رہی تھی کہ ناہید نیند پوری کر کے نیچے آچکی تھی۔
آتے ہی اس نے سب سے پہلے گول گپا سے بچے کو اشارے سے اپنی طرف بلایا اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
جب وہ معصوم بچہ ننھے منے سے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا تو ناہید نے اس کے ہاتھوں سے وہ چاکلیٹ جھپٹ لی جو اس نے ناہید کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے اپنی کمر کے پیچھے کھسکا لی تھی۔ تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ یوں پڑھائی کے دوران منہ نا چلایا کرو ہر وقت کچھ نا کچھ کھاتے ہی رہتے ہو اب جاؤ اپنی جگہ پہ۔
اسے ڈانٹتے ہوئے ناہید نے وہ چاکلیٹ اپنے منہ میں ڈال لی۔
(ظاہر ہے اب ڈالنی ہی تھی اسی لئے تو حاصل کی تھی)
پر باجی وہ میری چاکلیٹ۔۔۔۔
وہ رونی صورت بناتے ہوئے منمنایا۔۔۔
کیا کہا باجی۔۔۔
کتنی دفعہ بولا ہے کہ مجھے یہ باجی واجی نا کہا کرو۔
ناہید اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی چیخ اٹھی۔
وہ گول گپا سا بچہ تو کچھ اور بھی سہم گیا۔
سوری وہ ٹیچر جی میری چاکلیٹ۔۔۔۔
ٹیچر بھی مت کہا کرو ٹیچر ہونگی میں اسکول میں یہاں صرف میں ناہید ہوں صرف ناہید سمجھ آئی۔
ناہید نے پھر اس کی پوری بات سننے سے پہلے ہی اسے سمجھانا (دانٹنا) شروع کر دیا۔
ناہید کیا ہوگیا ہے اب وہ تمہیں باجی بھی نا کہے ٹیچر بھی نا کہے تو اور کیا کہے اب یہ تمہیں تمہارے نام سے تو بلا نہیں سکتا بچہ ہے وہ۔
اب کی بار فریحہ بیچ میں بولی۔
ہاں تو آپی کہہ لے میں نے کب منع کیا ہے بس باجی نا کہے باجی بہت پینڈو سا ورڈ لگتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے میں کتنی کو بڑی ہوں سب سے۔۔
ناہید نے ناک چراتے ہوئے کہا اور (چھینی ہوئی) چاکلیٹ سے انصاف کرنے لگی۔
(یہ بھلا کہاں کا انصاف تھا کہ چاکلیٹ سے تو انصاف جبکہ بچے سے ناانصافی)
فریحہ افسوس سے اسے دیکھ کے رہ گئی اب بھلا کیا کہتی کیوں کہ ناہید تو چاکلیٹ کسی صورت واپس نہیں کرنے والی تھی چاہے اگلے دن گول گپا سا بچہ اپنی گول گپا سی اماں کو ہی کیوں نا لے آتا۔ ناہید کی اسی عادت کی وجہ سے باقی بچے اس کے سامنے کچھ کھانے پینے سے احتیاط کرتے (بلکہ توبہ کرتے )۔۔۔۔۔
چاکلیٹ کا آخری حصہ منہ میں لے جانے سے پہلے ناہید نے اسے جی بھر کر دیکھا اور پھر۔۔۔۔۔۔یہ کیا۔۔۔۔وہ چاکلیٹ ناہید کے منہ میں جانے کی بجاۓ کسی اور کے منہ میں چلی گئی اور وہ منہ یقیناً معیز کا تھا۔۔۔
ناہید نے خونخوار نظروں سے اس نمونے کی طرف دیکھا جو اس کے سامنے بلیک جینز وائٹ ٹی شرٹ براؤن گیلے اور بکھرے بالوں کے ساتھ کھڑا نمونہ تو کہیں سے نہیں لگ رہا تھا۔
لگ رہا تھا جیسے شاور لے کر سیدھا ادھر ہی آ ٹپکا ہو کیوں کہ گیلے براؤن بالوں سے پانی ابھی بھی ٹپک رہا تھا۔
فریحہ نے دل ہی دل میں اپنے اس ہینڈسم پلس سویٹ سے کزن کی ڈھیروں بلائیں لے ڈالیں۔
جبکہ ناہید نے دل ہی دل میں گالیاں۔۔۔
اب دیتی کیوں ناں اس کی چھینی گئی چاکلیٹ کا آخری حصہ وہ جو نگل گیا تھا۔
معیز کو معلوم تھا کہ اگر ناہید نے اسے منہ پہ کچھ نہیں کہا تو دل ہی دل میں بہت کچھ کہہ ڈالا ہوگا اور وہ بہت کچھ یقیناً بہت اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
ارے ڈیر کزن کہاں جا رہی ہو۔۔۔
معیز نے اسے چپ چاپ اٹھ کے جاتے دیکھا تو آواز دے بیٹھا۔
تمہارے لئے خودکشی کا سامان پیدا کرنے۔
ناہید نے وہیں سے ہانک لگائی۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ایسے نہیں مرنے والا۔۔۔۔
اچھا تو پھر کیسے مرنے والے ہو تم۔۔۔
ناہید نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے ایسے پوچھا جیسے وہ بتاۓ گا تو وہ فوراً سے پہلے اس کی یہ خواہش پوری کر دے گی کہ وہ کیسے مرنا چاہتا ہے۔۔۔
بلفرض اگر کوئی کہتا ہے کہ میری تم سے شادی ہونے والی ہے تو۔۔۔۔تو۔۔۔تو سمجھو کہ مجھے تو وہیں پہ ہارٹ اٹیک آگیا۔۔۔
اس کے لئے تمہیں کوئی سامان پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
معیز نے بائیں آنکھ دباتے ہوئے شرارت سے کہا۔
اس سے پہلے کہ ناہید کچھ اور بولتی وہ پھر جھٹ سے بولا۔ویسے بچی بچی سی لگ رہی ہو تم۔۔۔۔
معیز نے چاہا وہ جو بچوں کے باجی کہنے سے ناراض ہو جاتی ہے اسے بچی کہہ کے خوش کر دے۔۔۔
او ہیلو کوئی بچی وچی نہیں ہوں میں پوری بائیس سال کی اچھی خاصی سمجھدار لڑکی ہوں۔۔۔
ناہید نے پہلے غصے سے اور پھر آخر میں اتراتے ہوئے کہا اور مڑ گئی۔۔۔
تب ہی اسے اپنے پیچھے ایک جاندار قہقہ سنائی دیا۔
اسے پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت تو نہیں تھی مگر پھر بھی پلٹی اور اس کی ایک ہی گھوری سے معیز نے اپنے اس بے اختیار قہقے کی لگام کھینچی۔۔۔
اور فوراً منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے قہقے کو دوبارہ باہر آنے سے روکا۔۔۔ناہید کا خیال تھا کہ وہ چپ کر گیا ہے مگر اسے کیا معلوم کہ جس قہقے کو معیز نے لگام دی وہ بے لگام ہو کر اس کے دل میں گونج رہا تھا اور اس کا دل و دماغ ایک ہی لفظ پر اٹک کر رہ گیا تھا (اف سمجھدار لڑکی)۔۔۔
فریحہ معیز کی حالت سے بخوبی واقف تھی اس لئے وہ بھی اپنی ہنسی کو روک نا پائی۔
ہنسی اسے ناہید کے اندر موجود سمجھدار لڑکی پر نہیں بلکہ معیز کی حالت دیکھ کر آ رہی تھی جو بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹ کر کھڑا تھا۔۔۔
ناہید نے بس ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور پیر پٹختی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی۔۔۔

اسکول سے آخر وہ آج سیدھا کچن میں بھی نا گئی اور اپنے کمرے میں جا کر آرام فرمانے کی بجاۓ موبائل پکڑ کر ریان کو میسج کرنے لگی۔
کہاں مصروف ہیں آپ کل سے نا کوئی میسج کیا اور نا کوئی کال۔۔۔ناہید کا خیال تھا کہ ابھی بھی اسے انتظار ہی کرنا پڑے گا مگر اس کی توقع کے خلاف آج فوراً ہی رپلائے آگیا۔
معذرت چاہتا ہوں کل آفس کے کام میں بہت مصروف رہا اس لئے میسج تک نا کر سکا۔۔۔
تم بتاؤ کیسی ہو میں تو تمہارے میسجز اور کالز دیکھ کر ہی حیران رہ گیا کیا اتنی یاد آ رہی تھی میری۔۔۔
ریان نے شوخ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
جواب میں مسکراتے ہوئے ناہید کی انگلیاں موبائل پر مسلسل تیزی سے چلنے لگیں۔
فریحہ جو اس کے کمرے میں کسی کام سے آئی تھی اس کو سونے کی بجاۓ کسی کے ساتھ چیٹ پر مصروف دیکھ کر پوچھنے لگی۔
خیر تو ہے اتنا مسکرایا جا رہا ہے کس سے باتیں ہو رہی ہیں۔۔۔۔
ارے فری کسی سے نہیں یشل کے سوا کون ہو سکتا ہے۔۔۔
ناہید جواب دے کر پھر سے موبائل پر مصروف ہو گئی۔۔۔
فریحہ نے یہی سمجھ کر کہ ہاں جی یشل کے سوا اور کون ہو سکتا ہے سر ہلا گئی۔
اور اپنی مطلوبہ چیز اس کے کمرے سے لے کر سیڑھیاں اترتی اپنے کمرے میں جو کہ سڑھیوں کے بلکل ساتھ تھا چلی گئی۔۔۔
فریحہ کے لئے یہ حیرانی کی بات تھی کہ وہ ناہید جو آتے ہی بھوک بھوک کا شور مچاتی کچن میں گھس جاتی تھی اور پھر پوری فریج کھنگالتی تھی اب فریج کھنگالنا تو دور کی بات کچن کی طرف نظر اٹھاۓ بغیر اس کے پاس سے گزر جاتی تھی۔۔۔
اور پھر روز کی طرح رات گیارہ بجے سونے کی بجاۓ کتنی کتنی دیر جاگتی رہتی۔۔۔
ثبوت اس کے کمرے کی جلتی لائٹ جس کی روشنی نیچے فریحہ کے کمرے کے دروازے پر پڑتی تھی۔۔۔۔
مزید حیرانگی یہ کہ اب وہ رات کی باقی نیند اسکول سے آکر بھی پوری نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
بس ایک چیز جس پر فریحہ نے غور نہیں کیا تھا(حالانکہ یہ غور کرنے والی بات تھی) اور وہ تھا ناہید کا موبائل جو کہ اب چوبیس گھنٹے ناہید کے ہاتھ میں رہتا تھا۔

یشل کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی مگر ناہید کلاس سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
اف ناہید کی بچی اب آ بھی جاؤ۔۔۔۔
مسلسل انتظار کرنے پر بھی جب وہ کلاس سے باہر نا آئی تو تنگ آ کر یشل خود ہی اس کی کلاس میں آگئی۔۔۔
مگر یہ کیا دروازے پر قدم رکھتے ہی یشل کا دل چاہا کہ وہ بے اختیار اپنا سر پیٹ لے بلکہ نہیں نہیں کوئی بھاری سی چیز پکڑ کر ناہید کا سر ہی پھاڑ دے۔
کیوں کہ محترمہ ٹیبل پر پڑی بچوں کی نوٹ بکس میں سر دیے اردگرد سے بیگانہ مزے سے سو رہی تھیں۔
تمام بچے جا چکے تھے۔۔۔
یشل تیر کی سی تیزی سے اس کے پاس آئی اور انہی نوٹ بکس میں سے ایک بک اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔ناہید اپنا سر پکڑے سیدھی ہوئی۔۔۔
میں کب سے باہر کھڑی تمہارا انتظار کر رہی ہوں اور تم ہو کہ یہاں بیٹھی نیند کے مزے لے رہی ہو۔۔
ایک تو صبح اتنی لیٹ آئی تب بھی مجھے انتظار کروایا اب مجھے باہر انتظار کرنے کا کہہ کر خود آدھی فوت ہو چکی تھی تم۔۔۔
یشل اس پر غصہ کر رہی تھی جسے کسی کے غصے کی پرواہ نہیں تھی۔
اچھا مجھے تو پتا ہی نہیں چلا میں کب سو گئی مگر جو بھی تھا نیند بہت ہی مزے کی آئی ہوئی تھی۔۔
ناہید نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
ویسے یہ آج کل تمہیں اتنی نیند کیوں آرہی ہے رات کو سوتی نہیں کیا۔
یشل نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے شرارت سے کہا۔
ناہید اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے مسکرا دی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ تو طے تھا کہ آج چاہے ریان کتنے ہی میسجز اور کالز کیوں نا کر لے وہ بس جاتے ہی اپنی نیند پوری کرنے والی تھی۔
اور ہوا بھی ایسا ہی وہ جاتے ہی بیڈ پر گر گئی اور آواز لگائی میں سونے لگی ہوں اور جب تک میں خود نا اٹھوں مجھے اٹھایا نا جاۓ۔ مگر ہائے ری قسمت۔۔۔
جیسے ہی معیز کو معلوم ہوا اس کی طرف یہ علان ہوا ہے اس نے ناہید کے سونے کے ایک گھنٹہ تک کا انتظار کیا اور پھر اس کے کمرے میں گھس آیا۔
گہری نیند میں سوئی ناہید کو بیڈ پر بیٹھ کر دیکھنے لگا اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو اس کے کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے وہ یہ بھول ہی گیا کہ اصل میں وہ کمرے میں کس مقصد کے لئے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مگر پھر جلد ہی اسے اپنا مقصد یاد آگیا (مقصد ناہید بی بی کی نیند خراب (حرام) کرنا ) تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے میں بڑے بفر سے دھماکے کرنے لگا۔۔۔۔
love me like you do la la love me like you do…..واٹ are you waiting forrrrrrrrrrr……
گہری نیند میں ڈوبی ناہید ہڑبڑا کر ایک دم اٹھ بیٹھی پہلے تو اسے سمجھ نا آیا کہ یہ ہوا کیا مگر جب اس کی سمجھ میں آیا تو وہ اپنی سرخ آنکھوں سے اسے گھورتی بیڈ سے تقریباً اچھل کر کھڑی ہوئی اور چلائی۔۔۔۔معیز کے بچے۔۔۔۔۔
اور وہ معیز کا بچہ جو بڑے مزے سے اس کی نیند خراب ہوتے دیکھ رہا تھا اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ایک ہی جست میں کمرے سے غائب۔۔۔۔۔
ناہید نے اس کے پیچھے بھاگنے کو بیکار جانا اور ڈم ڈم بجتے گانے کو بند کرنے کی بجاۓ سیدھا بٹن ہی بند کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے اور پھر اچھی طرح اس کے بند ہونے کی تصدیق کر کے بیڈ پر آبیٹھی۔
اب نیند تو خراب ہو ہی چکی تھی اس لئے اس نے دوبارہ لیٹنے کی بجاۓ موبائل پکڑا جس پر ریان کے میسجز آئے ہوئے تھے پڑھے اور رپلائے کرنے لگی۔۔۔۔

تمہاری آواز سے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے تمہیں بہت نیند آ رہی ہے اگر تم سونا چاہتی ہو تو سو جاؤ۔ میں نے تو ایسے ہی کال کر لی۔
ریان نے اس کی نیند میں ڈوبی آواز سنتے ہوئے کہا۔
نیند تو اسے واقعی میں آ رہی تھی دوپہر میں معیز (منحوس مارا) نے اس کی نیند جو خراب کر دی تھی۔
اچھا سنو میں نے ماما پاپا سے بات کی ہے انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے وہ تم سے پہلے بھی مل چکے ہیں یشل کی دوست کے لحاظ سے تمہیں کافی جانتے ہیں یشل سارا دن تمہارا ذکر جو کرتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔
تو کیا خیال ہے ماما پاپا کو اس فرائڈے کو بھیج دوں۔
دیکھو اس بار اگر تم نے منع کیا بھی نا تو میں تمہاری ایک نہیں سننے والا میں انھیں بھیج رہا تو مطلب بھیج رہا ہوں۔
ریان نے پہلے اس سے پوچھا اور پھر اس کے جواب کا انتظار کے بغیر اپنا جواب سنا دیا بلکہ حکم سنا دیا۔
ناہید کہاں کسی کا کوئی حکم ماننے والی تھی مگر یہ حکم اسے دل و جان سے قبول تھا۔۔۔
ناہید نے مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا۔
ریان جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے اس لئے خود بھی موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر لیٹ گیا۔

یشل کی یہ دوست پہلی ہی نظر میں نہیں بلکہ دوسری ہی نظر میں ( اسے یاد آیا کہ پہلی نظر میں تو وہ اسے خونخوار ڈائن ہی لگی تھی ) اس کے دل کو بہت ہی اچھی لگی تھی۔
تمہاری یہ دوست کیا نام تھا اسکا ہاں ناہید بہت اچھی ہے ناں۔
میرا مطلب ہے کہ لڑتے ہوئے کتنی اچھی لگتی ہے۔
پہلی بار ریان نے یشل کی کسی دوست کی تعریف کی۔
بس پھر کیا تھا یشل نے اتنا سنتے ہی خوشی سے چیخ ماری اور بولی امی بھائی شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔
ریان نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولا خاموش لڑکی مرواؤ گی کیا۔
اور پھر کچھ ہی دیر میں یشل سے ناہید کے قصے ( جو کہ لڑائی جھگڑے کے ہی مطلق تھے) سنے اور اس کا نمبر حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگیا اور ناہید سے رابطے کی کوشش کرنے لگا مگر ناہید میڈم تو ہر دفعہ اس کے میسجز کو اگنور اور کالز کو فٹے منہ کہہ کر موبائل سائیڈ پہ رکھ دیتی۔
مگر آخر ایک دن محترمہ نے کال رسیو کر ہی لی اور پھر شروع ہوئی ان کے عجب پریم کی غضب کہانی۔۔۔۔
لیکن سچ تو یہ تھا کہ اس کہانی کے کرداروں کو ایک دوسرے کا ملن نصیب ہی نہیں تھا۔۔۔
ضروری نہیں کہ ہر کہانی میں دو محبت کرنے والوں کو ملوا دیا جاۓ کچھ کہانیاں اس کے بر عکس بھی ہوتی ہیں۔۔۔۔
یا سچ یہ ہے کہ ناہید اور ریان ایک دوسرے کے لئے بنے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔
وہ دونوں جس کے لئے بنے تھے انہی کے نصیب میں لکھ دیے گئے۔۔۔۔

فریحہ کا رشتہ دیکھنے کچھ لوگ آئے تھے اور یہ ہو سکتا تھا کہ اس کے اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر چلے جاتے۔۔۔
وہ لوگ کچھ دیر اس سے چند سوال کرتے بیٹھے رہے اور پھر خوشی خوشی وہاں سے رخصت ہو لئے۔۔۔
فریحہ ٹیبل پر سجی چیزوں کو سمیٹ کر کچن میں رکھنے لگی تو ناہید جو کہ اسکول سے ابھی آئی تھی آتے ہی ان چیزوں پر ٹوٹ پڑی۔۔۔
ارے میری بڑی بہنا انہیں کہاں لئے جا رہی ہو تمہیں میں دکھ نہیں رہی کیا یہ سب میں کھانے والی ہوں۔۔۔
قسم سے بہت بھوک لگی ہوئی ہے ایک تو اسکول کی کینٹین سے ٹھنڈے نان کٹلس اور گرم جوس کے علاوہ اور کچھ ملتا ہی نہیں۔۔۔فریحہ نے مسکراتے ہوئے تمام لوازمات واپس ٹیبل پر سجاۓ اور یہ کہتی ہوئی کہ یہ لو میری چھوٹی بہنا لو ٹھونسو۔۔۔
کچن میں چلی گئی اور سنک میں پڑے برتن دھونے لگی۔
ناہید نے شکر کیا کہ اس وقت معیز یہاں موجود نہیں ورنہ وہ اسے کچھ سکون سے کھانے دے ایسا ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔۔۔۔

اگلے دن ان لوگوں کا فون آگیا۔
ثمینہ اور امان کو پوری امید تھی کہ جواب ہاں میں ہی ہوگا۔
مگر ان کی یہ امید ایک دم سے ٹوٹ جاۓ گی یہ انہیں معلوم نہ تھا۔
ان لوگوں نے فون کر کے معذرت کر لی وجہ بتانے سے پرہیز کیا۔
ثمینہ نے رشتے والی آنٹی ( بقول ناہید کے پھپھے کٹنی ) کو بلا ڈالا اور اس رشتے سے انکار کی وجہ جاننی چاہی تو انہوں نے کہا کہ بہن گھر والے تو اپنی بچی سے مل کر بہت ہی خوش ہوئے ان کا جواب تو ہاں ہی تھا۔
مگر کیا کرتے وہ جب لڑکے ( نا معقول کہیں کا ) کو ہی انکار تھا۔
ارے بہن اس نے تو یونیورسٹی کے زمانے سے ہی کوئی لڑکی تاڑ رکھی تھی میرا مطلب ہے کہ دیکھ رکھی تھی اب گھر والوں کے ساتھ ضد میں ہے کہ شادی کروں گا تو اسی سے۔۔۔
گھر والے بھی بیچارے کیا کریں لڑکے کی مرضی کے بغیر شادی کریں گے تو اپنی بچی نا خوش ہی رہے گی ناں۔۔۔۔۔
بس ثمینہ کا پوچھنا تھا کہ آنٹی پھپھے کٹنی نے وہ تفصیل بتائی کہ ناہید اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اف یہ چپ کیوں نہیں کرتیں اب۔۔۔۔
ثمینہ تو بس دکھ سے سر ہلا کر رہ گئیں جبکہ فریحہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کی خاطر فوراً وہاں سے اٹھ گئی۔
مگر ایک ماں اپنی بیٹی کی اداس اور نم آنکھوں کو دیکھے بغیر بھی اس کے دل کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتی تھی۔
مگر فریحہ کی یہ غمگین کیفیت بس ایک دو دن کی ہی تھی۔
کیونکہ وہ صابر اور شاکر لڑکی تھی اس رشتے کے نا ہونے کو خدا کی کوئی مصلحت سمجھ کر جلد ہی بھلا گئی۔
(جاری ہے)

(قسط اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “راہ محبت…قسط دوم…..(افسانہ از ایشاء گل)

اپنا تبصرہ بھیجیں