363

راہ محبت…قسط اول…..(افسانہ از ایشاء گل)

تحریر: ایشاءگل

قسط اول

اسلام وعلیکم امی جان۔۔۔۔۔
ناہید نے آتے ہی سینڈل ایک طرف پھینکی بیگ صوفے پر اچھالا اور ساتھ خود بھی صوفے پر گر گئی۔۔۔
امی یہ لائٹ کب آئے گی اف کتنی گرمی ہے ناں آج تو۔۔۔
ناہید نے دوپٹے سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا اور ساتھ بتانا بھی مناسب سمجھا جیسے امی حضور کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ گرمی کتنی پڑ رہی ہے۔۔۔
پتا نہیں بیٹا لائٹ ایک دفعہ چلی جاۓ تو واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتی۔۔۔
اور آج تو لگتا ہے جیسے کھلی چھٹی پر گئی ہے پوری دنیا گھومے گی بس ایک ہمارے علاقے میں آتے ہی اسے موت پڑتی ہے۔ جنریٹر بھی خراب ہے آتے ہیں تمہارے ابا تو کہتی ہوں ان سے کہ کچھ کریں اس کا گرمی برداشت نہیں ہوتی اب تو۔۔۔
سمینہ نے ناہید کی طرف دیکھتے ہوئے آخر میں تھکے ہوئے لہجے میں کہا اور پھر خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔
کچھ دیر سکون کی سانس لینے کے بعد (جو کہ سکون کی سانس نہیں تھی ظاہر ہے گرمی میں کسے سکون کی سانس نصیب ہوتی ہے) وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور جا کچن میں گھسی۔
پوری فریج کھنگالنے سے پہلے دروازے سے ہی پانی کی بوتل نکالی اور پانی پینے کی ناکام کوشش کی کیونکہ ابھی ایک ہی گھونٹ بھرا تھا کہ بے اختیار منہ سے نکلا اف اتنا گرم پانی۔۔۔
وہ فریج میں موجود باقی چیزوں کا دیدار کرنے کی بجاۓ غصے سے پانی کی بوتل کاؤنٹر پر پٹختے ہوئے واپس لاؤنج میں آگئی اور پھر دھڑام سے صوفے میں گم ہو گئی۔
یہ لو ناہید ۔۔۔
فریحہ نے ٹھنڈے جوس کا گلاس ناہید کی طرف بڑھایا۔
جسے ناہید نے بغیر کسی تاخیر کے اوہ تھینکس کہتے ہوئے تھام لیا اور غٹا غٹ پی گئی۔
اب کچھ سکون ملا یہ کہتے ہوئے ناہید نے گلاس واپس فریحہ کو پکڑایا اور ٹک ٹک سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں آگئی۔
اور پھر وہی ناہید جو کب سے گرمی گرمی کر رہی تھی کچھ ہی دیر میں گہری نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔
فریحہ اس کا بیگ لئے کمرے میں آئی بیگ اس کی الماری میں رکھا۔لائٹ آچکی تھی پنکھے کا بٹن دباتی فریحہ نیچے آگئی اور دوپہر کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔

سمینہ اور امان کی دو ہی بیٹیاں تھیں بڑی فریحہ اور چھوٹی ناہید ۔۔۔
فریحہ ناہید سے تین سال بڑی تھی۔
وہ پچیس سال کی ہو چکی تھی اور اب سمینہ کو اس کی شادی کی فکر لگ گئی تھی۔
خاندان میں کوئی فریحہ کا ہم جوڑ نا تھا اور جو تھے انکی شادیاں تو کافی پہلے سے ہو چکی تھیں۔
فریحہ طبیعتاً نرم مزاج اور گھریلو لڑکی تھی۔
شکل و صورت واجبی سی جبکہ سیرت کی بہت اچھی( شہزادی ہی کہہ لیں) تھی۔
اس کی نسبت ناہید بہت حسین و مغرور اور من موہنی سی تھی۔ دکھنے میں معصوم سی جبکہ اندر سے پٹاخہ تھی۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے اور یہی نزاکت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔
یونیورسٹی کے زمانے میں بہت سی لڑکیاں اور خاندان کی بہت سی لڑکیاں اس کی خوبصورتی پر رشک کرتی تھیں اور کچھ کچھ حسد ۔۔۔
اور اس بات سے ناہید میڈم بخوبی واقف تھیں۔
مگر یہاں ان کے حسد کی پرواہ کس کو تھی۔
لڑکیوں کی آنکھوں میں آئے ناپسندیدگی کے تاثرات کو وہ بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوئے نظر انداز کر دیتی۔۔۔۔
(مطلب یہ کہ تم لوگوں کی ناپسندیدگی کی پرواہ کرتی ہے میری جوتی ہاں نہیں تو)
فریحہ اس جتنی خوبصورت نا سہی مگر اس کی خوبصورتی اس کا مزاج تھا۔
جو بھی اس سے ملتا اس کے خلوص سے متاثر ہوئے بغیر نا رہتا اور دوبارہ ملنے کی خواہش ضرور کرتا۔
جبکہ ناہید سے جو کوئی بھی ایک بار مل لیتا تو اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے الٹے پاؤں واپس ہو لیتا اور دوبارہ ملنے کی خواہش تو دور کی بات تھی۔
ناہید صرف اپنے پسند کے لوگوں سے ہی دوستی رکھتی ہر عیرے غیرے کو منہ لگانا تو یقیناً اس کے اصولوں کے خلاف تھا۔
فریحہ دو سال پہلے اپنی پڑھائی مکمل کر چکی تھی اور اب گھر کے کاموں میں ہی منہ دیے رہتی۔
خیر کاموں میں مصروف تو وہ پڑھائی کے دوران بھی رہتی تھی۔ ناہید ایم ایس سی کرنے کے بعد اب اسکول میں جاب کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ بقول ہر ایک کہ وہ ٹک کے ایک جگہ بیٹھ ہی نہیں سکتی تھی۔
جگہ کی تبدیلی ہر ایک گھنٹے بعد اس پر لازم تھی۔
ناہید بڑبولی تھی آسان الفاظ میں آپ منہ پھٹ کہ لیں۔
جو منہ میں آتا وہ اگلے بندے کے کانوں میں انڈیلنا اس پر فرض تھا۔

فریحہ آج بریانی بنانے کا کارنامہ سر انجام دے رہی تھی۔۔۔
کارنامہ اس لئے کیوں کہ جب بھی وہ بریانی بنانا شروع کرتی ناہید اس کے سر پر کھڑی ہو جاتی اور بار بار ایک ہی رٹ لگائے جاتی۔۔۔اوفو اب بتا بھی دو کب بنے گی۔۔۔
بدلے میں فریحہ ایک ہی جواب دیتی کیا ہوگیا ہے ناہید ابھی تو شروع کی ہے۔
اور جب بریانی اپنے اختتام کے آخری مراحل میں پہنچ جاتی تو فریحہ شکر ادا کرتی کہ بریانی سے نہیں بلکہ ناہید کے سوالوں سے جان چھوٹی۔
اور ایسے میں فریحہ کو ایسا ہی لگتا کہ اس نے بریانی بنا کر واقعی میں کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔
آج بھی فریحہ بریانی بنا رہی تھی۔وہ جانتی تھی کہ بریانی ناہید کی کمزوری ہے اور بریانی کی خوشبو سے ہی اس کا منہ ٹھیک ہو جاۓ گا جو وہ پچھلے دو گھنٹوں سے پھولائے بیٹھی تھی۔
اور یقین مانیے پھر ایسا ہی ہوا محترمہ جو اسکول سے واپسی پر رکشے والے سے فائٹ کی وجہ سے اپنا موڈ خراب کیے بیٹھی تھی بریانی کی خوشبو پاتے ہی کچن میں دوڑی چلی آئی۔
ارے واہ خوشبو تو بہت اچھی آرہی ہے جلدی بتاؤ کب تک بنے گی مجھ سے تو اب صبر ہی نہیں ہو رہا۔
ناہید نے کاؤنٹر پر چڑھتے ہوئے پوچھا۔
تھوڑی دیر اپنے پیٹ کو (جس میں یقیناً بریانی کا سنتے ہی چوہے کودنے لگے تھے) کو تسلی دو دم پر ہے بس بن ہی گئی ہے۔
فریحہ نے اس کی بے صبری دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
واہ آپی واہ آپ کے ہاتھ کے بنے کھانے کی خوشبو اور لذت ہی اور ہے ویسے یہ تو بتائیں بن کیا رہا ہے۔۔۔
معیز کچن کے دروازے پر کھڑا فری سے پوچھ رہا تھا۔
(لو آگیا بھوکا کہیں کا) ناہید منہ ہی منہ میں اسے بھوکے کا خطاب دیتے ہوئے ایک دم اونچا بولی۔
بریانی بن رہی ہے جو کہ صرف میں کھاؤں گی۔
اور اس میں تمہارے لئے ایک چمچ کی بھی گنجائش نہیں اس لئے اپنی شکل گم کرو اور شاباش نکلو یہاں سے۔۔۔۔
ناہید نے فریحہ کے بتانے سے پہلے ہی اعلان کر دیا جس کا معیز پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا۔
میری بریانی پر نظر رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
بلکل بھی نہیں۔۔۔سمجھے تم۔۔۔
ناہید نے اس پر کوئی اثر نا ہوتا دیکھ کر اب کی بار پہلے سے بھی زیادہ زور سے چلاتے ہوئے کہا۔
وہ بات یہ ہے ڈیر کزن کہ بریانی تو میں ضرور کھاؤں گا تم چاہے جتنا بھی چلا لو۔۔۔
کیوں کہ تمہارے چلانے سے پورا گھر تو ڈر کے مارے ہل سکتا ہے مگر میں نہیں۔۔۔۔
آپی میرا حصہ سائیڈ پر رکھ دیجئے گا میں کھا کے ہی جاؤں گا۔
سو ڈیر کزن ایپل تو بہت میٹھا لگ رہا ہے۔۔۔
معیز فری کو بریانی کا کہتا ڈیر کزن کے ہاتھ میں پکڑا سیب جھپٹتے ہوئے (جو کہ بریانی کے لئے صبر نا ہوتا دیکھ کر وہ کھانے لگی تھی) کچن سے رفو چکر ہو گیا۔
چوزہ کہیں کا (منحوس مارا) ناہید چلائی دوسرا جملہ اس نے دل میں بولا۔
چوزی کہیں کی۔۔۔معیز بھی باہر سے چلایا۔۔۔
ناہید نے دوسرا سیب پکڑا اور بغیر دھوئے ہی کھانا شروع کر دیا۔جبکہ اس کے غصے سے لطف اندوز ہوتا معیز لاؤنج میں ٹی وی چلا کر بیٹھ گیا۔
اور ناہید کو چڑانے کی خاطر بار بار پوچھتا فری آپی یہ بریانی نامی چیز کب بنے گی۔۔۔۔
کیا ہم جیسوں کو بھی یہ نصیب ہوگی یا سیدھی کنوے نامی پیٹ میں جاۓ گی۔۔۔۔۔

ناہید جو کہ سونے کی تیاری کر رہی تھی ابھی بیڈ پر لیتی ہی تھی کہ موبائل کی بیل بجی اور وہ اچھل کر سیدھی ہوئی اور میسج بھیجنے والے کو میسج پڑھنے سے پہلے ہی کوسنے لگی۔
کیا مصیبت ہے یہ۔۔۔
میسج پڑھنے کے بعد وہ جھنجھلا کر بولی۔
ناہید کو کئی دنوں سے رونگ نمبر سے میسجز آ رہی تھے۔
ایک دو دفعہ کال بھی آئی مگر اس نے رسیو نا کی اور دل ہی دل میں کال کرنے والے کو دو تین گالیوں سے نواز کر اسے اگنور کر گئی۔۔۔۔
وہ موبائل ابھی واپس رکھنے ہی لگی تھی کہ اسی نمبر سے پھر کال آنا شروع ہو گئی۔
اس دفعہ اس نے موبائل واپس رکھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کال رسیو کی اور غصے سے تقریباً چلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کون ہو تم کیا مسئلے اور مسائل ہیں تمہارے ساتھ۔۔
آخر کیوں اتنے دنوں سے میسج پہ میسج اور اب کال پہ کال کر کے پریشان کر رکھا ہے۔
بولو اب بولتے کیوں نہیں کیا منہ میں زبان نہیں ہے۔
ارے جب زبان نہیں ہے تو پھر فون ہی کیوں کیا۔۔۔۔
ارے ارے محترمہ آپ مجھے بولنے کا موقع فراہم کریں گیں تو میں کچھ بولوں گا ناں۔۔۔
ناہید کے ایک سیکنڈ کے لئے خاموش ہونے پر مطلوبہ نمبر جلدی سے بولا کہ کہیں پھر سے ناہید کا نان اسٹاپ ریڈیو شروع نا ہو جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کو ساری بات بتاتا ہوں اور آپ کے سوالوں کا جواب بھی دونگا کہ کس لئے آپ کو پریشانی کی زحمت دینی پڑی۔
موصوف جو کوئی بھی تھے بولتے بہت اچھا تھے بہت پیارا بہت میٹھا بہت دھیما۔۔۔۔
(ارے ارے بس موصوف کی اتنی تعریف ہی کافی ہے ابھی جان تو لیجئے کہ یہ موصوف آخر ہیں کون جو اس نک چڑھی لڑکی کو کتنے دنوں سے میسجز اور کالز کے ذریعے پریشانی کی زحمت سے دو چار کر رہے ہیں)
میرا نام ریان ہے پیار سے سب مجھے رونی کہتے ہیں۔۔۔
ناہید جو اس کی آواز کے جادو میں کھو سی گئی تھی اس کے تعارف کروانے پر اور سیدھی ہوئی اور منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔۔۔۔
(مسٹر مجھے کیا تمہیں لوگ پیار سے رونی کہیں یا رونی صورت والا)
میں آپ کی دوست یشل کا بھائی ہوں۔
میں نے پہلی دفعہ آپ کو اسکول سے باہر رکشے والے سے لڑتے۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ بات کرتے دیکھا۔۔۔۔
وہ فوراً بات بدل گیا شائد اس ڈر سے کہ کہیں محترمہ فون کے اندر سے ہی اس کو ایک عدد مکا ہی نا رسید کر دیں۔
زیادہ کچھ نہیں بس اتنا ہی کہوں گا کہ آپ مجھے اچھی لگتی ہیں میرا مطلب ہے کہ بہت ہی اچھی( تعریف نہیں مزید تعریف) لگتی ہیں اور میں اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔
اس سے پہلے میں آپ کی مرضی جاننا چاہتا ہوں آپ کی مرضی کے بغیر اپنے والدین کو نہیں بھیجنا چاہتا۔
اگر آپ کو وقت چاہیے تو آپ وقت لے سکتی ہیں مگر براۓ مہربانی زیادہ وقت نا لیجئے گا۔۔۔
مجھے مزید جاننے کے لئے آپ اسی نمبر پہ رابطہ کر سکتی ہیں اور۔۔۔۔۔
اور مجھے جاننے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔
بے اختیار ناہید کے منہ سے پھسلا تو اس نے زبان ایک دم دانتوں تلے دبا لی اس بات سے بے خبر کے اس کی اس بات سے موصوف کے ہونٹوں پر خوشگوار مسکراہٹ بکھر چکی ہے۔۔۔
مجھے آپ کو مزید جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔
کبھی کبھی کسی کو جاننے کے لئے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے میرے لئے بھی وہ ایک لمحہ ہی کافی ہے جس لمحے میں میری آپ پہ نظر ٹھہر سی گئی۔۔۔
اور یقین مانیے وہ لمحہ میری زندگی کا حسین ترین لمحہ تھا۔۔۔
ویسے یہ ریان ہی جانتا تھا کہ جس لمحے اس نے ناہید کو رکشے والے سے لڑتے دیکھا تھا تو وہ اسے ایک (خونخوار ڈائن) ہی لگی تھی مگر دوسرے ہی لمحے وہ اسے اتنی اچھی لگنے لگی کہ وہ بنا پلک جھپکے اس ڈائن کو دیکھے ہی گیا۔۔۔
یعنی اس طرح اسے ناہید کو جاننے کے لئے ایک ہی لمحہ کافی نہیں بلکہ دوسرا لمحہ کہنا چاہیے تھا۔۔۔۔
ناہید کی مسلسل خاموشی سننے کے بعد ریان نے خدا حافظ کہتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔
جبکہ ناہید موبائل ہاتھ میں لئے اس دن کو سوچنے لگی جس دن نے ریان کو ناہید کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا تھا ۔

ارے کیا ہوگیا ہے اندھے ہو کیا۔۔۔۔
او ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں لگتا ہے اندھے ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے بھی ہو۔
ارے بھائی اگر جان لینی ہی ہے تو کسی اور کی لو ناں ہمیں کیوں رکشے تلے کچل کر اگلے جہاں پہنچانا چاہتے ہو۔۔۔
اگلے جہاں کا سن کر ناہید کے ساتھ کھڑی یشل نے اچھل کر اسے دیکھا۔
باجی آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے رکشہ نا ہوگیا کوئی ٹرک ہی ہوگیا۔
ٹرک کے کچھ لگتے آئندہ میرے سامنے مت آنا ورنہ تم سمیت تمہارے اس بے چارے (پھٹیچر) رکشے کو بھی نہیں چھوڑوں گی۔
ایک تو غلطی کی اوپر سے دانت بھی دکھاۓ جا رہا ہے۔
ارے جانے دو باجی میں تو رکشہ ایکسپرٹ ہوں آپ کو بھلا کیوں رکشے تلے دینے لگا۔
رکشے والے نے اپنی بتیسی (ٹیڑھے میڑھے دانت)دکھاتے ہوئے کہا۔
ناہید لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر بیچ سڑک پر اس لڑکے سے لڑ رہی تھی جو چھوٹی سی ہی عمر میں خود کو رکشہ ایکسپرٹ کہہ رہا تھا۔۔۔
کیا کہا تم نے باجی۔۔۔ناہید کو تو باجی کے نام پر پتنگے ہی لگ گئے۔۔۔باجی ہوگی تیری باجی اور۔۔۔۔۔۔
ناہید اب بس بھی کر دو ذرا سا رکشہ ہی تو لگا ہے بدلے میں تم نے پورا آسمان ہی سر پہ اٹھا لیا۔۔
وہ کچھ اور کہنے کا ارادہ بھی رکھتی تھی کہ یشل نے اسے وہاں سے کھینچتے ہوئے کہا۔
وہ رکشہ ایکسپرٹ بھی اپنا رکشہ لئے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔
تم آسمان کی بات کر رہی ہو اگر وہ کچھ دیر اور رکتا نا تو جس ٹرک کی وہ بات کر رہا تھا وہی اٹھا کر اس کے سر پر دے مارتی۔
ناہید کا غصہ کسی طور کم ہونے کو نہیں آرہا تھا۔
بہت خوب یعنی ایک ہینڈ بیگ تو تم سے اٹھایا نہیں جاتا اور بات کر رہی ہو رکشہ اٹھانے کی۔
یشل نے ہنستے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑے ناہید کے ہینڈ بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو وہ روز اسکول کی بیل بجتے ہی یشل کو پکڑا دیتی تھی یہ کہتے ہوئے کہ اف میرا نازک کندھا لو اب اس بیگ کو تم سنبھالو (دوستی کا آخر اتنا تو حق بنتا ہے ناں تم پہ) ناہید نے اسے گھورتے ہوئے اپنا بیگ اس سے جھپٹنے کے سے انداز میں لیا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
ریان کب سے ایک سائیڈ پر کھڑا بغیر ٹکٹ کے فلم انجوئے کر رہا تھا وہ چاہتا تو یہ فائٹ رکوا دیتا مگر اسے یہ فائٹ دیکھتے میں کافی لطف آرہا تھا۔
بھائی اب آپ کہاں گم ہو گئے گھر نہیں جانا کیا۔۔۔
ہاں ہاں چلو۔۔۔
ریان نے یشل کی آواز پر چونکتے ہوئے ہڑبڑا کر کہا۔
ناہید تم بھی ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں گھر ڈراپ کر دیں گے۔
یشل نے اسے گھر ڈراپ کرنے کی آفر کی جسے ناہید (نو تھینکس) کہتے ہوئے بڑے آرام سے رد کرتی آگے بڑھ گئی۔
ریان کا بہت دل کر رہا تھا کہ وہ بیٹھ جاۓ مگر وہ اپنے دل کی بات کو زبان پر لاتا کیسے۔۔۔۔
تیز تیز چلتی ناہید کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی کی نظریں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی ہیں مگر پھر وہ اسے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتے ہوئے اور بھی تیزی سے چلنے لگی۔

اوہ اچھا تو وہ نظریں جنہیں میں اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کر گئی تھی وہ دراصل اسی رونگ نمبر کی تھی۔۔۔۔
ناہید ابھی تک موبائل ہاتھ میں پکڑے اس دن کی لڑائی یاد کر رہی تھی۔
تو یہ یشل کا بھائی تھا جو اس دن مزے سے کھڑا فائٹ دیکھ رہا تھا مگر اسے میرا نمبر کہاں سے ملا۔
ضرور یشل سے لیا ہوگا۔۔۔
اب کیا کروں اس نے تو مجھ سے جواب مانگا ہے کیا ہاں کہہ دوں۔۔۔ارے نہیں نہیں ایسے کیسے ہاں کہہ دوں کسی کو بھی۔۔۔
مگر نا کہنے کو بھی تو دل نہیں مان رہا نا کیوں کہ دکھنے میں تو اچھا خاصا گڈ لکنگ ہے بزنس بھی اچھا خاصا ہے اور آواز۔۔۔۔
اس سے آگے ناہید سے سوچا ہی نا گیا کیوں کہ وہ اس کی آواز میں دوبارہ ڈوب سی گئی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ناہید تم ابھی تک سوئی کیوں نہیں۔
فریحہ نے اسے جاگتے دیکھا تو پریشان ہو گئی کیوں کہ وہ روز گیارہ بجے تک سو جاتی اور آج تو بارہ بج رہے تھے اور وہ ابھی تک موبائل ہاتھ میں لئے چاند ستاروں کی سیر کر رہی تھی۔۔۔
آہاں۔۔۔ناہید چونکی۔۔۔وہ بس نیند نہیں آ رہی۔
آنکھیں بند کرو گی تو آجاۓ گی اور ویسے بھی صبح تمہیں جلدی اٹھنا ہوتا ہے نیند پوری نہیں کرو گی تو بچوں کو ٹھیک سے پڑھاؤ گی کیسے۔۔۔۔
آگئی نیند سونے لگی ہوں میں۔۔۔ناہید نے موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا اور آنکھوں پر بازو رکھ کی لیٹ گئی۔۔۔
فریحہ لائٹ بند کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی تو ناہید پھر سے اٹھ بیٹھی اور موبائل ہاتھ میں لئے ان باکس کھول کے وہ میسجز پڑھنے لگی جنہیں وہ کئیں دنوں سے نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔
موصوف کا ذوق تو بہت اچھا ہے۔۔۔ان باکس میں موجود اشعار اور غزلیں پڑھتے ہوئے ناہید مسکرا دی۔۔۔۔
(جاری ہے)

اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

راہ محبت…قسط اول…..(افسانہ از ایشاء گل)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں