319

اگرچہ میں زمانے سے بہت خوفزدہ ہوں

شاعر: ایم.اے. فاضل فریدی

اگرچہ میں زمانے سے بہت خوفزدہ ہوں
اس شہر سے جانے سے بہت خوفزدہ ہوں
یہ آگ میرا جسم جلا ڈالے گی مگر پھر بھی
میں اس کو بجھانے سے بہت خوفزدہ ہوں
پہلے تولاحق تھی خش مجھے در بدری کی
مگر اب ایک ٹھکانے سے بہت خوفزدہ ہوں
ان دید کی ماری پیاسی آنکھوں کے لئے
کچھ خواب سجانے سے بہت خوفزدہ ہوں
خوشیوں سے بھرے مرے دن رات ہیں مگر
اک روگ پرانے سے بہت خوفزدہ ہوں
اس بھیس بدلتی ہوئی بےسمت ہوا کا فاضل
میں ساتھ نبھانے سے بہت خوفزدہ ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں