334

اگرچہ میں زمانے سے بہت خوفزدہ ہوں

شاعر: ایم.اے. فاضل فریدی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اگرچہ میں زمانے سے بہت خوفزدہ ہوں
اس شہر سے جانے سے بہت خوفزدہ ہوں
یہ آگ میرا جسم جلا ڈالے گی مگر پھر بھی
میں اس کو بجھانے سے بہت خوفزدہ ہوں
پہلے تولاحق تھی خش مجھے در بدری کی
مگر اب ایک ٹھکانے سے بہت خوفزدہ ہوں
ان دید کی ماری پیاسی آنکھوں کے لئے
کچھ خواب سجانے سے بہت خوفزدہ ہوں
خوشیوں سے بھرے مرے دن رات ہیں مگر
اک روگ پرانے سے بہت خوفزدہ ہوں
اس بھیس بدلتی ہوئی بےسمت ہوا کا فاضل
میں ساتھ نبھانے سے بہت خوفزدہ ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں