287

آئیڈیل

تحریر: محمد طیب صدیقی
“پاپا میرے آئیڈیل آپ ہیں”میرے بیٹے نے جب مجھے یہ بات کہی تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میرے بیٹے کا آئیڈیل میں ہوں اور پھر میں نے اس بات کا اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ میرے ہر ایک انداز کو اپناتا ہے میری طرح بات کرنے کی کوشش کرتا ہے حتی کہ کھنگورتا بھی ہے تو آواز میں بھاری پن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے.
جمیل فخریہ انداز اور مسکراہٹ کے ساتھ اپنے کولیگز کو بتا رہا تھا.
دوستوں نے مختلف تبصرے کئے کسی نے باپ بیٹے کے رشتے اور پیار کا نام دیا تو کسی نے اسے بچگانہ نفسیات کہا کہ بچے وہی کچھ کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں بہرحال وہ خوش تھا کہ اس کا بیٹا اس کی ہر حرکت کی نقل کرکے اس کے طور اطوار اپنا رہا ہے اسی دن جمیل آفس سے گھر آتے ہوئے گراؤنڈ کے پاس سے گزرا جہاں اس کا بیٹا کھیلنے آتا تھا اس نے گراؤنڈ کی طرف دیکھا تو سب بچے کھیل رہے تھے مگر اسے اپنا بیٹا کھیلتا ہوا نظر نہ آیا اس نے رک کر گراؤنڈ کی طرف اچھی طرح دیکھا مگر بیٹا دکھائی نہ دیا وہ یہ سوچ کر کہ بیٹا آج کھیلنے آیا ہی نہیں ہو گا جانے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر گراؤنڈ کے کونے پر لگے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے لڑکے پر پڑی جو بڑی بے فکری سے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا.

یہ اس کا اپنا بیٹا تھا وہ غصے کے عالم میں بیٹے کے پاIس گیا اور جا کر اس کی پٹائی شروع کر دی گھر لا کر پھر لاتوں کی برسات کر دی جب تھک کر بیٹھا توغصے سے پوچھا کہاں سے پڑی ہے تمہیں یہ بری عادت کون سے دوست ہیں جن سے تمہیں یہ عادت لگی ۔ بیٹا بس خاموش کھڑا آنسو بہائے جا رہا تھا۔
جمیل غصے میں بڑبڑاتے ہوئے ” ہونہہ, پاپا میرے آئیڈل آپ ہیں” کہہ کر سگریٹ سلگا لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں