336

پاکستان کو 35رب ڈالر خسارے کا سامنا ہے. قومی اسمبلی میں بحث

تحریر: ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو 35 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور ہمیں آئی ایم ایف کے اس پیکیج کو آخری پیکیج بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے. قومی اسمبلی میں سعودی عرب سے ملنے والے پیکج کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر ایاز صادق کے سوال پر ایوان کو تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو 35ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور بجٹ خسارے کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی. وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر کی طلب میں اضافہ اور رسد میں کمی کے باعث روپے کی قدر میں کمی ہوئی جبکہ گزشتہ حکومتوں میں 1200ارب کے نوٹ چھاپے گئے. انہوں نے کہا کہ معیشت کو سہارے کی ضرورت ہے، بجٹ خسارہ 900 ارب روپے سے بھی بڑھ چکا ہے اور خسارے کی وجہ سے بیرونی قرضے لینے پڑے. عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کے ایک ہفتہ یا دس دن بعد آئی ایم ایف کے سربراہ کو فون کر کے مشن بھیجنے کی استدعا کی تھی.
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو آئی ایم ایف کا وفد بات چیت کے لیے پاکستان آیا اور چاہتے ہیں کہ آئندہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے اوریہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے. وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ ہم نے دوست ممالک سے بھی بات چیت کی اور سعودی عرب ہمیں 3 ارب ڈالر کا تیل فراہم کرے گا. انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کے لیے دوست ممالک سے مدد لے رہا ہے اور آئی ایم ایف پر100 فیصد انحصار نہیں کرنا چاہتے، مارکیٹ میں اب ٹھہراو آیا ہے.
انہوں نے کہا کہ انتخابات کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا، معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیل آﺅٹ پیکیج کی ضرورت ہے. اسٹاک مارکیٹ کی بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ پچھلے 10 سے 12 دنوں میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہو ا ہے. حکومتی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے 95 فیصد چھوٹے کاروبای طبقے پر بجلی کی قیمت نہیں بڑھنے دی اوربرآمدات کے شعبے کے لئے بجلی کی قیمت کم کردی ہے.
اسد عمر نے کہا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ہمیں اگلے فیز پر لے کر جانا ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کرتے مسائل حل نہیں ہوں گے اس لیے تمام جماعتوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ معیشت پر بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں گی. وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا.
قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کو ملنے والے سعودی پیکیج میں فوجیوں کو بھیجنے کی کوئی شرط نہیں اور پاکستان کسی فوجی کو وہاں نہیں بھیج رہا ہے. شاہ محمود قریشی نے اسرائیلی طیارے کی پاکستان میں مبینہ آمد کے الزامات کا جواب دیا اور کہا کہ یہ خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں.
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تو پھر کوئی روک نہیں سکتا تاہم اپوزیشن کے اطمینان کے لیے ہم واضح کررہے ہیں خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے. وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی ہربات کا جواب دیتے ہیں، جواب پورا ملے گا، مسئلہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کو دن میں تارے اور رات میں اسرائیلی طیارے نظر آرہے ہیں.
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے کہ این آر او، ہم کہتے ہیں نہ رو، خورشید شاہ بار بار کھڑے ہوتے ہیں، معاشی بحران میں ان سب کا ہاتھ ہے.فواد چوہدری نے کہا کہ سرکاری اداروں میں بھرتیاں کرکے قومی خزانے پر بوجھ ڈالا گیا، سب کے ذمہ دار اپوزیشن کی آگے کی نشستوں پر بیٹھے ہیں، ایوان میں معاشی مسائل پر بات ہوتی ہے تو سب اٹھ کر بھاگتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کے ذمہ داروں کو تلاش کریں تو اپوزیشن کے مرکزی رہنما پیچھے نظر آئیں گے، آج ستر دنوں میں حکومت کی کوششوں سے اسٹاک مارکیٹ ساڑھے 7ہزار پوائنٹس اوپر گئی.وزیراطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس کابائیکاٹ کر کے بہانہ بنایا کیوں کہ انہیں وہاں اجلاس کرنا تھا، نوازشریف اب ایوان میں نہیں آسکتے، اس لیے اب باہر بیٹھ کر ہی اجلاس کریں گے.انہوں نے کہا کہ فالودے والے کے اکاﺅنٹ سے اربوں روپے نکل رہے ہیں، یہ لوگ ملک کی معیشت کا فالودہ بنا کر کھا گئے، کشمیر میں سب یوم سیاہ منارہے تھے اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ایک پیغام دکھا دیں.فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا ایجنڈا ذاتی مفاد پر مبنی ہے، نوازشریف کا سیاسی مستقبل ختم ہوگیا، سعودی عرب کے لیے پاکستان کے بچوں کے لیے بھیک مانگی ہوگی.وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ 10سال میں کسی حکومت نے سوچا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں قائدانہ کردار ادا کرے؟ سعودی عرب کی قیادت نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا، سعودی عرب میں 30برس کے دوران پہلی بار پاکستان کو اس قدر احترام ملا.انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی سمت درست ہے، غلطی ہوسکتی ہے لیکن نیت درست ہے، سب جانتے ہیں کہ عمران خان قوم کے مستقبل کا سودا نہیں کرسکتے.فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن سے قسم اٹھوا لیں، اپنی قیادت کے لیے کوئی کھڑا نہیں ہو گا، عمران خان ایک پیسے کا روادار نہیں ہوگا، پی ٹی آئی ارکان حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں.فواد چوہدری کے خطاب سے قبل قومی سمبلی کے اجلاس میں شیریں مزاری نے بھی اظہار خیال کیا.پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ وزیرخزانہ کی ایوان میں موجودگی تک معاشی مسائل پر بحث کا حصہ نہیں بنیں گے.اپوزیشن کے ارکان ایوان سے واک ا?وٹ کرگئے جس کے بعد قومی اسمبلی میں کورم کی نشان دہی پر ارکان کی گنتی کی گئی.وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ اپوزیشن کے رویے پر افسوس ہے.ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ کورم پورا ہے، اس لیے ایوان کی کارروائی جاری رہے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں