552

ذیابیطس اور ہمارا طرز زندگی….(شہزاد منظور..نیوٹریشنٹ)

14 نومبر ورلڈ ذیابیطس ڈے کے حوالے سے معلوماتی تحریر

تحریر: شہزاد منظور..نیوٹریشنٹ

ذیابیطس ایک میٹابولک مرض ہے جو اس وقت دنیا بھر میں ایک وباء کی طرح پھیل رہا ہے۔ ہم جو غذا استعمال کرتے ہیں اس کا بیشتر حصہ گلوکوز یا شوگر میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے ہمارا جسم توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کی صورت میں خون میں گلوکوز کی سطح معمول کے مقابلے میں زیادہ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر ذیابیطس 2 اقسام کی شکل میں لاحق ہوتا ہے ذیابیطس ٹائپ 1 اور ذیابیطس ٹائپ 2۔ 1ب سوال یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق کیا ہے؟

ذیابیطس ٹائپ 1
ذیابیطس ٹائپ ون جسم کے دفاعی نظام کو لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیات کی مدد سے نقصان پہنچاتا ہے۔
انسولین جسم میں موجود گلوکوز کو توانائی میں بدلنے اور بلڈ شوگر لیول معمول پر رکھنے میں مدد دیتی ہے جو ذیابیطس ٹائپ 1 کے مریضوں میں نہیں ہوپاتا۔ ٹائپ 1 کا مرض کسی بھی عمر میں لاحق ہوسکتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ بیماری کیسے لاحق ہوتی ہے یا اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے۔ ذیابیطس ٹائپ 1 کے شکار افراد کو مرض کی شدت بڑھنے سے روکنے کے لیے انسولین کے انجیکشن لگانا پڑتے ہیں۔ پرانے زامانے میں اسے بچپن یا کم عمری کی شوگربھی کہا جاتا تھا۔اس میں لبلہ انسولین بنانا بند کردیتا ہے، اور یہ کمی اتنی تیزی سے پیدا ہوتی ہے، کہ دنوں اور ہفتوں میں ہی مریض شدید بیمارہو جاتا ہے۔ اس میں بیماری کی علامات بہت شدید ہوتی ہیں اورعام طور پر تشخیص ہونے میں دیرنہیں لگتی۔ ذیابیطس کی اس قسم کا علاج روز اول سے ہی انسولین کے ٹیکوں سے کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس قسم اول کے مریض بہت ہی کم ہیں، لیکن جو بچے اس مرض سے متاثرہیں اُن کے علاج میں مہارت رکھنے والے افراد بہت ہی کم ہیں۔ ذیابیطس قسم اول کا علاج ہمیشہ کسی ماہر سے کروانا چاہئے۔

ذیابیطس ٹائپ 2
ذیابیطس ٹائپ ٹو اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور 90 فیصد افراد کو اسی کا سامنا ہوتا ہے۔ ٹائپ ٹو کا مرض عام طور پر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتا ہے جس کے علاج کے لیے غذا اور ورزش وغیرہ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، تاہم موجودہ عہد کے ناقص طرز زندگی کے نتیجے میں یہ نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنانے لگا ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ انسولین کا بے اثر ہو جانا ہے۔ یعنی آپکا لبلہ جو انسولین پیدا کرتا ہے، وہ اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہتی ہے۔ انسولین کی اس بے اثری پر قابو پانے کیلئے لبلہ مزید انسولین پیدا کرتا ہے، اور اسی طرح اپنی ہمت سے زیادہ کام کرتے کرتے، آخر کار لبلہ تھک جاتا ہے، اور انسولین کی بے اثری کے ساتھ انسولین کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اور خون میں شوگر بڑھنے لگتی ہے۔ انسولین کی بے اثر ی صرف شوگر ہی نہیں بڑ ھاتی، بلکہ یہ آپ کے لئے کُچھ اور خطرات بھی پید اکرتی ہے۔

حمل کی ذیابیطس
اگر کسی ایسی عورت کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو جائے، جسے حمل سے پہلے ذیایطس نہیں تھی، تو اسے حمل کی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔

ذیابیطس کی عام علامات
اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے. جیسے بار بار پیشاب آنا، معمول سے زیادہ پیاس لگنا، جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی، ہر وقت تھکاوٹ اور زخم یا خراشوں کے بھرنے میں تاخیر سمیت دیگر علامات۔ یہ قسم کسی بھی فرد کوعُمر کے درمیانی حصّے کے بعد متاثر کرتی ہے۔ ذیابطیس کی عمومی علامات میں بار بار پیاس لگنا، پیشاب کی زیادتی، کمزوری، سُستی، کام میں دِل نہ لگنا، مختلف اعضاء میں درد، ہاتھوں پیروں میں جلن کا احساس، نظر کا دھندلانا، وزن کم ہونا (گرچہ خوراک زیادہ ہو)، ہاتھوں پیروں کا سُن ہونا یا ان میں احساس کم ہونا اور زخموں کا تاخیر سے مندمل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ ذیا بطیس کا ٹیسٹ بہت آسان ہی نہیں، سستا بھی ہے، جو خون کےنمونےسے کیا جاتا ہے۔ یہ مرض صرف لبلبے ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ جسم کے دیگر اعضاء بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، کیوں کہ خون میں موجود گلوکوز(شکر) جسمانی اعضاء اور خلیات تک پہنچ نہیں پاتا اور درست طور پر تحلیل نہ ہونے کی صورت میں توانائی بھی پیدا نہیں کرتا

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 26فی صد افراد ذیابطیس کا شکار اور19 فی صد اپنے مرض سے لاعلم ہیں،جب کہ ایک بہت بڑی تعداد علاج معالجے کے معاملے میں لاپروائی برتتی ہے۔ نیز، تقریباً 35سے 40 ملین بچّے بھی(20سال سے کم عُمر)اس مُوذی مرض میں مبتلا ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سےپاکستان ساتواں بڑا مُلک ہے اور اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے، حفاظتی اور احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں، تو خطرہ ہے کہ2030 ءتک یہ چوتھا بڑامُلک بن جائے گا

ذیابطیس کی پیچیدگیاں
ذیابطیس کی پیچیدگیاں اعضائے رئیسہ اور مختلف جسمانی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔ مثلاً اگر یہ مرض آنکھوں کو متاثر کرے تو بینائی میں کمی، دھندلاہٹ، اندھے پن اور آنکھ کے اندرونی پردے کے عوارض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ دِل اور شریانوں پر ذیابطیس کے اثرات دِل کے دورے، انجائنا، بُلند فشارِخون اور فالج کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ مرض گُردوں کے افعال میں بھی خرابی کا سبب بن جاتا ہے۔ انتہائی حالات میں بعض مریضوں کے گُردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور تاحیات ڈائی لیسسز یا پھر گُردوں کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں میں پاؤں کے امراض اور ان کی پیچیدگیوں کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں کہ اعصابی نظام میں خلل کے باعث پاؤں سُن ہو جاتے ہیں اور گرم، سرد اورچوٹ لگنے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس حالت میں کسی قسم کی بھی چوٹ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ، کیوں کہ سب سے پہلے انفیکشن پاؤں اور پھر پوری ٹانگ تک پھیل جاتا ہے اوراگر بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو پیر یاٹانگ کاٹنے تک کی نوبت آسکتی ہے۔ اس پیچیدگی سے محفوظ رہنے کے لیےپیروں کا خصوصی خیال رکھیں، مناسب جوتا پہنیں، ننگے پیر چلنے سےگریز کریں، پیر سادہ پانی سے دھوئیں اور سردیوں میں نیم گرم پانی کا استعمال کریں، پاؤں دھونے یا نہانے کے بعد خشک کرلیں۔ جب کہ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن احتیاط سے تراشے جائیں۔اگر پیروں میں کوئی مسئلہ ہو، تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں تاکہ بروقت تشخیص و علاج سے پیر بچائےجاسکیں۔ اسی طرح اگرجسم کا کوئی حصّہ سُن ہوجائے، پیشاب یا پاخانہ خطا ہونے لگے یا کنٹرول نہ رہے، تو فوری طور پر ماہر معالج سے رابطہ کریں۔ یاد رکھیے، اگر مرض پر قابو نہ ہو، کولیسٹرول بڑھا ہو اور بُلند فشارِ خون کی بھی شکایت ہو، تو ذیا بطیس کے مریضوں میں فالج کا خطرہ دیگر افراد کی نسبت کہیں بڑھ جاتا ہے۔

اپنے نمبرز کو پہچاننے۔۔۔
آپ کی فاسٹنگ یعنی ناشتے سے پہلے گلوکوز70 سے 120 کے درمیان ہونی چاہئے۔
کھانے کے تقریباً دو گھنٹے کے بعد گلوکوز 160 سے کم ہونا ضروری ہے۔
اگر آپ ہر تین مہینے پر ہیمو گلوبن گلوکوز ٹیسٹ کرتے ہیں تو اس کا رزلٹ 5.7 سے کم ہونا نارمل شخص کی علامت ہے۔5.8 سے 6.5 کے درمیان رزلٹ اس بات کی علامت ہے کہ یہ پری ذیابیطس ہے یعنی ذیابیطس نہیں ہوئی لیکن اگر اپنے کھانے پینے کی عادات بہتر اور ورزش نہیں کرتے تو زیابیطس ہوسکتی ہے یہ وارننگ سگنل ہے قدرت آپ کو سگنل دے رہی ہے احتیاط کا لہذا ایسی صورت میں اپنا وزن کم کریں کھانوں سے کاربوہائیڈریٹ یعنی گندم اور چاول ہٹا دیں۔ اپنے معالج سے ڈائیٹ پلان لیں اور اس کی پابندی کویقینی بنائیں

ذیابطیس اور وزن میں کمی
ذیابطیس اور اس کی وجہ سے ہونے والی وزن میں کمی کے حوالہ سے جب اکثر لوگوں سے کہا جائے کہ وزن میں زیادتی دراصل ذیابطیس کا سبب بنتی ہے. تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم تو پہلے ہی وزن میں کمی کا شکار ہیں اور ہمیں شوگر بھی ہو چکی ہے تو اب ہم وزن کیسے کم کریں. یہاں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ وزن میں کمی کا مشورہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو موٹاپے کے سبب شوگر کے مریض ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں. اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آپ کے وزن میں کمی ہورہی ہے تو یہ ایک تشویشناک بات ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آپ کی شوگر کنٹرول نہیں ہے شوگر کا مرض دراصل انسولین کی کمی کی وجہ سے آپ کے جسم میں موجود مسلز کو ختم کرتا ہے جس کی وجہ سے اچانک وزن کم ہونے لگتا ہے ۔ ایسی صورت میں فورا ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے تاکہ وہ آپ کی دوائی کو ایڈجسٹ کر سکے ساتھ میں صحت مند طرز زندگی اپنائیں.

صحت مند طرز زندگی دراصل دو چیزوں کا نام ہے، اچھی اور متوازن غذا اور ورزش، جب آپ ایسی غذائیں استعمال کرتے ہیں کہ جن میں شوگر اور کاربوہائیڈریٹس کم ہوتے ہیں اور فائبر زیادہ ہوتا ہے جیسے کہ پھل اور سبزیاں تو آپ کی شوگر کنٹرول رہتی ہے اسی طرح اگر آپ ورزش یا واک کرنے کے عادی ہیں تو یہ بھی آپ کی شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ لہذا اگر آپ کا وزن تیزی کے ساتھ کم ہورہا ہے یا آپ کی شوگر کی دوائی کے باوجود آپ کے وزن میں کمی واقع ہو رہی ہے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے اپنی دوائی کو ایڈجسٹ کریں اور صحت مند طرز زندگی اپنائیں.

چہل قدمی اور جسمانی ورزش کو با قاعدگی سے کرنے کے فوائد
کوئی بھی زی شعور شخص روزانہ چہل قدمی کرنے اور جسمانی ورزش کے فائدوں کو نہی جهٹلا سکتا چاہے اس کا تعلق کسی عمر, کسی جنس اور کسی طرح کی جسمانی ساخت سے ہو۔ چہل قدمی اور جسمانی ورزش سے وزن مناسب تناسب میں رہتا ہے. چهل قدمی اور جسمانی ورزش کے ذریعے نہ صرف وزن کو بڑہنے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ اس میں خاطر خواہ کمی بھی کی جا سکتئ ہے۔ چہل قدمی اور جسمانئ ورزش انسانی توانائیوں کو بحال کرتی ہے اور بیماریوں کے خلاف مدافعت کا کام کرتی ہے. دل کی بیماریوں، بلند فشار خون اور ذیابیطیس کو روزانہ کی چہل قدمی اور جسمانی ورزش کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

چہل قدمی کے انسانی مزاج پر اثرات
بھرپور مصروف دن گزارنے کے بعد اپنے جسم کو توانائی دینے کے لیے تیس منٹ کی چہل قدمی ضروری ہے. چاہے اسے آپ ایک وقت میں کریں یا مصروف ہیں تو دس دس منٹ کے تین سیٹ کر لیں۔
چہل قدمی پرسکون نیند کیلے نہایت مفید ہے. روزانہ کی چہل قدمی سے آپ گہری اور پر سکون نیند حاصل کر سکتے ہیں لیکن خیال رہے کہ سونے سے بلکل پہلے چہل قدمی نہ کریں۔
چپل قدمی کرنا اپنے آپ میں ایک مزہ اور لطف دیتا ہے. چہل قدمی کرنے کیلے آپ اکثر اپنے گھر سے باہر جاتےہیں.بہت سے لوگ یہ عمل اپنے عزیزواقارب یا پھر دوستوں کے ساتھہ کرتے ہیں جس سے آپ کو روزانہ اپنے عزیزواقارب اور دوستوں سے ملنے کا موقع میسر آتا ہے۔

خون میں شوگر کی مقدار متوازن رکھنے کے تین بنیادی اصول
خون میں شوگر کی مقدارمتوازن رکھنے کے لیے تین بنیادی اصول اپنانا ضروری ہیں۔
متوازن طرزِزندگی
باقاعدگی سےادویہ کا استعمال
پرہیزاور ورزش

کھانے پینے میں احتیاط بھی لازم ہے
کھانے میں چکنائی کی مقدار کم سے کم ہو:
میٹھی اشیاء مثلاً شکر، گُڑ، شہد، مٹھائی، جام، جیلی، کیک، پیسٹری، نان خطائی، بسکٹ، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنک، پھلوں کے رس، گنے یا گنڈیری، کھجور، انجیر، کشمش، آئس کریم، شربت اور پڈنگ وغیرہ کے استعمال سے پرہیز کیا جائے.
احتیاط کریں:
جب کہ روٹی، ڈبل روٹی، بیسن سے بنی روٹی، دلیا، دالیں، بُھنے ہوئے چنے، تربوز، کینو، مالٹا، جامن، خوبانی، آڑو، پپیتا، سیب، خربوزہ، کیلا، آلو بخارا، فالسہ، امرود، مرغی، بغیر چربی کا گوشت، مچھلی، انڈا، پنیر، بغیر بالائی کے دودھ، دہی اور لسّی،کھانے کا تیل، مارجرین، شکرقندی، گاجر، اروی، آلو، مکئی، پھلیاں اورمٹر وغیرہ احتیاط سے استعمال کرسکتے ہیں
حسبِ ضرورت استعمال کریں:
جب کہ بھنڈی، پھول گوبھی، کدّو، پالک، ساگ، ہرے پتّوں والی سبزیاں، ہری مرچ، توری، سلاد، کریلا، لیموں
مولی، پیاز، بینگن، ککڑی، کھیرا، چقندر، شلجم، ٹماٹر، انڈے کی سفیدی، بغیر شکرمشروبات، چائے اور کافی بغیر ڈر وخوف کے حسبِ ضرورت استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
ہر کھانے میں نشاستے کی اچھی خاصی مقدار لازماً شامل ہو،کیوں کہ یہ فوری توانائی پیدا کرنے کا بہترین ماخذ ہیں

اگر وزن اور ذیابیطس کم کر نی ہے توسلاد کیوں ضروری ہے؟
لنچ یا ڈنر میں اپنا کھانا سلاد سے شروع کریں کم سے کم ایک وقت میں 500گرام سلاد ضرور لینا چاہیے۔ اس میں موجود فائبر آپ کے جسم میں کاربوہائیڈریٹ کے شکر میں تبدیلی کا عمل سست کردیتا ہے جس کی وجہ سے ذیابیطس کم ہوجاتی ہے اور یہی فائبر آپ کے معدے کو بھرنے کا احساس دیتا ہے لہذا کم کیلوریز کھانے کی وجہ سے آپ کا وزن کم ہوتا ہے۔ بہت سادہ سی بات ہے ہر کھانے سے پہلے سلاد کسی بھی قسم کی ضرور لیں۔ سلاد ہماری غذا کا ایک اہم جزو ہے۔

سلاد کی ضرورت اہمیت اور تیاری کے حوالہ سے مذید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

زیابیطس میں کیا کھائیں کہ شوگر کنٹرول رہے؟
ذیابیطس میں انسولین کی کمی کے باعث بلڈ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے جو ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسے دیگر امراض کو بھی جنم دیتا ہے۔ شوگر کے مریضوں میں دل کے دورے اور ذہنی امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسی بھی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے علاج کے ساتھ ساتھ صحت بخش غذا نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا شوگر کے مریضوں کو صحت بخش غذا کا انتخاب کرنا چاہیے۔
ایک انسان کو روزانہ1500 سے 1800 کیلوریز حاصل کرنا ضروری ہے۔اس لئے شوگر کے مریض کی غذا میں روزانہ کم از کم3 سبزیاں اور دو پھل شامل ہونا چاہیے۔
شوگر کے مریضوں کی غذا میں دال ضرور شامل ہونی چاہیے کیونکہ دال میں موجود کاربوہائیڈریٹ دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والے کاربوہائیڈریٹ کی طرح خون پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ دالیں پروٹین کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔
گرین ٹی میں پولی فینول وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو جسم میں شکر کی پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس کے علاوہ دارچینی کے استعمال سے شوگر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ خالی پیٹ میں دار چینی پاوڈر نیم گرم پانی کے ساتھ کھانے سے میٹا بولزم کی رفتار تیز ہوتی ہے۔
صبح کے وقت بھیگے ہوئے بادام کھانا بھی شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ٹماٹر کے جوس میں نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر نہار منہ پینے سے بھی شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔
دودھ میں موجود پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ روزانہ دو کپ دودھ کا استعمال اس سلسلے میں بہترین ہے۔
شوگر کے مریض اپنی غذا میں بروکولی ، پھلیاں ، پالک ، مٹر اور پتوں والی سبزیاں ضرور شامل کریں۔ فائبر کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا محسوس ہوتا ہے اور خون میں شوگر لیول صحیح رہنے کے ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی کنٹرول میں رہتا ہے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شوگر کے مریض کو پھل نہیں کھانے چاہئیں کیونکہ ان میں شوگر ہوتی ہے ،یہ درست ہے لیکن ہر پھل سے پرہیز نہ کیا جائے ۔ کچھ پھلوں جیسے آم، انگوراور کیلے میں شوگر بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے انہیں کبھی کبھار کھائیں لیکن ایک وقت میں مقدار ایک چھوٹے پیالے سے زیادہ نہ ہو۔ اسکے علاوہ پپیتا، سیب ، امرود، ناشپاتی اور کینو وغیرہ لیئے جاسکتے ہیں۔

اگر شوگر کے مریض آلو اور چاول کی جگہ دالیں کھائیں تو
ذیابیطس کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آلو چاول ترک کرکے ان کی جگہ دالیں استعمال کی جائیں تو خون میں شوگر کی مقدار 20 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ دالیں بدن میں کاربو ہائیڈریٹس جذب کرنے کے عمل کو بہتر کرتی ہیں اگر شوگر کے مریض آلو اور چاول کی جگہ دالیں کھائیں تو خون میں شکر کی کمی 35 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔
ایک اسٹڈی کی تفصیلات جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئی ہے جس کے بعد کھانے میں مونگ، مسور اور چنے کی دالوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسٹڈی میں شامل ڈاکٹر نے کہا کہ ’ دالیں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور گلوکوز سے وابستہ بیماریوں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
مطالعے میں 24 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا جنہیں چار طرح کے کھانے دیئے گئے۔
ایک گروہ کو سفید چاول کھلائے گئے.
دوسرے کا پیالہ آدھے چاول اور آدھا بڑی سبز دالوں سے بھرا گیا.
تیسرے گروہ کو چاول اور چھوٹی سبز دالیں دی گئیں.
جبکہ چوتھے گروہ کو رنگ برنگی دالوں کے ساتھ چاول دیے گئے۔
کھانے سے قبل اور دو گھنٹے بعد تمام شرکا کے خون میں شکر کی پیمائش کی گئی۔ اس کے علاوہ شرکا کو صرف آلو اور آلو کے ساتھ دالیں بھی کھانے کو دی گئیں۔ جن جن شرکا کو دالیں کھلائی گئیں چاول اور آلو کے مقابلے میں ان کے خون میں 20 فیصد کم شوگر نوٹ کی گئی اور صرف دالیں کھانے والوں میں یہ شرح 35 فیصد تک دیکھی گئی۔ پروفیسر ایلیسن کے مطابق دالیں دھیرے دھیرے ہضم ہوتی ہیں اور اس طرح خون میں شکر کی مقدار نہیں بڑھتی۔ اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ دالیں کھانے کی عادت ٹائپ ٹو ذیابیطس کو روکنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے.

ضعیف افراد کے لئے اپنی زیابیطیس کو کنٹرول کرنے کے نو طریقے
ذیابیطس اکثر تمام عمر ہی آپ کے ساتھ رہتی ہے اور اسکے لیے بہتر ین علاج کی ضرورت ہوتی ہے. اپنی بہترین غذا کے معمول, ورزش اور دوائیوں کی احتیاط کے ساتھ آپ بہترین زندگی گزار سکتے ہیں. ایسے ضعیف افراد جن کو زیابیطس ہو ان کیلے یہ ٹپس انتہای کارآًمد ہیں۔

۔1۔ صحت مند غذا کا استعمال.
زیابیطس کے مریضوں کو ہمیشہ صحت مند غذا لینی چاہیئے جس میں کاربوہائڈریٹ کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہو اور شکر کی کم مقدار پائی جاتی ہے. ایسی کاربوہائیڈریٹس جن کا گلائیسیمک انڈیکس 5 سے کم ہو ان کا استعمال بہترین ہے جیسے سبزیاں، دالیں اور پھل جبکہ 7 سے زائد گلائیسیمک انڈیکس والے کارب جیسے گندم، چاول اور شکر سے بچنا بہت ضروری پے۔ایک چیز اور بھی اہم ہے کہ آپ باقاعدہ غذا کے ماہر کے ساتھ رابطے میں رہیں جو کہ زیابیطس کے متعلق آپ کے لیے ایک بہترین پلان ترتیب دے سکے ۔

۔2۔ چاق وچوبند رہیے
ایروبک کی مشق جیسے چہل قدمی، سوئمنگ اور سائکلنگ آپ کی گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے. اپنے وزن کو بھی مناسب رکھیں اور صحت مند زندگی گزاریں۔ روزانہ تیس منٹ ورزش کی تجویز ہے جو کہ ہفتے میں پانچ دن کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ وزن کی ورزشیں جیسےفری ویٹ، مزاحمتی بینڈ یا یوگا ہفتے میں دو بار کر سکتے ہیں. یہ ورزشیں آپ کے پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور آپ کے گلوکوز کی سطح کو متوازن رکھتی ہے. اس کی لئے آ پ اپنے ہیلتھ کیئر کے ماہر سے رابطہ کر سکتے ہیں جو کہ آُپ کو بہترین راہنمای فراہم کرتے ہیں۔

۔3۔ اپنے گلوکوز کی سطح کو روزانہ جانچئے
آپ کا ڈاکٹر آپ کو بہترین طور پر بتاسکتا ہے کہ کب اور کیسے اپنے گلوکوز کی سطح کو جانچا جائے۔ عام طور پر وہ لوگ جو انسولین لے رہے ہوں وہ اپنے گلوکوز کی سطح کو مناسب رکھنے میں بڑے مشکل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اگر انھیں ہائپوگلیسیمیا یعنی ان کی خون میں شکر کی سطح کم رہتی ہو تو ایسے افراد کو روز ہی اپنی گلوکوز کی سطح کو جانچنا چاہئے۔ ضعیف افراد جنھیں زیابیطس ہو انہیں ہائپوگلیسیمیا کیلئے زیادہ احتیاط کرنی ہوتی ہے۔ جب آپ زیابیطس کی ادویات لے رہے ہوں تو یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ باقاعدہ گلوکوز کی سطح کا دھیان رکھیں۔
اگر آپ کو ہائپوگلیسیمیا کے واضح اشارے مل رہے ہوں تو آپ کو چاہئے کہ روزانہ دس سے بیس گرام شوگر لیں جو کہ آدھا کپ جوس سے یا چار سے پانچ گلوکوز بسکٹ کے زریعے یا پھر ایک چائے کے چمچ شہد اور گلوکوز کی ٹیبلیٹ سے با آسانی حآصل ہو سکتی ہے۔ پھرآپ تقریبا پندرہ منٹ بعد اپنے گلوکوز کی سطح کو دوبارہ ٹیسٹ کریں۔ اگر گلوکوز کی سطح کم آرہی ہو تو اس عمل کو روز دہرائیں۔

۔4۔ اپنی ادویات باقاعدہ سے لیجئے
یہ بہت عام بات ہوتی ہے کہ آپ اپنی زیابیطس کی ادویات کو لینے میں ناغہ کریں. خوش قسمتی سے بہت سے طریقے ہیں جس سے اپنی ادویات کو منظم رکھا جا سکتا ہے. جیسے آپ اپنی ادویات کیلے ایک ڈبہ بنالیں اور ایک الارم کی مدد سے جو کہ آپ اپنے فون، کمپیوٹر، گھڑی وغیرہ میں لگا سکتے ہیں جس سے آپ کی یاد دہانی ہوتی رہے. اس کے علاوہ آپ ایک چارٹ کی مدد سے بھی اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ آپ ہر دن میں کب اپنی ادویات لیتے ہیں۔

۔5۔ اپنا بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کی روزانہ جانچ کریں
دل کی بیماری اور اسٹروک کے خطرے سے بچنے کیلے اپنے صحت کی دیکھ بھال کے ماہر سے جانئے کہ کب کس وقت اور کس طرح بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی جانچ کی جانی چاہیے.

۔6۔ اپنے پیروں کی روزانہ جانچ کریں
اس امر کو لازمی بنائیں کہ آپ روزانہ اپنے پیروں کی جانچ کریں کہ کہیں ان میں کوئی کٹ(خراش)یا پھر کوئی انفیکشن کی علامت تو نہیں. آپ اس سلسلے میں اپنے گھر والوں کی مدد لے سکتے ہیں یہ پھر آئینے کی مدد سے یہ جانچ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے پیروں کو دیکھنے میں مشکل درپیش ہوتی ہو۔ اگر آپ کوئی زخم یا سرخ پیچ محسوس کریں۔ جس میں انفیکشن دکھائی دے تو فورا اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اپنے پیروں کو صاف رکھیں, باقاعدہ لوشن کا استعمال کریں، جس سے آپ کے پیروں کی خشکی دور ہو۔ اور یہ کہ آرام دہ جوتوں کا استعمال کریں جس سے آپ کے پیروں میں چھالے نہیں ہوں۔

۔7۔ اپنی ادویات باقاعدگی سے لیں
یہ ضروری ہے کہ مریض فلو ویکسین اور نمونیہ ویکسین باقاعدہ لے. اگر اس کی عمر پینسٹھ سال یا اس سے زیادہ ہو تویہ ویکسین تمام ہی ضعیف افراد کیلے انتہای ضروری ہے خاص کر ان کیلئے جن کو ذیابیطس کی شکایت ہو.اور وہ فلو کی پیچیدگی کے حوالے سے زیادہ خطرے میں ہو۔

۔8۔ اپنی سماعت کی جانچ کروائیں
سماعت کی خرابی عمر میں اضافہ کے ساتھ بڑھتی ہے.اور اس کا امکان ان لوگوں میں ذیادہ بڑھ جاتا ہے جن کو زیابیطس ہو. سماعت کی بیماری وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتی رہتی ہے. اگر آپ کو سماعت کی مشکل ہو اور آپ کے دوست اور گھر والے اس بات کو محسوس کر رہے ہوں کہ آپ ان کی بات ٹھیک سے نہیں سن پاتے اور یہ کہ ٹی وی اور ریڈیو بہت تیز آواز میں سنتے ہیں. تو فورااپنے کان کی جانچ کے بارے میں ماہر سے رابطہ کریں۔

۔9۔ اپنے دانتوں کو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں
جن لوگوں کو ذیابیطس ہوتی ہے ان کو دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماری کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے. اپنے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس باقاعدگی سی جائیں اور ان کی جانچ کروائیں. اگر آپ کے مسوڑھوں سے خون آتا ہو یا پھر سوجن رہتی ہو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “ذیابیطس اور ہمارا طرز زندگی….(شہزاد منظور..نیوٹریشنٹ)

  1. ایک انتہائ معلوماتی مضمون . مکمل غذائ چارٹ نہی دیا گیا . دالوں کے متعلق بتایا تو گیا مگر دیکھا یہ گیا ہے اگر کسی مریض کو اس دوران یوریا یا کریٹا نائن کے بڑھ جانے کی تکلیف ہوتو اس کو کئ ایک دالیں بند کرنا ضروری ہوجاتا ہے .
    مجموعی طور پر بہترین مضمون ..
    دعا گو
    ہومیوپیتھک ڈاکٹر میاں معظم علی

اپنا تبصرہ بھیجیں