333

ڈی ایچ اے نے اردگرد کے دیہاتوں میں ظلم و جبر کا بازا ر گرم کر رکھا ہے!!!!

تحریر: محمد ارشدولد محمد اشرف. جھلار پیر بخش ڈی ایچ اے فیز 8 بلاک T . لاہور کینٹ.

ہمارے گاوں جھلار پیر بخش کے علاوہ 25 کے قریب دیہات ہیں جہاں ڈی ایچ اے لوگوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ اس قدر اندھیر نگری ہے کہ مقامی پولیس کے تین تھانے ڈیفنس اے ،ڈیفنس بی اور ڈیفنس سی کے علاوہ تھانہ برکی روڈ ہماری شنوائی کو تیار نہیں اس کی دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ ڈی ایچ اے فوج کا شیلٹر استعمال کرکے محکموں کو دباو کا شکار کرلیتا ہے حالانکہ یہ ایک نجی ترقیاتی ادارہ ہے فوج کے آپریشن سے اس کا کوئی تعلق نہیں، دوسرا یہ کہ یہ پہلے اپنے مقامی غنڈوں کو استعمال کرتا ہے اور ہر تھانے کی گاڑیوں کا ڈیزل اور تھانے کی بجلی کا بل ڈی ایچ اے کے کھاتے سے ادا ہوتا ہے اس لئے کوئی بھی ایس ایچ او ڈی ایچ اےکے ساتھ چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ نہیں چلے گا تو ڈیزل اور بجلی کے بل کی مد میں رقم جو کہ خاصی بڑی رقم ہوتی ہے وہ اس کو نہیں ملے گی۔ اس تمام کاروائی میں ڈی ایچ اے لاہور کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور سیکورٹی شعبہ کے افسران شامل ہیں.

ڈی ایچ اے مقامی قبضہ گروپ کی مدد سے لوگوں کی ملکیتی زمین پر قبضہ کرتا ہے اور اس کے بعد اس زمین کو ڈی ایچ اے میں شامل کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص خود اپنی زمین ڈی ایچ اے کو دینا چاہے یا اپنی فائلیں لگوانا چاہے تو اسکے کاغذات میں متعدد اعتراضات لگا دیئے جاتے ہیں۔ اور مقامی پٹواری و قبضہ گروپ کی مدد سے اس زمین کا لینڈ ریکارڈ خراب کروادیا جاتا ہے۔ بہت سے کیسز ایسے بھی کہ زمین کے مالک بھائیوں کو اکیلے اکیلے دفتر بلوا کر لالچ دیا جاتا ہے اور آپس میں لڑوا دیا جاتا ہے۔ سٹے لگنے کے بعد اونے پونے داموں اپنے ٹاوٹوں کے ذریعے زمین خرید لی جاتی ہے.

ہمارے دیہاتوں کے اردگرد شاملات دیہہ اراضی جو کہ گاوں کے افراد کا مشترکہ حق ہوتا ہے، ڈی ایچ اے اس اراضی پر اپنی سیکورٹی استعمال کرکے مقامی افراد کو اٹھا کر قبضہ گروپ کو بٹھاتا ہے اور اس کے بعد اس قبضہ گروپ کی فائلیں ڈی ایچ اے میں لگتی ہیں جس میں ڈی ایچ اے کے افسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے. اس طرح ڈیفنس ھاوسنگ اتھارٹی لاہور نے اسٹیٹ کے اندراسٹیٹ بنانے کی کوشش میں درجنوں دیہات کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے لئے عذاب بن گیا ہے۔

چند سال پہلے تک تو ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اپنے توسیعی فیزز پر کام کے دوران درمیان میں آجانے والےگاوں کے قدیمی راستوں کو بند نہیں کرتی تھی اور ذرعی اراضی کی خریداری کے لئے ڈی ایچ اے کے دفتر میں ڈائریکٹر لینڈ کی نگرانی میں باقاعدہ ایک خصوصی ڈیسک قائم تھا جہاں زمینوں کے مالکان آ کر اپنی زمین فروخت کرنے کے لئے رابطہ کرسکتے تھے ۔ لیکن اب ڈی ایچ اے لاہور کے بعض افسران نے قبضہ مافیا سے مل کر درجنوں دیہاتوں کے رہائشیوں کی زندگی عزاب کردی ہے۔ ڈی ایچ اے کے دفتر میں لینڈ پرچیزنگ کا شعبہ تو اب بھی قائم ہے لیکن وہاں کسی زمین مالک کی شنوائی نہیں ڈی ایچ اے کو صرف ڈی ایچ اے کے افسروں کے چہیتے ٹاوٹ ہی زمین فروخت کرسکتے ہیں۔ اب طریقہ کار یہ ہے کہ جن علاقوں کوڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کی اسکیم میں شامل کرنا مقصود ہو وہاں ڈی ایچ اے کے افسروں کے ٹاوٹوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔ جو پہلے تو ان لوگوں سے زمین خود خرید کرتے ہیں جو خود سے اپنی زمین انہیں فروخت کرنے کے لئے راضی ہوں اور جو لوگ براہ راست ڈیفنس ھاوسنگ اتھارٹی کو زمین فروخت کرناچاہتے ہوں انہیں پہلے تو اتھارٹی کے دفتر میں چکر لگوائے جاتے ہیں اور اسی دوران ڈی ایچ اے کے ان ٹاوٹوں کی طرف سے ان کی اراضی پر کوئی اعتراض لگوا دیا جاتا ہے یا سٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو مجبور کرکے انکی زمین سستے داموں خریدی جاتی ہے۔ اور وہ زمین پھر ڈی ایچ اے کے افسروں کے ٹاوٹ خود خرید کر ڈیفنس ھاوسنگ اتھارٹی کو فروخت کرتے ہیں۔ ان کے اس “منافع” میں ڈی ایچ اے کے افسروں کا بھی حصہ ہوتا ہےاس کے بعددب اری رہ جاتی ہے گاوں کےمشترکہ کھاتے کی زمین کی جیسے گاوں کا تالاب قبرستان یا کھلی جگہ وغیرہ۔ قبضہ گروپ کے ارکان ڈی ایچ اے کے افسروں کی مدد و معاونت سے ایسی جگہوں پر قبضہ کرتے ہیں اور محض قبضے کی بناء پر وہ زمین ڈیفنس ھاوسنگ اتھارٹی کو فروخت کرتے ہیں اس طرح ڈی ایچ اے کے بدعنوان افسران اور قبضہ مافیا خوب اپنے ہاتھ رنگتے ہیں۔

بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اب ڈی ایچ اے اور اس کے ٹاوٹ ہمارے رہائشی گھروں پر بھی قبضہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم لوگوں نے چاروناچار اپنی اراضی تو ڈی ایچ اے کے افسروں کے تاوٹوں کے حوالے کردی، لیکن اپنے مکانات جہاں ہم اپنے آباو اجداد کے دور سے رہ رہے ہیں اور ہمارے بزرگوں کی نشانیاں ہیں کیوں ان لوگوں کو دیں۔ کوئی ہمیں کیسے ہماری چھت سے محروم کرسکتا ہے؟ جس کے ہم جدی مالک ہیں اور قیام پاکستان سے پہلے سے یہاں رہائش رکھے ہوئے ہیں۔ اب ہمیں ہمارے گھروں سے محروم کرنے کے لئے ڈی ایچ اے ہمارے دیہاتوں کو ارد گرد سےگھیرے میں لینے کے بعد ہمارے راستے بند کررہا ہے۔ وہ قدیمی راستے جولینڈ ریکارڈ کےمطابق محکمہ مال پنجاب یا محکمہ انہار کی ملکیت ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ 11 اکتوبر 2018 کو پیش آیا جس میں گاوں جھلار پیر بخش کے ساتھ واقع راجباہ کھیرا پر بنے پل کو گرانے کے لئے ڈی ایچ اے کی سیکورٹی اور نجی بدمعاشوں نے حملہ کیا۔ جب کہ ہم لوگوں نے محکمہ انہار پنجاب سے باقاعدہ این او سی لینے کے بعد پل تعمیر کیا تھا۔ ہم نے پولیس کو اطلاع کی تو پولیس نے ہمارا موقف سننے اور ہماری طرف سے ڈاکومنٹس دکھانے کے بعددونوں فریقن کو دوپہر دو بجے تھانہ پہنچنے کے لئے کہا۔ ہم لوگ وقت مقررہ پر تھانے پہنچ گئے تو ہماری تھانے موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈی ایچ اے کے سیکورٹی انچارج اور دیگر 50 کے قریب باوردی اہلکاروں اور 20 کے قریب سول کرائے کے غنڈوں کےہمراہ گاوں پر دھاوا بول دیا اور بزرگوں سمیت گاوں میں جو بھی نظر آیا اس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور بھاری مشینری کی مدد سےراجباہ کا پل گرانے کی کوشش کی۔ جب ہمیں تھانے میں اطلاع ملی اور ہم موقعے پر پہنچے تو دیکھا کہ ڈی ایچ اے کے ڈنڈہ بردار اہلکاروں نے گاوں کی ناکہ بندی کررکھی تھی۔ ہمارے پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد جب ڈیفنس سی پولیس اور 15 ایمرجنسی سکواڈ موقعے پر پہنچا تو ڈی ایچ اے کے افسران موقعے سے فرار ہوگئے۔ اس ظالمانہ تشدد سے محمد اشرف عمر 75 سال کا سر پھٹ گیا۔ 5 نوجوان زخمی ہوگئے اور سکندر نامی شخص کو انہوں نے مار مار کر ادھ موا کرکے نہر میں پھینک دیا جو اس وقت بھی انتہائی نگداشت کے یونٹ میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے. اس واقعہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کےبعد ڈی ایچ اے کے افسروں نے ایک اہلکار کو جعلی طور پر زخمی کرکے پولیس کے سامنے پیش کردیا کہ یہ دیہاتیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔ جب کہ اصل میں ڈی ایچ اے کے اہلکاروں کی فائرنگ سے علاقے میں ایک گھنٹے تک خوف وہراس پھیلا رہا۔ کیا گاوں کےبوڑھے افراد نے فائرنگ کرنا تھی یا ان لوگوں نے فائرنگ کرنا تھی جو پنچائت کے لئے تھانے میں موجود تھےا ور فوری موقعے پر پہنچے۔ اس سے قبل بھی ڈی ایچ اے اپنی پرتشدد کاروائیوں میں جعلی طور پر ڈی ایچ اے کے اہلکاروں کو جعلی طور پر زخمی کرکے پیش کردیتا ہے۔ جس کی تصدیق ڈی ایچ اے کی طرف درج کروائی گئی تمام ایف آئی آرز سے ہوسکتی ہے جس کے مطابق ہر واقعے میں گولی یا تو سیکورٹی اہلکار کی گردن کو چھو کر گزرتی ہے ، کبھی بازو کو چھو کر گزرتی ہے تو کبھی ٹانگ کو چھو کر گزرتی ہے۔ کیا ہر مرتبہ گولی نے چھو کر ہی گزرنا ہوتا ہے؟

ہماری ارباب اقتدار واختیار سے گزارش ہے کہ ڈی ایچ اے نے جو اردگرد کے دیہاتوں میں ظلم و جبر کا بازا ر گرم کر رکھا ہے اور اپنے آبائی گھروں میں رہائش رکھنے سے روکا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں خصوصی طور پر نوٹس لے کر دار رسی کی جائے اور ظلم وجبر کے اس سلسلہ کو فی الفور بند کروایا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں