637

قوم سے خطاب میری ذاتی معلومات پر مشتمل نہیں تھا، نوازشریف نے قومی اسمبلی کے خطاب پر استثنی مانگ لیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں عدالت کی طرف سے دئیے گئے پچاس میں سے 44سوالات کا تحریری جواب جمع کرادیاہے،عدالت نے مزید ایک سو سوال نواز شریف کے حوالے کر دئیے ہیں،342کے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ٹیکس گوشواروں میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کرچکا ہوں ،آئین کے آرٹیکل 66کے تحت قومی اسمبلی میں میری تقریر کو بطور ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا، قوم سے خطاب میری ذاتی معلومات پر مشتمل نہیں تھا۔ نوازشریف نے روسٹرم پر آکر عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جواب ریکارڈ کا حصہ بنوائے، نواز شریف نے اپنے جواب میں بتایا کہ انہوں نے استغاثہ کے شواہد کو دیکھ لیا، سن لیا اور سمجھ لیا ہے۔ 12اکتوبر 1992میں مارشل لا نافذ کردیا تھا جس کے بعد سے 2013تک کوئی بھی عوامی عہدہ اپنے پاس نہیں رکھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ عوامی عہدوں پر رہنے کے باعث شریف خاندان کے سب سے بااثر شخص تھے، جس پر مسلم لیگ (ن)کے قائد نے اس کی تردید کی۔سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ مذکورہ رائے تفتیشی افسر کی ہوسکتی ہے، لیکن میرے والد میاں شریف اپنی آخری سانس تک ہمارے خاندان کے سب سے بااثر شخص تھے۔اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ عدالت میں پیش کیے گئے ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیٹمنٹس اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن انہوں نے ہی جمع کروائے تھے۔نواز شریف نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کے گوشواروں سے متعلق جواب دینے کا مجاز نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہل میٹل سے 59ملین کی رقم براہ راست میری بیٹی مریم صفدر کے اکاونٹ میں آنے سے متعلق نہیں جانتا، نیب کے طلبی کے نوٹسز آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ قومی اسمبلی میں تقریر اور قوم سے خطاب میں العزیزیہ اور گلف سٹیل سے متعلق جو باتیں کیں وہ سنی سنائی باتیں تھیں۔ آئین کے آرٹیکل 66کے تحت فلور آف دی ہاوس پر کی گئی تقریر کو عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ گلف سٹیل کے قیام اور فروخت میں میرا کردار نہیں رہا،نواز شریف کے معاون وکیل زبیرخالد نے عدالت سے استدعا کی کہ میاں صاحب نشست پر بیٹھ جائیں ہم جواب تحریرکرا دیتے ہیں جس پر جج ارشد ملک نے کہا کہ اگرجواب یو ایس بی میں ہیں تو جمع کرادیں۔ عدالت نے نواز شریف سے جواب کی کاپی لے کر اسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی، نواز شریف کو تین گھنٹوں کیلئے جوڈیشل کمپلکس سے جانے کی اجازت دی گئی جس کے بعد وہ تین بجے دوبارہ پیش ہوئے اور ریکارڈ ہونے والے بیان کے گیارہ صفحات پر دستخط کیے، نواز شریف کے جواب میںوکیل صفائی نے ترمیم کرانی چاہی تو جج ارشد ملک نے کہاکہ یہ یاد رکھیں 342 کابیان ملزم کا بیان ہوتا ہے آپ اس میں تبدیلی نہیں کروا سکتے، جج ارشد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مہلت کے لیے بھجوائے جانے والی درخواست کے ساتھ یہ بیان بھی لگا کر بھیجیں گے، نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 44سوالات کے جوابات دیے ہیں جب کہ استدعا کی کہ باقی 6سوالات کے جوابات وہ اپنے وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دیں گے جس کے لیے وقت دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سوال نامے میں کچھ سوالات پیچیدہ ہیں جن کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔ جو سوال تسلی بخش نہیں ہوں گے وہ دوبارہ لکھوانے پڑیں گے،تشنگی باقی رہ جاتی ہے تو دوبارہ پوچھ لوں گا، بیان شروع ہونے سے پہلے نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے چند سوالوں میں درستگی کی استدعا کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں