379

سڑک کنارے…….. یاسر رضا آصف

تحریر: یاسر رضا آصف

میری نوکری کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ روزانہ ہی سفر کرنا پڑتا ہے ،چلچلاتی دھوپ اور کڑکڑاتی سردی میں سفر کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ یہ سردیوں کی ایک شام تھی۔ دھند چاروں جانب اپنی آمریت قائم کررہی تھی اور میں اڈے پرکھڑا وین کا انتظار کررہا تھا۔ ایسے ماحول میں ذہن کو آزاد چھوڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ وقت گزرنے کا احساس نہ ہو۔ انسان بھی وقت گزری کے لیے کیسے کیسے بہانے تراش لیتا ہے۔ انتظار کی حالت میں ایک ایک سیکنڈ ہتھوڑے کی طرح سرپر ضربیں لگانے لگتا ہے۔ اس دن بھی کیفیت کچھ ایسی ہی تھی۔
ساہیوال سے پاکپتن کے لیے وینوں کا نظام رائج ہے۔ لوکل بس بھی جاتی تو ہے مگر اس کی رفتار اتنی سست ہے کہ سوار ہونے کی ہمت نہیں پڑتی۔ لہٰذا وین کا انتظار ہی بہتر انتخاب ہے۔ ایک وین میں پندرہ سواریوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن ڈرائیور اور اڈے کی انتظامیہ کمال مہارت سے بیس سے بائیس سواریاں ٹھونسنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس شام تقریبا تین گاڑیوں کی سواریاں منتظر تھیں۔ ایسے حالات میں بڑی تگ ودو کے بعد سیٹ ملتی ہے۔ خیر اب میں اس کام میں ماہر ہوگیا ہوں۔ وین آئی تو لوگ مقناطیسی کشش کے تحت اس کی طرف کھنچے چلے گئے۔ دھکم پیل شروع ہوگئی میں نے بالآخر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر قبضہ جمالیا۔
گاڑی چلی تو سوچ کا تانابانا دوبارہ جوڑ لیا۔ سفر میں سوچنے کا وقت مل جاتا ہے۔ کئی ادھوری غزلیں اور کئی افسانوں کے پلاٹ سفر کے دوران ہی مکمل ہوء ۔ ساہیوال سے پاکپتن کا رستہ پینتالیس کلومیٹر پر مشتمل ہے ۔ دورویہ سڑک کی وجہ سے ڈرائیونگ کافی حد تک آسان ہے مگر موسم کی خرابی کی صورت میں مشکل اور خطرناک ہوجاتی ہے۔ دھند آہستہ آہستہ مناظر پر سفید چادر پھیلارہی تھی۔ ڈرائیور نے سپیڈ بڑھارکھی تھی تاکہ صاف موسم میں جس قدر ہوسکے فاصلہ طے ہوجائے۔ ساہیوال بائی پاس کو پارکرنے کے بعد چند گھر اور کچھ دکانیں آتی ہیں۔ چند میلوں کے بعد کھیتوں اور کھلیانوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں اکا دکا مکانات بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ فطرت کی سچی اور کھری تصویریں پیش کرتا ہے۔ میری کوشش زیادہ تر یہی ہوتی ہے کہ کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ ملے تاکہ سارے رستے فطرت سے ہمکلامی کرتا رہوں۔ سفر میں اکثرلوگ سوجاتے ہیں ، کچھ موبائل کی دنیا میں غرق ہوجاتے ہیں۔ کچھ موسیقی کے مزے لیتے ہیں مگرمجھے نہ تو نیند آتی ہے نہ موبائل ہی اچھا لگتا ہے ۔میری نگاہ باہر کے بدلتے ہوئے مناظر پر ہوتی ہے۔ کچے پکے مکانات ، لوگوں کی چہل وپہل، فصلوں کی ہریالی اور درختوں کی قطاریں یہ سب کچھ اندر کی گھٹن کم کرنے میں کسی حد تک معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہلکی ہلکی دھند کے باعث اردگرد کا ماحول خواب کا سا منظر پیش کررہا تھا جیسے ابھی یہ گاڑی کسی ان دیکھے جزیرے تک لے جائے گی۔
ضلع پاکپتن کی حدود میں داخل ہوتے ہی دوجگہ سے سڑک سانپ کی مانند بل کھاتی ہے۔ ایک موڑپر اینگرو فوڈ اینڈ کمپنی نے اپنی فیکٹری لگا رکھی ہے تو دوسرے موڑ پر پٹرولنگ کی چیک پوسٹ ہے جس کے سامنے مخالف سمت پر حضرت خواجہ محمدصادق ؒ کا مزار ہے سڑک پر نصب سنگ میل کے مطابق یہ جگہ ساہیوال سے 17کلومیٹر دور ہے۔ اُس روز جب گاڑی ٹھیک پٹرولنگ چوکی کے پاس پہنچی تو ڈرائیور نے گاڑی ایک طرف لگادی۔ سواریاں نیچے اترنے لگیں۔ میں بھی اتر آیا۔ لوگوں کا جھرمٹ تھا اور درمیان میں ایک لاش پڑی تھی۔ جوتی سے محروم پاؤں، پھٹا پرانا لباس اور بے ترتیب داڑھی اس کے دیوانہ ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔ پٹرولنگ کے سپاہی نے بتایا کہ یہ ملنگ صبح سے ادھر ادھر جارہا تھا۔ کبھی سڑک کے پار چلاجاتا تو کبھی اس طرف آجاتا۔ ہم نے کئی مرتبہ اسے پکڑ کر سڑک سے پرے دھکیلا مگر یہ باز نہیں آیا۔ ہم لوگ کھانا کھارہے تھے کسی گاڑی کے بریک لگنے کی آواز گونجی جسمیں ایک چیخ بھی شامل تھی جس نے ہمیں باہر نکلنے پر مجبورکردیا۔ دیکھا تو یہ جوان تڑپ رہا تھا۔ آدھا چہرہ زخمی اور مسخ ہوچکا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹھنڈا ہوگیا۔ کا کا نمبر پیچھے آنے والی گاڑی سے معلوم ہوگیا ہے۔
ملنگ کے چہرے پر ضرب کا نشان تھا۔ خون سڑک پر پھیلا ہوا تھا اور جم رہا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ سینے پر تو دوسرا ہاتھ پیچھے کی جانب لڑھک سا گیا تھا۔ جس پر موجود چیتھڑوں نے بمشکل ستر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ باقی وجود پر اتنی سردی کے باوجود دھجی نما کپڑا تھا۔ واپسی پر سواریوں نے طرح طرح کی رائے دینا شروع کردی۔ لیکن میرا ذہن ان کے کہے ہوئے الفاظ کامفہوم سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس وقت تمام آوازیں محض شور کی صورت تھیں ایسا شور جس کامعنی اور مفہوم شاید ہوتا ہی نہیں۔
گھر پہنچ کر حسب معمول کھانا کھایا مگر اس دن عجیب سی بے بسی اور کوفت نے مجھے گھیر رکھا تھا۔ چند لقموں کے بعد ہی جی اوب گیا۔ میں روز اپنے بیٹے سے چہلیں کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ کھیلتا ہوں، اس کی باتیں سنتا ہوں اور توتلی آواز کے مزے لیتا ہوں لیکن اس دن ایک خاموشی چھائی رہی میری عادت ہے کہ رات کا کھانا کھا کر چہل قدمی لازمی کرتا ہوں۔ رابطہ کرنے پر کوئی نہ کوئی دوست مل ہی جاتا ہے نہ ملے تو تنہا ہی پاکپتن کی سڑکیں ماپنے نکل جاتا ہوں۔ یوں ذہنی انتشار تھوڑا کم ہوجاتا ہے۔ اس روز دوستوں کے رابطہ کرنے کے باوجود میراجی نہیں چاہا۔ جلد ہی خود کو بستر کے سپرد کردیا جیسے ہی آنکھیں بند کیں وہ ملنگ اپنی لاش سمیت حاضر ہوگیا۔ بہر حال تھکاوٹ وقتی کیفیت پر غالب آگئی اور میں سوگیا۔
پھر وہی معمول کا سلسلہ چل نکلا اور حادثے کی بات آئی گئی ہوگئی۔ چوں کہ میری نوکری کا دورانیہ شام کا ہے اس لیے گھر سے گیارہ بجے کے بعد ہی نکلتا ہوں۔ مجھے دوکتابیں جناح لائبریری ساہیوال میں واپس کرنی تھیں اس لیے دس بجے کے قریب ہی گھر سے نکل آیا۔ سردیوں کی دوپہریں بھی کتنی شاندار ہوتی ہیں دھوپ مناظر میں زندگی بھر دیتی ہے۔ ٹنڈ منڈ اشجار کے پس منظر میں ہری بھری فصلیں اداسی اور خوش دلی کا ملا جلا تاثر پیش کرتی ہیں۔ میں ایسے ہی مناظر میں کھویا ہوا تھا۔ ساہیوال سے تقریباً بیس کلو میٹر پہلے وین کی اچانک بریک لگی سڑک پا بے تحاشا لوگ تھے۔ جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ڈنڈے تھے۔ ان میں کچھ نہتے بھی تھے ایک شور برپا تا۔ ’’انصاف دو۔ انصاف دو۔ خون کا حساب دو‘‘ ہماری گاڑی ٹریفک جام کا حصہ بن گئی۔ آہستہ آہستہ ہمارے پیچھے قطار بڑی اور لمبی ہونے لگی۔ اس وقت مجھے شدت سے احساس ہوا کہ چلتی سانسیں اور رواں دواں ٹریفک دراصل زندگی کی علامت ہیں۔ ڈرائیور اترا اور حالات کا جائزہ لینے چلا گیا تھا۔بڑبڑاتی ہوئیں ، قسمت اور نظام کو کوستی ہوئیں کچھ سواریاں بھی اتر آئیں ۔ ان میں ایک میں بھی تھا۔ میں چیختے چلاتے اور چنگھاڑتے ہوئے چہروں کو بڑے انہماک سے دیکھنے لگا۔ کچھ درخت کاٹ کر سڑک پر پھیلائے گئے تھے۔ پرانے ٹائروں کو جلایا گیا تھا۔ جن کا سیاہ اور بدبودار دھواں منظر کو خوفناک اور دہشت زدہ بنائے ہوئے تھا۔ دھیرے دھیرے ہجوم کی لہروں میں سکون پیدا ہونے لگا۔ آوازیں دھیمی ہوتے ہوتے خاموش ہونے لگیں۔ ڈرائیور ہجوم سے اپنا آپ بمشکل کھینچ کر باہر لایا۔ ’’کیا ماجرا ہے؟ کچھ ہمیں بھی بتاؤ‘‘ میں نے ہاتھوں کو حرکت دے کر سوالیہ انداز میں کہا ’’ہونا کیا ہے باؤ جی! کچھ ہفتے پہلے ایک ملنگ نہیں مرگیا تھا‘‘ ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے بولا ’’پٹرولنگ چوکی کے سامنے‘‘ میری دلچسپی بڑھنے لگی باقی لوگ بھی ڈرائیور کے قریب آگئے ۔ ’’پھر۔۔۔۔؟‘‘ ایک اھیڑ عمر شخص نے اتنا زور دے کر کاہ کہ اس کی سیاہ وسفید بڑی بڑی مونچھیں ہوا سے تھر تھراگئیں ’’وہ اس ملن کے رشتہ دار اور گاؤں والے ہیں۔ انصاف مانگ رہے ہیں کسی زمیں دار کے بیٹے کی گاڑی تھی۔ اب ڈی ۔ پی۔ او صاحب آگئے ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے!‘‘ سب کے چہرے متفکر ہوگئے کہ خداجانے کیا ہوجائے۔ میرے چہرے پر عجیب سی مسکان تھی۔ اندر جیسے روشنی پھیل گئی تھی۔ ایک امید سی بندھ گئی تھی۔ اچانک ہی مجھے سب کچھ خوشگوار محسوس ہونے لگا۔ ناگواری کی کیفیت خوش دلی میں بدل چکی تھی۔
حضرت بابا فریدؒ کے عرس سے قبل ہی زائرین کی آمد کا سلسلہ شروع جاتا ہے۔ یہ آمد بہشتی دروازے کے کھلنے تک جاری رہتی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے لوگ واپس پلٹنے لگتے ہیں جب زائرین آرہے ہوتے تو ساہیوال سے پاکپتن آنے کے لیے آپ کو وین میں جگہ ملنا کسی کرامت سے کم نہیں ہوتا۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے۔ وینوں کے اڈے پر ایک بپھرا ہوا ہجوم تھا۔ وین آتی تھی لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹ جاتے تھے۔ میں نے بار بار سوار ہونے کی کوشش کی مگر ماہر ہونے کے باوجود ناکام رہا۔ آخر کا ایک ڈرائیور کی مانوس شکل دکھائی دی اس کو اشارہ کرنے پر میری نشست کا بندوبست ہوگیا۔ ڈرائیور کا تعلق پاکپتن سے تھا۔
میں ڈرائیور کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے گاڑی کو حرکت دی، جب وین ردھم میں آئی تو ڈرائیور نے سگریٹ سلگالی ’’باؤجی! یہ گاڑی آج تین دن کے بعد اپنی ترنگ میں آئی ہے‘‘ وہ کھڑکی سے باہر راکھ جھاڑتے ہوئے بولا ’’ا س کی کوئی خاص وجہ؟‘‘ میں نے استفسار کیا۔ وہ بدستور سامنے دیکھتے ہوئے بولا ’’انسانوں کی طرح لوہا بھی پیار مانگتا ہے۔ میں پندرہ دنوں کے لیے گاؤں گیا ہوا تھا ناراض ہوگئی تھی۔ اب جاکے ہمارے صلح ہوئی ہے‘‘ وہ بات کرتے ہوئے پیار سے سٹیرنگ پر ہاتھ پھیررہا تھا۔ ہم دونوں ایک ساتھ مسکرنے لگے۔ میں بے اختیار سوچنے لگا کہ کیا واقع ہی چیزیں بھی انسان کی موجودگی اور اپنائیت کو محسوس کرتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بیٹھی دوسری سواری حیران ہوکر ہماری باتیں سن رہی تھی۔
وین پٹرولنگ چوکی کے پاس سے گزری اور مکمل سانحہ اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ میرے سامنے آگیا ’’اس ملنگ کے حادثے کا کیا بنا؟‘‘ میں نے سرسری طور پر پوچھا ’’بننا کیا تھا باؤ جی! سنا ہے پینتیس چالیس لاکھ دے کر لواحقین کا منہ بند کردیا گیا ۔ پیسے میں بڑی طاقت ہے بادشاہو‘‘ آخری جملہ اس نے زور دے کر کہا تھا۔ میرے کانوں میں جیسے پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا گیا تھا۔ مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ نہ جانے اس کے بعد کیا کچھ کہتا رہا اور میں ’’ہوں، ہاں‘‘ کے علاوہ کچھ جواب نہ دے سکا۔ میری سوچ ایک ہی بات پر اٹک گئی یعنی وہ احتجاج محض رقم وصول کرنے کے لیے تھا جسے میں انصاف کا نام دے بیٹھا تھا۔
سڑک کے کنارے لگے درخت پیچھے کی جانب بھاگ رہے تھے۔ سڑک کسی کارپٹ کی طرح گاڑی کے نیچے سے پھسلتی جارہی تھی۔ میں اورمیرا وجود ساکن تھے مگر زمین پاؤں تلے سے مسلسل کھسکتی جارہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سڑک کنارے…….. یاسر رضا آصف

  1. کچھ روز پہلے کسی شاعر کا ایک شعر نظروں سے گزرا تھا جس کا دوسرا مصرعہ کچھ یوں تھا کہ”بیٹے کی شکل باپ سے تو ملے” بلکل اسی مصرعے کے مصداق یاسر رضا آصف صاحب کا یہ افسانہ ان کی آنکھوں دیکھی داستان ہے۔
    منظر اور کردار کو روایتی انداز میں گھڑنے کی بجائے حقیقت پسندی سے کام لیا گیا ہے۔

  2. ابھی ابھی میری نظر سے ” سڑے کنارے ” گزرا ، میری اس پر رائے یہ کہ اس افسانے پر اگر بات نہ کی گئی تو مصنف کے ساتھ ناانصافی ہو گی، مصنف کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، جو اس گھٹن زدہ ماحول اور معاشرے کے دوغلے پن کو قاری کے سامنے لاتا ہے، یقین مانئیے ہم اک بے حس قوم ہو چکے ہیں، ایک شخص کی موت کو ہم کیش کرتے ہیں، ہم فتنوں کے جس دور میں ہیں یہاں کچھ بھی ممکن ہے،
    دوسری بات،” سڑک کنارے ” مصنف نے جو واقعے کے ساتھ منظر کشی کی ہے، دلپزیر ہے، ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے سامنے یہ ہو رہا ہے، منظر کشی کی دلفریب تحریر کوٹ کر رہا ہوں،
    “”سردیوں کی دوپہریں بھی کتنی شاندار ہوتی ہیں دھوپ مناظر میں زندگی بھر دیتی ہے۔ ٹنڈ منڈ اشجار کے پس منظر میں ہری بھری فصلیں اداسی اور خوش دلی کا ملا جلا تاثر پیش کرتی ہیں””
    نوٹ : مجھے ذاتی طور پر ایسا لگا ہے، میں نے آج تک جتنے بھی افسانے پڑھے وہ الگ بات مگر اس نوعیت کا آج تک نہیں پڑھا
    سب سے آخر میں بریلینٹ والوں کا اور آپ کے تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا نہ کیا تو یہ بھی گستاخی ہو گی، کیوں کہ آپ کی ہی بدولت قاری تک مصنف، شاعر، ادیب کی بات پہنچتی ہے،
    بہت خوش رہیں، اور اللہ پاک آپ کو سچ چھاپنے اور سچ پر قائم و دائم رہنے کی توفیق دے، آمین،
    راشد قیوم انصر

اپنا تبصرہ بھیجیں