304

اسلام نے نشہ کو قطعی طور پر منع فرمایا ہے،اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے. محمد فاروق بھٹی

پاکپتن(وقار فرید جگنو سے)اسلام نے نشہ کو قطعی طور پر منع فرمایا ہے اس کے باوجود یہ ہمارے معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ان خیالات کا اظہارمحمد فاروق بھٹی سینئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول 27ایس پی بٹینگہ میں گذشتہ روز انجمن فلاح مریضاں اور ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام سکول میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ممتاز روحانی شخصیت پیر شاہ مقیم بخاری نے کہا کہ والدین، اساتذہ، علمائے کرام، سول سوسائٹی کو مل کر اس کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔حکیم لطف اللہ جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے کہا کہ تمباکو نوشی تمام نشوں کی ماں ہے اور یہ 13 سے زائد قسم کے کینسر پیدا کرنے کا سبب ہے۔ ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے کہا کہ دنیا میں ہر سال 60لاکھ افراد اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں 6لاکھ افراد ایسے بھی شامل ہیں جو خود تو تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن تمباکوکے دھوئیں سے بالواسطہ متاثر ہوتے ہیں۔ وقار فرید جگنو صدر پریس کلب پاکپتن نے کہا کہ نشہ کی کئی اقسام ہیں اور اس کو پھیلانے، بیچنے والے ہمارے معاشرہ کا ناسور ہیں ہمیں ان کا ناطقہ بند کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔ حاجی محمد اقبال نمبر دار نے بتایا کہ اس کا اپنا سگا بیٹا نشہ کی عادت کا شکار ہوکر اس دنیا سے کوچ کرچکا ہے اور اس گاؤں کے 7نوجوان اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس موقع پرڈاکٹر اظہر حسین، اساتذہ کرام، سکول کے طلبہ اور والدین واہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور عہد کیا کہ وہ اس عفریت کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں