282

یونیورسٹی آف ساہیوال شہر میں موجودہ اعلی تعلیم کے اداروں میں ایک منفرد حیثیت کا تعلیمی ادارہ ہے. عارف انور بلوچ کمشنر ساہیوال

ساہیوال (خصوصی رپورٹ)کمشنر ساہیوال ڈویژن عارف انور بلوچ نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے میں اعلی تعلیم کے فروغ اور طلبا و طالبات کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے یونیورسٹیوں کو تمام ضروری سہولیات ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنارہی ہے جس سے دوردراز علاقوں کے ذہین طلبا و طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہتر مواقع دستیاب ہونگے۔یونیورسٹی آف ساہیوال شہر میں موجودہ اعلی تعلیم کے اداروں میں ایک منفرد حیثیت کا تعلیمی ادارہ ہے جسے مزید بہتر بنانے کے لئے فنڈز کی دستیابی کو ممکن بنایا جائے گا ۔انہو ں نے یہ بات یونیورسٹی کے تفصیلی دورے کے دوران کہی جس میں انہوں نے یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور مسائل سے آگہی حاصل کی ۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد ناصر افضل ،ڈاکٹر شفیق حسین اور اسسٹنٹ کنٹرولر سید غلام علی اصغر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔انہو ں نے یونیورسٹی کے نئے ترقیاتی منصوبے کی جلد منظوری کی بھی یقین دہانی کرائی ۔وائس چانسلر ڈاکٹر محمد ناصر افضل نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 8شعبوں بی بی اے ،کمپیوٹر سائنس،انگلش،اکنامکس ،لاء،کیمسٹری اور فزکس میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں جن میں اڑھائی ہزار سے زائد طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں تاہم فکلیٹی نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں مزید اکیڈمک بلاکس کی تعمیر اور نئے تعلیمی شعبے شروع کرنے کے لئے ترقیاتی منصوبہ تیار کر لیا گیاہے جس پر ایک ارب کی خطیر رقم صرف ہو گی ۔انہو ں نے یونیورسٹی کی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے 35ایکٹر مزید زمین فراہم کئے جانے کے کیس کی جلد منظوری کا بھی مطالبہ کیا جس پر کمشنر نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کو جلد پراسیس کروائیں گے ۔وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی آف ساہیوال کو علاقے کی ضروریات کے مطابق ایک بہترین یونیورسٹی بنانے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں اور ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کئے جائیں گے۔کمشنر عارف انور بلوچ نے وائس چانسلر کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔بعد میں کمشنر نے یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کیا اور ایڈمنسٹریشن بلاک کے لان میں ایروکیریاکا یادگاری پودا بھی لگایا۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں