354

”روٹی“ (تحریر: در نجف)

تحریر: در نجف….سرگودھا

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

”آج بھی وہ اپنی لاش گھسیٹتے ہوئے ،بڑی مشکل سے اپنی جھگی تک پہنچی تھی، میلے کچیلے کپڑوں سے دور سے ہی بو آ رہی تھی، جو اسے خود بھی ناگوار لگ رہی تھی ،دھونے کو صابن نہ تھا.

” سوچا آج لے گی، مگر چلا ہی نہیں گیا، بمشکل قدم گھسیڑتی شاپر پکڑے جھگی میں داخل ہوئی، جہاں ایک چار پائی بچھی تھی جو کنڑ ہیوں کے بان سے بنی تھی اور اس خیال سے بنی گئی تھی کہ جلدی نہ ٹوٹے بھلے جسم میں کانٹے بن کر چبھتی رہے.

” جس پر اس کی چھ سال کی بچی پیٹ پر ہاتھ دھرے سو رہی تھی، شاید بھوکی تھی، ماں کا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی، اس جھگی میں مختصر سا سامان تھا، چند برتن جو اک سائیڈ پر اینٹوں سے بنی زمین پر ہی شیلف ٹائپ بنائی گئی تھی پر پڑے تھے۔

”ایک چھوٹا سا ٹرنک تھا ،جو زنگ آلود تھا، جو چیزیں اور کپڑے رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا،

”مٹی کی دیوار پر کیل پر ٹنگی لالٹین جو تیل نہ ہونے کی وجہ سے بجھی رہتی تھی، دکھ بے بسی لاچارگی کے آئینے ہر جگہ ٹنگے نظر آتے، جس میں وہ اپنا آپ روز دیکھتی، اور مسکرا کر خوشی کے منہ پر طمانچہ دے مارتی۔

”شمع۔۔۔۔شمع ۔۔۔۔۔اٹھ جا، لے میں تیرے واسطے کھانا لے آئی اٹھ پتر کھا لے۔۔۔۔۔

”شمع“ آنکھیں ملتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔اماں بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔

” اور اس نے اپنے کھردرے ہاتھوں میں لٹکا شاپر شمع کے آگے رکھ دیا، جسے شاید وہ بھیک مانگ کر لائی تھی۔

شمع نے جلدی جلدی شاپر کھولا، جس میں ایک پلیٹ چاول تھے وہ اپنے چھوٹے سے ھاتھ کی مٹھی بھر بھر کے کھانے لگی۔

”حمیدہ اسے پیار سے دیکھنے لگی“ نیلی آنکھوں میں معصومیت سموئے، گڑیا جیسی، کاش تجھے زمانے بھر کی خوشیاں دے سکتی، تجھے پڑھاتی، لکھاتی،
”وہ اسے دیکھ دیکھ کر اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
”پر ہائے ری قسمت“ اس جھگی سے غربت کے جالے اتارتے اتارتے موت کے کنارے پر آ بیٹھی ہوں۔

”شمع کھانا کھا رہی تھی، اور وہ یادوں کی بھول بھلیوں میں کھو گئی۔۔۔۔

”ماشاءاللہ“ بڑی سوہنی لگ رہی ہے تو، شادی مبارک ہو، اور نئی جھگی بھی، سچ بڑی قسمت والی ہے، نہ ساس، نہ نند، بشیرا کلا ہی کلا ہے، اپنی مرضی کی مالک ہو گی،

”نہ رجو“ تو کیوں دکھ کر رہی ہے، یا اپنا رونا رو رہی ہے، حمیدہ کی ماں نے رجو کو ٹوکتے ہوئے کہا۔

”رجو“ حمیدہ کی بچپن کی سہیلی تھی، تین سال پہلے اس کی شادی ہو گئی تھی، بھرے پرے خاندان سے وہ تنگ تھی، سارے ہی بھیک مانگتے تھے، جو اسے برا لگتا تھا ۔

”نہیں نہیں ماسی ایسی گل نہیں ہے میں تو اس کی قسمت پر رشک کر رہی تھی۔

”اور وہ “سرخ جوڑا ڈالے شرمائی لجائی بیٹھی تھی،

”اللہ دتہ سے اسکا نکاح ہو گیا تھا، اللہ دتہ حمیدہ کا خالہ زادتھا، بچپن میں ہی ماں گزر گئی، اور باپ نشے کی نذر ہو گیا، جیسے ہی جوان ہوئے، حمیدہ کا اور اللہ دتے کا نکاح ہو گیا۔

۔”اللہ دتہ“ اچھی سوچ کا حامل شخص تھا، وہ ہوٹل پہ کام کرتا تھا،
”حمیدہ اور اسکی ماں کا وہی خیال رکھتا تھا، اسے بھیک مانگنا اچھا نہیں لگتا تھا نہ حمیدہ سے بھیک منگواتا تھا شادی کے بعد حمیدہ کی ماں چل بسی:۔

”اللہ دتہ“ اور وہ باقی دور پار کے رشتے داروں کے ساتھ ہی رہتے، دس کے قریب جھگیاں تھیں، یوں سارا دن وہ کام کاج میں لگی رہتی، اور اللہ دتہ رات گئے گھر آتا، اپنی زندگی سے دونوں خوش تھے، اور یہ خوشی اک ننھی گڑیا کے آنے سے اور بڑھ گئی۔

”پھر اک دن“ اللہ دتہ پریشان سا گھر لوٹا، اللہ دتے کیا ہوا ہے تجھے؟ حمیدہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا:۔

”کچھ نہیں“ تو سویرے میرے ساتھ چلنا، ڈاکٹر کے پاس جانا ہے:۔

ڈاکٹر؟ نہ کیوں جانا ہے؟ کیا ہوا ہے تجھے؟ وے بول ناں؟ حمیدہ اب پریشان ہو گئی۔

”حمیدہ“ میرے پیٹ میں پانی پڑ گیا ہے، کالا یرقان ہے مجھے، دن بدن تکلیف بڑھتی جا رہی ہے، آج گیا تھا، سرکاری ہسپتال، انھوں نے جواب دے دیا ہے۔

”حمیدہ بت بنی حیرانگی سے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔

”تو بھی چلیں ساتھ، مجھے بڑی فکر ہے تیری،
” اللہ دتہ منہ پھیرے اس سے باتیں کرتا جا رہا تھا، وہ اپنے آنسو اپنے اندر ہی اتار رہا تھا۔

”صبح “وہ دونوں ڈاکٹر کے پاس گئے، رپورٹ دو دن بعد ملے گی، ڈاکٹر نے دونوں کو دو دن بعد آنے کا کہا۔

”یہ دو دن بڑی مشکل سے گزرے، ایک طرف حمیدہ اللہ دتے کا خیال رکھتی، اسے وقت پر دوائی دیتی، ”مگر“ مرض بڑھتا جا رہا تھا، اس سے بچھڑنے کا خیال اسے کھائے جا رہا تھا۔

”دو دن بعد ڈاکٹر نے بتایا: کہ وہ بھی اس مرض کا شکار ہو چکی ہے، لیکن ہم دوائی دیں گے، تو ٹھیک ہونے کے چانسسز ہیں، اس کی رپورٹ تو بن گئی، لیکن دوائی آنے میں ہفتوں گزر جاتے، دھیرے دھیرے اس کا مرض بڑھتا گیا، سال گزرا تو اللہ دتہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔

”اور حمیدہ“ بے یارو مددگار ہو گئی، سوچنے لگی، کوئی محنت مزدوری کر لے، مگر جہاں جاتی، وہاں انکار ہی سننے کو ملتا،
”اماں“ اماں ،،،،تو بھی کھا لے، شمع نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہا:۔
اور وہ چونکتے ہوئے اپنی یادیں سمیٹتی ہوئی بولی:۔
”نا میری دھی، تو کھا، پیٹ بھر کر کھا۔

”پھر اک دن رجوآ کر پرانے زخموں پر نمک چھڑکنے لگی،،، اب کیا کرے گی میدو، تیرا سائیں بھی گزر گیا، اور بیمار بھی ہے، کیسےگزارہ کرےگی؟

”پیٹ کی دوزخ بھی تو بھرنی پڑے گی، میری بات مان، سویرے میرے نال چل، دونوں بھیک مانگیں گے، گزارہ ہو جائے گا ۔

”رجو“ میں سب جانڑوں ہوں ،تو کیا کرتی پھرتی ہے، بھیک مانگنے کی آڑ میں، نا جی نا، میں نے اپنے سائیں کی عزت کوئی نہیں رولنی۔

”رجو کو تو پتنگے لگ گئے، نہ کیا کرتی ہوں میں ہیں؟ وہ اسی سے استفسار کرنے لگی؟

”کچھ نہیں کرتی تو، ایویں سیاپا نہ ڈال تو، حمیدہ نے اکتاتے ہوئے لہجے میں کہا: کچھ وہ پیٹ درد سے مری جا رہی تھی۔

”ایک تو میں تیرا پتہ کرنے آئی ہوں، اور تو مجھ پر تہمت لگا رہی ہے، تیری کوئی بات ہے کرنے والی۔

”رجو “ رجو میری بات سن ،حمیدہ نے روٹھ کر جاتی رجو کو آواز دی ،اور وہ پلٹ کر تلخ لہجے میں ہاتھ نچاتے ہوئے بولی: کچھ اور سنانے کو رہ گیا تو وہ بھی سنا لے۔
”رجو“ میری طبعیت خراب ہے، آج میں مانگنے نہیں جا سکتی، تو ایسا کر، میری شمع کو روٹی دے دینا، حمیدہ نے ملتجانہ لہجے میں کہا۔

”چل فیر میں تیرے پاس ہی رکتی ہوں، بچوں کو بھیج دیتی ہوں ،کھانا لے ہی آئیں گے، اب پیٹ بھی تو بھرنا ہے نا؟ میں آتی ہوں، رجو جھگی سے باہر نکل گئی ۔

”حمیدہ کے پیٹ کا درد بڑھ گیا، اور وہ تکلیف سے بے حال ہونے لگی، اس نے رجو کو آواز دینا چاھی، ”لیکن اکھڑتی سانسوں سے نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،چند لمحے تڑپتی رہی، پھر ہمیشہ کے لئیے درد سے آزاد ہو گئی۔

”وے ساجو! منی کدھر ہو سارے، رجو نے مٹی میں لت پت کھیلتے بچوں کو پکارا، تین بچے دوڑتے ہوئے آئے، تم سب ناں، کاسے لیکر کھانا مانگ لاؤ، رجو نے انہیں کام سونپتے ہوئے کہا: اور شمو تو بھی جا، اس نے اک نظر شمع پہ ڈالتے ہوئے کہا:

”اور شمع پرجوش سی اثبات میں سر ہلانے لگی، ”جیسے:۔ وہ کسی قید سے آزاد ہوئی ہو ،آج شمع پہلی بار منی اور ساجو کے ساتھ جا رہی تھی ۔
”منی“ جا شمو کو بھی کاسہ دے دے، اور ہاں جو پیسے ملیں، انہیں میرے ہاتھ میں رکھنا ہے، خبردار جو شے شو لئیی تو،
”جاؤاب، منی نے بھاگ کر برتنوں کے ٹوکرے سے اک کاسہ نکال کر شمع کے ہاتھ میں تھما دیا، ۔
”شمع“ ان دونوں کے ساتھ نکل گئی۔

”میدو“اب میں وہیلی ہوں، تیرے پاس ہی بیٹھوں گی، رجو نے جھگی میں داخل ہوتے ہوئے کہا:۔
وہ رجو کے پاس بیٹھ گئی، میدو تیرا پیٹ تو پھول گیا ہے ،حمیدہ بے حس و حرکت پڑی تھی۔

”میدو “نی حمیدہ ،،،، رجو اسے پکارتی رہی، اسے شمع کا واسطہ دیتی رہی، لیکن حمیدہ نے چپ سادھ لی ”اس درد بھر زندگی سے اس نے چھٹکارا پا لیا تھا۔

”شمع منی اور ساجو کے ساتھ گلی گلی بھیک مانگتی رہی، وہ بس چپ چاپ منی اور ساجو کے سنگ سنگ چلتی رہی،
کبھی کوئی بھیک دے دیتا، تو کبھی کوئی ڈانٹ ڈپٹ کے بھگا دیتا، مانگتے مانگتے وہ اک گلی میں داخل ہوئے۔
”ایک دراوزے پر منی کھڑی ہو گئی، اور ایک دروازے پر ساجو کھڑا صدا دے رہا تھا،
”شمو“ تو بھی آگے جا کر مانگ لے، ساجو نے ہمدردی جتائی۔

”شمع بھی ایک دروازے پر جا کھڑی ہوگئی۔
دروازہ کھلا تھا ،اندر بچے کھیل رہے تھے،
”شمع“ مسکرا کر ان کا کھیل دیکھنے لگی، کسی بچے نے شارٹ لگایا، اور گیند گیٹ کے پاس کھڑی شمع کے پاس آ گرا، جسے وہ جھک کر اپنے میلے ہاتھوں سے اٹھانے لگی۔

اے اے یہ ہماری گیند ہے، کیوں اٹھا رہی ہو، ”شمع نے گیند دینے کے لئیے ہاتھ آگے کیا،
”میرا بال گندا کر دیا، بچہ اسے نفرت اور حقارت سے دیکھ کر بولا: پاپا ۔۔۔۔۔پاپا ۔۔۔۔دیکھیں میری بال لے لی۔۔۔۔

”کون ہے؟ ایک بھاری مردانہ آواز آئی، اور تیز تیز چلتا گیٹ پر کھڑے بچوں کے پاس آ کر بولا: کیا ہوا؟

پاپا یہ میری بال نہیں دے رہی، ایک بچے نے شکایت لگائی۔

”تیری ہمت کیسے ہوئی، میرے بچوں سے بال لینے کی، ساتھ ہی ایک زور دار تپھڑ اس کے روئی جیسے گالوں پر جڑ دیا، وہ جو ھاتھ میں بال لیئے کھڑی تھی،
تھپڑ کھا کر تھپڑ مارنے والے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا، نیلی آنکھوں میں دکھ کا سمندر امڈ آیا بال اس نے پھینک کر اپنا چھوٹا سا ہاتھ گال پر رکھے اسے دیکھنے لگی،
”چل یہاں سے کدھر سے منہ اٹھائے چلے آتے ہیں،

تھپڑ رسید کرتے ہوئے آدمی نے اسے کندھے سے پکڑ کر گیٹ سے باہر نکال دیا جہاں معصوم سی شمع لڑکھڑا کر گر پڑی؛
کاسہ اس کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا وہ آنکھوں میں آئے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی؛
”اس کے رخسار پر سرخ پنجے کا نشان ابھر آیا وہ جلتے رخسار پر ہاتھ رکھے چل پڑی۔

”منی اور ساجو نہیں دکھے وہ آواز لگا رہی تھی، ”مگر“ گلی خالی پڑی تھی،وہ دوڑ کر انہیں تلاش کر رہی تھی، شام ہو رہی تھی،
” وہ ایک سے دوسری گلی اور ناجانے کتنی گلیاں چھان ماریں ساجو اور منی کہیں نہ ملے، وہ تو پہلی بار آئی تھی اسے تو گھر لوٹنے کا رستہ تک معلوم نہ تھا۔

”رات اپنا آنچل پھیلا رہی تھی، اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا، وہ چلتے چلتے اک تندور کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، بھوک کی شدت بڑھنے لگی، تندور کی روٹیوں کی مہک آ رہی تھی، اور وہ روٹیاں دیکھ رہی تھی،

ایک عورت نے اسے روٹی پکڑا دی، وہ روٹی لیکر گھر کی جانب چل پڑی، کتنی گلیوں سے گزری مگر گھر نہ ملا ،بھوک اڑ گئی ،وہ ھاتھوں میں روٹی دبائے گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی، اماں ۔۔۔۔۔اماں
”مگر“ وہ اس چڑیا کے بچے کی مانند تھی، جو گھونسلے سے اڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے زمین پر آ گرتا ہے، اور واپس نہیں پلٹ سکتا ۔

”وہ روتے روتے ایک اندھیری گلی میں داخل ہوئی، تھوڑی دور ہی گئی تھی، کہ اسے کسی نے دبوچ لیا، ایک زور دار چیخ اس کے حلق میں ہی دبتی چلی گئی۔۔۔۔۔

کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ ایک گھر کا دروازہ کھلا، اور موبائل کی لائٹ میں ادھر ادھر دیکھا جانے لگا، سامنے گلی میں ایک پرانا درخت تھا، جس کے پیچھے کوئی ہیولا چھپا کھڑا تھا ۔
تھوڑی دیر لوگ کھڑے رہے، آپس میں باتیں کرتے رہے، پھر وہاں سے چلے گئے۔
درخت کے پیچھے چھپے سائے نے شمع کے منہ پر اپنا مضوبوط ہاتھ رکھا ہوا تھا، کہ مبادا وہ چیخ نہ پڑے۔

اس نے درخت کی اوٹ سے سر نکال کر دیکھا،گلی خالی تھی، جب اس نے ھاتھ ہٹایا تو شمع کا وجود ایک طرف ڈھلک گیا، دھپ کی آواز آئی، دم گھٹنے کے باعث شمع مر چکی تھی، وہ شخص گھبرا گیا، وہ جلد وہاں سے نکلنا چاہتا تھا، اس نے ادھر ادھر دیکھا اور وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

روٹی شمع کے ہاتھ میں موجود تھی، جسے کھانا نصیب نہ ہوا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں