325

آبادی کے انبار کی روک تھام کے لیے اقدامات کی ضرورت

تحریر: (بریگیڈ یئر(ر) محمود الحسن سید)

اگر کبھی آپ کا روس یا نیوزی لینڈ جانے کا اتفاق ہوا ہو تو گاڑی میں سفر کرتے ہوئے آپ گھنٹوں کہیں کسی شخص کو نہ دیکھ پائیں گے۔ ہم پاکستانیوں کو اس سے بے حد حیرت ہوتی ہے۔ کیونکہ ماسوائے بلوچستان کے چند علاقوں کے پورے ملک میں ہر طرف انسانوں کا جم غفیر دن رات سڑکوں پر نظر آئے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس وقت کے لیے تیار ہیں جب اس جم غفیر کے کھانے کے لیے کچھ نہ مل سکے گا. یعنی لباس کے لیے کپڑا، بچوں کی تعلیم کے لیے سکول کالج اور علاج معالجے کی سہولیات۔ یقیناًہمارا جواب “نفی” میں ہوگا تو اس کے لیے ہمیں اپنی بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں موثر اور قابل عمل اقدامات فوری طور پر کرنے پڑیں گے۔

اقوام متحدہ کی UNFPA کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ گنجان آباد ملک ہے اور اگر یہی صورت حال (Trend) رہی توملک چوتھی سطح پر آجائے گا۔ آبادی میں اضافے کی 2.4% (دواعشاریہ چار فی صد) سطح پوری دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ اور یہ پورے ایشیائی علاقے میں سب سے زیادہ ہے اس ضمن میں سیاست دانوں اور منصوبہ سازی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب کبھی اخبار یا ٹی وی میں Family Planning کو فروغ دینے کی خبر شائع ہوتی ہے تو ہمارے علماء شور مچا دیتے ہیں اور ان کو اسلام خطرے میں پڑ جانے کا خبط سوار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بے شمار علماء کا حال ملک عزیز میں نیم حکیم خطرہ جان نیم ملاں خطرہ ایمان کا سا ہے۔ علماء تو سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کو نبیوں کا وارث قرار دیا جاتا ہے۔

حکومت کو اس امر کا علم ہونا چاہیے کہ اگر آبادی میں اضافہ اسی طرح بڑھتا رہا تو ہم فاقوں مریں گے اور ملک شدید مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مذھبی انتہا پسند افراد کے کہنے پر عمل کریں یا ملک کو تباہی سے بچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ شرح پر بڑھتی ہوئی آبادی ہمیں مکمل طور پر برباد کردے گی۔ اس ضمن میں ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ مستقبل میں آبادی کے اس طرح بڑھنے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ پچھلے دس سالوں میں غربت کی سطح آبادی بڑھنے کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھی ہے۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب سے مشرقی پاکستان ہم سے 1971 ء میں الگ ہوا ہے انہوں نے ایک مسلمان ملک ہونے کے باوجود آبادی کی سطح میں بڑھوتری کو قابو کرکے اسے صرف ایک فیصد پر لے آئے ہیں۔ انہوں نے مذھبی راہنماؤں سے مذاکرات کرکے ان کو اس بات پر قائل کیا کہ اگر آبادی کی ترجیح اگر اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ برباد ہوجائیں گے اور اب ان کی آبادی بڑھنے کی شرح پاکستان سے آدھی ہوگئی ہے۔

دراصل ہمارا مسئلہ Family Planning کو فروغ دینے میں کوتاہی ہے اور خواتین کو براہ راست contraceptives دینے میں جھجک ہے۔ UNICEF کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین تو Family Planning کے حق میں ہیں مگر مرد حضرات ان سے تعاون نہیں کرتے۔

ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ 15(پندرہ) سے 30 (تیس)سال کے درمیان ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو Sex education کے بارے میں ضروری باتیں بتائی جائیں مگر اس پر والدین اور دینی علما کا بے حد منفی ردِ عمل آڑے آئے گا۔ دنیا میں ایسی بے انتہا مثالیں موجود ہیں جہاں آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے تعلیم دی جاتی ہے اور اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

آبادی کی بڑھوتری کا اثر صوبہ سندھ میں خاص طور پر بہت زیادہ ہے وہاں خواتین میں غذائیت کی کمی بے حد ہے۔ بار بار حاملہ ہونے سے عورتیں بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں۔ نیز Early marriageیعنی کم سنی میں شادی بھی مشکلات پیدا کرتی ہے۔اسی وجہ سے 5 سال کے بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہیں جس کی اصل وجہ ماں کی کمزور صحت اور خوراک کی کم یابی ہے۔

نئی حکومت کی طرف سے ابھی تک Family planning جیسے اہم معاملے پر ابھی کوئی پالیسی یاخبر نہیں ملی ہے۔ اس کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اپنے ملک کے محدود رقبے پر اور زیادہ افراد کے متحمل ہی نہیں ہوسکتے نیز گاؤں اور دیہاتوں سے شہروں میں آکر آباد ہونے کا Trend دن بدن بڑھ رہا ہے۔ جس سے شہروں میں سہولیات کا فقدان پیدا ہورہا ہے۔ ہمیں خواتین کے اولاد کے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا حق دے کر اسے بحال کرنا ہوگا۔ کیونکہ بچے پیدا کرنا اور ان کی پرورش میں سب سے زیادہ تکلیفات برداشت کرنا خواتین کا کام ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ سکول کالج اور مساجد میں اس سلسلے میں صحیح راہنمائی کی جائے اور ذرائع ابلاغ یعنی اخبار اور ٹی وی اس سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

قارئین! نئے وزیر اعظم کا “نیاپاکستان” بنانے کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک ملک کی بے تحاشہ آبادی کی بڑھوتری کو روکا نہ جائے۔ عالمی سطح پر دوسرے مسلم ممالک آبادی کو ایک مناسب سطح پر رکھنے کو عار محسوس نہیں کرتے اور وہاں پر اسلام “خطرے” میں نہیں پڑا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کی تقلید کریں اور ملک میں بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کریں اور غربت اور افلاس کے مسئلے کو حل کریں۔ بین الاقوامی Organization بنام UNFPA نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان سخت بحران کی زد میں ہے. ہماری حکومت کو اور نجی Organization کو بہت تندھی سے اس سلسلے میں کام کرنا ہوگا کیونکہ آبادی کی موجودہ شرح پر بڑھوتری آئندہ چند برسوں میں تباہی کا باعث بن جائے گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت اور نجی ادارے اس سلسلے میں کام کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں