396

فضل و کرم کا شیشہ

تحریر: محمد طیب صدیقی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

وہ شیشے سے پار دور سے آنے والی گرد و غبار کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ گرد اڑنے کی رفتار سے اسے اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ہوا کی رفتار بہت تیز ہے اور چند ہی لمحوں کے بعد ہوا اس تک پہنچ جائے گی اور پھر۔۔۔۔
جلتے ہوئے ننھے دیئے کو… اس سے آگے سوچنے کی ہمت نہ ہوئی بس وہ ایک جھرجھری سی لے کر رہ گیا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور انتظار کرنے لگا اس وقت کا جب تیز ہوا کا جھونکا اسے ہمیشہ کیلئے بجھا دے گا۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہوا کے سامنے ڈٹ جاتا، اپنا آپ بچا لیتا۔۔۔۔ اس لئے وہ بے قرار ہوگیا۔ دائمی فنا کا تصور اسے بے چین کرنے لگا ۔۔۔۔ ہوا کا تیز جھونکا گردو غبار کے بادل ساتھ لئے ہوئے زور دار انداز سے شیشے کے ساتھ ٹکرایا۔۔۔ لیکن ذرا سی ہوا بھی شیشے کے اندر داخل نہ ہو سکی پھر بھی ننھا دیا زور سے پھڑپھڑایا اور بجھ گیا۔۔۔۔ دیئے کو ہوا نے نہیں اس کے اپنے خیال نے بجھا دیا اس کویہ خیال ہی نہ آیا کہ ہوا اور میرے درمیان ایک صاف شفاف شیشہ ہے جو مجھے ہوا کے تیز جھونکے سے بچا لے گا۔۔۔۔۔ یہی مثال ہماری ہے کہ کسی پریشانی یا آفت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر خود کو کمزور کر لیتے ہیں، کہ یہ تو مجھے تباہ کر دے گی اور مایوس ہو جاتے ہی اور وہی مایوسی نہ صرف ہماری امیدوں کو ختم کر دیتی ہے بلکہ اکثر اوقات ہمارے ٹوٹ کر بکھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ کے فضل و کرم کا شیشہ ہمارے اور آنے والی پریشانی یا مصیبت کو روک لے گا. بس ہمیں ثابت قدم رہنا ہے خود کو مضبوط کرنا ہے اللہ کے فصل و کرم کے شیشے پر بھروسا کرنا ہے جو ہمیں نظر تو نہیں آتا مگر ہماری طرف آنے والی آفات کو روک لیتا ہے اور اپنے دل و دماغ کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ مصیبتوں اور پریشانیوں کی گرد ساتھ لئے ہوئے ہماری طرف آنے والا ہوا کا جھونکا تو اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی ہمیں بجھا سکتا ہے۔۔۔۔
دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں