343

رحمت کے فرشتے …… مرسلہ انیلہ فیری

مرسلہ: انیلہ فیری۔پاکپتن۔

ایک مرتبہ ایک لڑکی سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس گھنگھرو پہن کر آئی آپ نے گھنگھرو کی آواز سنتے ہی ارشاد فرمایا کہ ” اسے میرے پاس نہ لانا جب تک اس کے گھنگھرو کاٹ نہ لئے جائیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس گھر میں گھنٹی یا گھنگھرو ہو اس گھر میں فرشتے نہیں آتے” ۔(ابوداؤد صفحہ518)
رحمت کے فرشتے یقیناًاللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی گھروں میں تشریف لاکر رحمت اور برکت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ” اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں” ۔ ( پ 28، التحریم 6)
اس آیت پاک کی رو سے فرشتوں کا کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا بھی اللہ کی رضا سے ہی ہے۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو کسی کے گھر میں جانے سے روک دینا اسکی ناراضگی کی علامت ہے۔ اور جو چیز اللہ عزوجل کی ناراضگی کی علامت ہے اور جو چیز اللہ عزوجل کی ناراضگی کی علامت ہو وہ ضرور ممنوع اور ناجائز ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ گھنگھرو وغیرہ کا گھر میں ہونا اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے اوراللہ تعالیٰ ناراض ہوکر اپنے فرشتوں کو اس مقام سے دور رہنے کا حکم فرماتا ہے۔
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہی ہونا چاہئے اور اس حصول رضا کیلئے ہر اس کا م سے پرہیز کریں جو اس راہ پاکیزہ میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ ہماری اسلاف کی پوری زندگی ہر اس کام سے بچتے ہوئے گزرتی نظر آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضاسے محروم اور ناراضگی کا سبب بنے ہمیں بھی انہی نفوس قدسیہ کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھر سے گانے بجانے کے آلات اور گھنگھرو وغیرہ ایسی چیزیں جو فرشتوں کی آمد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں دور کردینی چاہئے۔ اور اپنے گھر کی بے برکتی کے اسباب تلاش کرتے ہوئے اس پہلو پربھی غور کرلینا چاہئے۔
لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ان چیزوں کے بائیکاٹ کا تعلق صرف عام حالات کے ساتھ نہیں بلکہ چاہیے کہ خوشی کا مقام مثلا شادی بیاہ کے مواقع ہی کیوں نہ ہوں اک کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں احکام شرعیہ پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین۔
ایک ادنیٰ سی مثال کے ساتھ وضاحت کردوں کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ احکام شرعیہ کیا ہیں اگر نہیں معلوم تو مجھے یہ بات معذرت کے ساتھ کہنی پڑرہی ہے کہ پھر ہمیں مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں ۔ افسوس صد افسوس آجکل شادی بیاہ تو دور کی بات عام حالات میں بھی ایسی اشیاء عام ہوچکی ہیں ۔ سب سے بڑی بات کہ محرم الحرام ایک مقدس مہینہ ہے کہ جسکا احترام مسلمان ہونے کے ناطے نہایت ضروری ہے لیکن پھر بھی لوگ اس ماہ میں یہ اشیاء عام استعمال کرتے ہیں اور اللہ کی ناراضگی پالیتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ڈھول پٹاخے ناچ گانے اور دیگر عیاشی ان دنوں خاص طور پرہمارے شہر پاکپتن میں عام ہوجاتی ہے۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح آنکھیں بند کرکے گناہوں پے گناہ کرتے چلے جاتے ہیں کیا یہ مسلمانوں کے زوال کی علامت نہیں، ہم مسلمانوں پر آفات وغیرہ کیوں نازل ہوتی ہیں۔
رہی عرس کی بات تو میرے بھائیو عرس اور میلے میں ایک نمایاں فرق ہے اوروہ یہ کہ اس موقع یعنی عرس پر نعتیں سنی جاتی ہیں عبادتیں کی جاتی ہیں اور انکی پیروی کرتے ہوئے جو حضور ﷺ اور بزرگوں کی تعلیمات ہیں اور ہمیں ان کی تلقین بھی کی نہ کہ ایسا کرنے کو کہا جو ہم کر رہے ہیں۔ عام حالات تو دور کی بات ہے اس مقدس ماہ میں عام حالات سے بھی زیادہ عیاشی وغیرہ ہوتی ہے جو میں بیان نہیں کرسکتی۔
لیکن اب بھی وقت ہے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ بزرگوں اور حضور ﷺ کی تعلیمات اور انکی کہی ہوئی باتیںیاد کرکے عمل پیرا ہوں تاکہ ہماری عاقبت اور دنیا دونوں سنور سکیں۔ اللہ ہمیں نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور سابقہ گناہ معاف فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ تاکہ امت محمدی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سرخ رو ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں