579

“پانی زندگی ہے”

“پانی زندگی ہے”
شاہد مرتضی چشتی (چیف ایڈیٹر)
“پانی زندگی ہے” یہ بات کون نہیں جانتا۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہے۔ہر شہری کو صاف پانی مہیا کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔لیکن میرے پیارے ملک پاکستان کی عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ صاف پانی ایک صحت معاشرے کی اولین ترجیح ہونا چاہیئے۔ اکثر علاقوں میں جوہڑوں سے انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 82 فیصد کے قریب پانی انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ ہے۔ ہم روزانہ لاکھوں ٹن صاف پانی گٹروں میں بہا دیتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک نہیں کہ زیرزمین صاف پانی جو پینے کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے ذخائر محدود ہیں اور ہم اسی طرح اس کو نکال نکال کربہانے کی روش پر قائم رہے توایک دن ہم پیاس سے مرجائیں گے۔ہم اس بات سے بالکل ہی غافل ہیں کہ نہاتے وقت،اپنی گاڑی یافرش دھونے کے دوران کتنا پانی استعمال کرتے ہیں اور وہ کتنے ہی انسانوں کی زندگی کی ضمانت ہے جسے ہم بہا کر ضائع کر رہے ہیں۔
کیا ہم نہیں جانتے کہ ملک کے 24 بڑے شہروں میں 69 فیصد پانی آلودہ ہے۔ عالمی ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 6 کروڑ شہری زہریلے پانی کی وجہ سے سلو پوائزننگ کا شکار ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق لاہور جیسے شہر کی صرف ایک سوسئٹی ڈیفنس کے علاوہ پورے شہر کا پانی آلودہ اور زہریلا ہے۔ پاکستان ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق 90 فیصد بیماریوں کی وجہ مضرصحت پینے کا پانی ہے۔جس سے سالانہ گیارہ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسے امراض کی وجہ بھی پینے کا آلودہ پانی ہے۔
کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ شہر میں قائم واٹرفلٹریشن پلانٹس سے مضر صحت پانی کی نشان دہی ہورہی ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے انتباہ کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہ آئی اور فیصلہ ہواکہ اب ان کی جگہ نئے پلانٹس لگائے جائیں بعض جگہوں پر تو حالت یہ ہے کہ لاکھوں روپے سے لگائے گئے پلانٹس سے آج تک ایک گلاس صاف پانی بھی پینے کے لیئے میسر نہ آسکا۔ پلانٹس لگانے ، لگوانے والے اور صاحب اقتدار اپنی جیبیں بھر کر خوش۔ عوام جائے بھاڑ میں۔۔۔
میڈیا اور صاحبان عقل و دانش چیخ چیخ کر بےحال ہوئے جا رہے ہیں کہ وطن عزیز فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت میں اضافہ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی کم یابی کاشکار ہوا جارہا ہے۔اس پربھارت نے آبی دہشت گردی کرکے پانی کی کم یابی کی مسئلے کواور گھمبیر کردیا ہے۔ 1947ء کے معاہدہ میں طے شدہ فارمولہ کا بھی پانجواں حصہ پاکستان کومل رہا ہے۔ پانی کی اس قلت کی وجہ سے 2 کروڑ ایکڑ سے زائد ذمین بنجر ہوچکی ہے اور ہماری کارکردگی یہ ہے کہ پانی زخیرہ نہ ہونے اور ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 20 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کئے جا رہے ہیں۔
پانی کی قلت کے اعتبار سے دنیا بھر میں صروت حال انتہائی خطرناک حد سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ پانی کی کمی کے اعتبار سے پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ ہمارے کانوں پرجوں تک نہیں رینگ رہی۔ اگر اس صورت حال کے پیش نظر ہم ے کوئی قدم نہ اٹھایا اور پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور ذخیرہ کرنے کے لیئے ڈیم نہ بنائے تو 2025ء میں ہمیں شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور بحثیت قوم ہم میں سے ہرایک اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور موثر منصوبہ بندی کے ذریعے آنے والے خطرے کو کم سے کم کرنے اور اس کا سامنا کرنےکے لیے عملی اقدامات کا اغاذ کریں۔۔۔ یا پھر مرنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں