2,164

طب صابر(قانون مفرد اعضاء)

جناب حکیم خالد محمود صاحب ( ملتان)
(بشکریہ: حکیم محمد طارق شاد)
پاکستان کو ایک سستے اور مؤثر طریقہ علاج کی ضرورت ہے۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں فن طب سے وابستہ کر کے نہایت عزت بخشی اورخلقِ خدا کی خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرمایا ہے۔ ہم دُعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جذبہ خدمت خلق میں مزید برکت عطا فرمائے ۔ آمین
ہزاروں درود و سلام نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ پر اور اُن کے اصحاب اکرام پر ۔ ہم پر نبی پاک حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ، احمد مجتبیٰ، شفیع المذنبین،رحمۃ العالمین کا احسان عظیم ہے کہ جنہوں نے عملی زندگی گزارنے کیلئے ہماری خاطر سیدھی راہیں متعین کر دی تا کہ ہم آپ ﷺکے اُسوہ حسنہ پر عمل کر کے دُنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔
ہم اپنے اُستاد محترم،محسن و مربی ، مجدد طب حکیم انقلاب المعالج ، دوست محمد صابر ملتانی ؒ مؤجد قانون مفرد الاعضاء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اپنی محنت اور خصوصی شفقت سے قانون فطرت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک سائنسی منظم اور آسان طریقہ علاج پیش کیا۔
مسئلہ صحت اور اس کا حل
عوام الناس کا حکومت پر حق ہے کہ اُسے ایک سستا اور مؤثر طریقہ علاج مہیا کیا جائے۔ اور ہر حکومت اس ذمہ داری کے ادا کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہے۔ بہت سی ذمہ داری ماہرین طب کی بھی ہے کہ وہ حکومت کو مستقل بنیادوں پر ہیلتھ پالیسی کیلئے آسان ، سائنسی اور جامع طریقہ علاج سے روشناس کرا ئے۔ جو مقامی حالات اور ماحول کے مطابق قابل عمل اور مفید ہوں۔
ہم حکومت کو ایک جامع ،سائنسی اور مقامی حالات کے عین مطابق طریق علاج کی تجویز پیش کرتے ہیں اور یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس تجویز پرعمل درآمد کرے تا کہ عوام الناس اس فطری طریقہ علاج سے فیض یاب ہوں۔
یاد رکھیں کہ صحت فطرت ہے اور فطری اعمال کی خلاف ورزی کا نام مرض ہے۔ اس کیلئے صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں کے علاج کیلئے قانون فطرت کی پابندی ہی کامیابی کا زینہ ہے۔
پاکستان کے ایک عظیم طبی محقق جناب حکیم انقلاب المعالج دوست محمد صابر ملتانی ؒ نے برس ہا برس کی تحقیق اور محنت شاقہ سے 1955 میں ایک جدید طریق علاج پیش کیااور اس کی تائید کیلئے 16 سے زائد کتب اور سینکڑوں مضامین تحریر کیئے۔
1) مبادیات طب
2) تحقیقات تپ دق وسل
3) تحقیقات نزلہ و زکام
4) تحقیقات نزلہ و زکام وبائی
5) تحقیقات اعادہ و شباب
6) تپ دق اور خوراک
7) تحقیقات امراض و علامات
8) فرنگی طب غیر علمی اور غلط ہے
9) تحقیقات المجربات
10) تحقیقات علم الادویہ
11) تحقیقات و علاج جنسی امراض
12) تحقیقات سوزش واورام
13) اسلام اور جنسیات
14) جنگ رجسٹریشن
15) ملیریا کوئی بخار نہیں
16) تحقیقات حمیات
17) ہاہنامہ رجسٹریشن فرنٹ
1972 میں حکیم الامت المعالج دوست محمد صابر ملتانی ؒ کے اس دورِ فانی سےکوچ کر جانے کے بعد ان کے شاگرد رشید الحاج حکیم محمد شریف دُنیا پوری ؒ نے اپنے ساتھیوں حکیم غلام رسول بھٹہ، حکیم برکت علی بھلی، حکیم محمد یٰسین چاولہ، حکیم غلام نبی، حکیم الٰہی بخش عباسی ، حکیم محمد یٰسین دُنیا پوری و دیگرکے ہمراہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپنے اُستاد محترم کی تحقیق کو عوام الناس اور خصوصاً معالجین حضرات سے متعارف کرانے کیلئے 15 کتب لکھیں ۔ ماہانہ ترجمان نظریہ مفرد اعضاء کا اجراء کیا۔ ملک بھر میں حلقہ جات کو منظم کیا اور فری کیمپ غذا سے علاج کا سلسلہ شروع کیا۔
1) تعار ف نظریہ مفرد اعضاء
2) رہبر نظریہ مفرد اعضاء
3) کلیات نظریہ مفرد اعضاء
4) دستور علاج
5) تپ دق و سل
6) دمہ
7) غذا سے علاج
8) میرا مطب
9) خواص المفردات اول
10) خواص المفردات دوم
11) خواص المفردات سوم
12) امراض معد و امعا
13) امراض نسواں
14) مجربات نظریہ مفرد اعضاء
15) ماہنامہ ترجمان نظریہ مفرد اعضاء
الحمد اللہ اس وقت ہزاروں معالجین قانون مفرد اعضاء دُنیا بھر میں خصوصاً پاکستان کے کونے کونے میں خلق خدا کی خدمت میں مصروف ہیں۔
قانون مفرد الاعضاء ایک ایسا بے نظیر اور گوہر نایاب کا مجموعہ اور راز فطرت کا مظہر ہے۔
حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی ؒ نے قانون مفرد الاعضاء کو پیش کرتے وقت اس کے اُصولِ تشخیص، اُصول علاج ، اصلاحات اور فارماکوپیا کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا۔ جو کہ فطری اُصولوں کے عین مطابق ہے۔ حکومت کی سر پرستی کے بغیر بھی عوام اور خصوصاً معالجین میں بے حدمقبول ہے۔
ملک کی 70فیصد سے زائد آبادی حکماء ہی سے علاج کروانا پسند کرتی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں حکومت کو عوام الناس کی فلاح اور صحت کی بحالی کیلئے مندرجہ ذیل نقاط پر غور کرنا چاہیے۔
1. حکومت قانون مفرد اعضاء کی سر پرستی کرتے ہوئے اسے ملک بھر میں رائج کرے۔ کیونکہ یہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس کے مطابق صرف موزوں غذا اور حسبِ ضرورت ادویات کے استعمال سے ہی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ اُن کا مکمل علاج بھی ممکن ہے۔
2. قانون مفرد اعضاء کے مطابق حفظانِ صحت کا مضمون تعلیمی اداروں میں لازمی قرار دیا جائے۔ تا کہ ہر طالب علم صحت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے فطری قوانین سے واقف ہو کر عملی زندگی میں بھر پور ذہنی و جسمانی صحت کے ساتھ کامیاب ہو۔
3. ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں قانون مفرد اعضاء کے ماہر حکماء کو مکمل مراعات کے ساتھ تعینات کیا جا ئے اور عوام کو آزادی ہو کہ وہ جس شعبہ سے چاہیں علاج کروائیں۔
4. قانون مفرد اعضاء کا فارکوپیا علاج الامراض کا ایک مکمل حل ہے۔ جو کہ نہایت مختصر اور مؤثر نسخہ جات کا مجموعہ ہے۔
حکومت اپنی سر پرستی میں مقامی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ طبی مرکبات کو تیار کروا کر عوام کو سستا علاج فراہم کرے۔ تا کہ قیمتی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔

جناب حکیم خالد محمود صاحب ( ملتان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں