295

حیاتِ انسانی کے تین گوشے

تحریر: حافظ احمد ہاشمی

انسان کے اندر تین طرح کی حیات پوشیدہ ہے۔

ایک حیات جسدی ہے جس کا تعلق ہمارے جسم اور جان سے ہے۔ اس کا تعلق انسان کے جینے مرنے، گھر بار، کاروبار وغیرہ سے ہے۔ یعنی یہ انسان کی ظاہری حیات سے متعلق ہے۔

دوسری حیات وہ ہے جس کا تعلق ہمارے عقل و شعور کے ساتھ ہے، اُسے حیاتِ شعوری کہا جاتا ہے۔

تیسری حیات وہ ہے جس کا تعلق ہمارے قلب اور روح کے ساتھ ہے، اِسے حیاتِ روحی کہا جاتا ہے۔

حیاتِ جسدی دنیا میں اَمن، بہتر روزگار، مالی و جسمانی آرام، قلبی و ذہنی سکون، سیکیورٹی اور اپنی ذاتی پہچان چاہتی ہے۔ یہ تمام عوامل جب ملتے ہیں تو حیاتِ جسدی اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔

اِسی طرح حیاتِ روحی ہے، حیاتِ روحی اس دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالی کے حضور اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ تعلق، اِخلاص اور للہیت چاہتی ہے۔ جب اِنسان اس راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اُس کی حیاتِ روحی بھی اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔

تیسری حیات حیاتِ شعوری ہے، اس کے درج ذیل تقاضے ہیں۔

حیاتِ شعوری کا ایک تقاضا تفکر ہے۔ اُس تفکر کے اجزاء میں اقدار اور نظریات پوشیدہ ہوتے ہیں۔

اِسی حیاتِ شعوری کا ایک تقاضا تفقُّہ ہے۔ جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی آیا کہ

*اللہ رب العزت جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اُس کو تفقہ فی الدین عطا کرتا ہے*، اس کا تعلق ہمارے دینِ سے ہے۔اِسی حیاتِ شعوری کا تیسرا تقاضا تصوّف ہے۔

ہمارے اَفکاروخیالات کا پاکیزہ ہوجانا، نیت میں للہیت و اخلاص پیدا ہوجانا، نیت کا ظاہر کی طرح طاہر اور مطہر ہونا تصوف ہے۔

ان تین تقاضوں کو جو شخص بھی پورا کر ے تو اُس کی حیاتِ شعوری اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔

جب کسی انسان کی حیاتِ شعوری اپنے کمال کو چھوتی ہے اور وہ مذکورہ تین تقاضے پورا کرتی ہے، تو پھر اُس کی زندگی میں ایک تحرّک پیدا ہوتا ہے۔ یہ تحرّک اُس کے عمل میں ڈھل جاتا ہے اور پھروہ جس طرح کے افکار اپنے شعور کی سطح پر رکھتا ہے ویسا عمل اُس سے سرزد ہونے لگ جاتا ہے۔

اگر کسی کا شعور تفکر، تفقہ اور تصوف سے خالی ہو تو جو کچھ تحرک کے نتیجے میں اس کی زندگی سے سرزد ہو گا وہ ان تین امور سے خالی ہوگا۔

اگر کسی کا شعور تفکر، تفقہ اور تصوف سے مزین ہے تو زندگی میں جو کچھ بھی کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بہترین درجے پر کرے گا جس سے دنیوی و اخروی زندگی میں کامیابی اس کا مقدر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں