432

سستی و کاہلی ایک دشمن

تحریر: حافظ احمد ھاشمی

یہ تساہل ، سست روی ، ٹال مٹول ، تاخیراور “پھر کبھی” جیسے الفاظ ہمارے دشمن اور مستقبل کے لئے تباہ کن ہیں ۔ یہ نشہ آور چیزوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں ۔ جو شخص نشہ کرتا ہے وہ معاشرے سے کافی حد تک کٹ جاتا ہے مگر تساہل اور سست روی کا شکار فرد معاشرے میں شامل رہ کراسے نقصان پہنچاتا ہے ۔ دفاتر ہوں یا کاروبار یا پھرگھر، ہر جگہ اس تساہل پسندی نے مسائل پیدا کئے ہوئے ہیں۔

امام عبدالرحمن ابن جوزیؒ نے اپنی کتاب ’’منہاج القاصدین ‘‘ میں لکھا ہے : ’’کام کو ٹالنے والے بالعموم ہلاک ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ ایک ہی جیسی دو چیزوں میں فرق کر جاتے ہیں۔

آئندہ پر ٹالنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جسے ایک درخت اکھاڑنا ہو ، وہ دیکھے کہ درخت بہت مضبوط ہے ، شدید مشقت سے اکھڑے گا ، تووہ کہے کہ میں اس کو اکھاڑنے کے لئے ایک سال بعد آؤں گا ۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ درخت جتنی مدت باقی رہے گا، مزید مضبوط ہوتا جائے گا اوروہ خودعمر گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور ترہوتا جائے گا ۔ جب وہ طاقتور ہونے کے باوجود درخت کو کمزور ی کی حالت میں نہیں اکھاڑ سکا تو جب وہ کمزور ہو جائے گا اور درخت زیادہ طاقتور تو پھر اس پر کیسے غالب آئے گا۔

تساہل کیا ہے؟

مزاج اور رویے کے باعث اہم چیزوں کو غیر اہم امور کے مقابلے میں مؤخر کرنے کے عمل کو تساہل یا ٹال مٹول کہتے ہیں ۔ہم بعض اہم کاموں کو اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں کرنے کا موڈ نہیں ہوتا بعض اوقات اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں کرنے کے لئے مناسب وقت اور سکون میسر نہیں ہوتا اور بعض اوقات اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ کرنے کے لئے ابھی کافی عمر باقی ہے۔ ہم اللہ کی نعمت ’’وقت‘‘ کو رائیگاں کرتے رہتے ہیں ۔

حدیث شریف میں ہے کہ حضور پاکﷺ نے فرمایا ’’جونہی آنے والے دن کی پَو پھٹتی ہے تو وہ آواز لگاتا ہے : اے آدم کی اولاد! میں اللہ کی نئی تخلیق ہوں اور تمہارے اعمال کا گواہ ،اس لئے مجھ سے جتنا زیادہ لے سکتے ہو لے لو، میں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا ‘‘۔

ایک اور حدیث ِنبوی ﷺ میں آیا ہے کہ مومن کو دو دھڑکے لگے رہتے ہیں ، ایک اس کے ماضی کا جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کے کیا نتائج ظاہر کرے گا اور دوسرا اس کا مسقبل جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق کیا فیصلہ کررکھا ہے ۔ اس لئے آدمی کو اپنی جان کی خاطر اپنی جان کو، آخرت کی خاطر دنیا کو ، بڑھاپے کی خاطر جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو کام میں لانا چاہئے۔

ایک حدیث ِ نبوی ﷺ میں ہے کہ ٹال مٹول شیطان کاشعار ہے جس کو وہ مسلمانوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔

امام ابن جوزی ؒ فرماتے ہیں کہ ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا معاوضہ کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ کل کا تصور ہماری زندگی میں ’’ کل ‘‘ ( آئندہ آنے والا دن یا زمانہ) کا لفظ بھی ایک دھوکا ہے جو انسان کو وقت ضائع کرنے کی شرم اور افسوس سے بچاتا رہتا ہے۔

انسان کی زبان میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو ’’ کل‘‘ کے لفظ کی طرح اتنے گناہوں ، اتنی حماقتوں ، اتنی وعدہ خلافیوں ، اتنی غفلتوں ، اتنی بے پروائیوں اور اتنی برباد ہونے والی زندگیوں کے لئے جوابدہ ہو ، کیوں کہ اس کی آنے والی ’’کل‘‘ یعنی ’’فردا‘‘ کبھی نہیں آتی۔ وقت ایک دفعہ گزر گیا، مر گیا تو اس کو پڑا رہنے دو ۔ اب اس کے ساتھ اور کچھ نہیں کرنا۔ سوائے اس کے کہ اس کی قبر پر آنسو بہاؤ ۔ آج کی طرف لوٹ آؤ مگر لوگ اس کی طرف نہیں لوٹتے اور عملاً ’’ فردا‘‘ ( آنے والے کل) کو کبھی ’’ اِمروز‘‘ ( آج کا دن) نہیں ہونے دیتے۔

داناؤ ں کے رجسٹر میں ’’ کل ‘‘ کا لفظ کہیں نہیں ملتا ، البتہ بے وقوفوں کی جنتریوں میں یہ بکثرت مل سکتا ہے ۔ یہ تو محض بچوں کا بہلاوا ہے کہ فلاں کھلونا تم کو کل دے دیا جائے گا۔

کل کا لفظ تو ایسے لوگوں کے لئے ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اور شام سے صبح تک خواب دیکھتے رہتے ہیں۔

کامیابی کی شاہراہ پر بے شمار اپاہج سسکتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی تمام عمر ’’ کل ‘‘ کا تعاقب کرتے ہوئے ضائع کر دی اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود لی ہے۔ ہم اس دھوکے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کہ ’’ کل ‘‘ ہمارے لئے اچھی اچھی نعمتیں اور فائدہ مند اشیاء لائے گا مگر وہ تو آیا ہی نہیں۔
اسی طرح ایک اور رویہ ’’ پھر کبھی‘‘ کا ہے۔

یہ رویہ بھی یقینا ہم لوگوں کے لئے بحیثیت فرد ، بحیثیت قوم اور بحیثیت امت نقصان دہ ہے۔ جو کام آج مکمل ہو سکتا ہے وہ آج کیوں نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں