294

سن شائن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن. بہاولنگر (ایک تعارف)

سن شائن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ضلع بہاولنگر کی اپنی نوعیت کی واحد تنظیم ہے جوکہ بحالی معذوراں پر کام کررہی ہے۔اس کی بنیادڈاکٹر محمد رمضان عباسی نے رکھی 2010ء میں سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ آرگنائزیشن نے ضلع بہاولنگر میں معذوری کے خاتمہ پر بہت کام کیا۔ ضلع بہاولنگر کی دیگر تحصیلوں چشتیاں، فورٹ عباس، ہارون آباد اور منچن آباد میں متعدد فری کیمپس لگائے گئے۔ معذوری کے حوالے سے معذوروں میں احساس کمتری کوختم کرنے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔

8 سال کے عرصہ میں 300 سے زائد فری کیمپس لگائے گئے جن میں فی کیمپ 100 سے زائد معذور افراد کا فری میڈیکل چیک اپ کیا جاچکا ہے جبکہ 4500 سے زائد معذور افراد کو فزیوتھراپی کی ٹریننگ بھی دی چاچکی ہے ۔ سن شائن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے پیرا میڈیکل سٹاف، ڈسپنسرز، ایل ایچ وی، ایل ایچ ڈبلیو اور ویکسی نیٹرز کو سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے فزیوتھراپی اور مصنوعی اعضاء لگانے کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا کہ فزیوتھراپی کس مریض کے لیے ضروری ہینیز فزیوتھراپی اور مصنوعی اعضاء بھی ایک طریقہ علاج ہے۔ معذوروں کے لیے مصنوعی اعضاء کس قدر فائدہ مند ہیں۔ پاکستان میں کتنے فیصد ڈاکٹرز، فزیوتھراپی اور مصنوعی اعضاء کی اہمیت سے واقف ہیں۔ مصنوعی اعضاء کی وجوہات کیا ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں معذور افرادنے اپنی معذوری کو اپنا پیشہ بنالیا ہے۔ پیشہ ور بھکاری دوردراز علاقوں سے دوسرے شہروں میں جاتے ہیں اور بھیک مانگ کراپنا پیٹ پالتے ہیں۔ ان پیشہ ور معذور بھکاری افراد کی وجہ سے آپ کی دی ہوئی امدادی رقم غلط ہاتھوں میں چلی جاتی ہے اور مستحق افراد معذوری کے سبب گھر ہی میں پڑے رہتے ہیں۔ اگرآپ کے عطیات اور امدادی رقم مستحق افراد پر جائز طور پر استعمال ہوجائے تو اس سے بڑا ثواب کا کام کیا ہوگا۔

اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے سن شائن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن بہاول نگر نے اس کا م کا بیڑا اٹھایا اورجنوری 2018 ء میں باقاعدہ طور پر اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔ الحمدللہ 9مارچ کو 4 مستحق افراد کو 5مصنوعی ٹانگیں مہمان خصوصی چوہدری ساجد محمود گجر کی مجودودگی میں لگائی گئیں۔ 11مئی کو8مستحق افراد کو 9مصنوعی ٹانگیں اور ہاتھ مہمان خصوصی محمد سہیل خان ضلعی جنرل سیکرٹری انجمن تاجران بہاولنگر لگائے گئے جبکہ 28ستمبر کو 12مستحق افراد کو 12مصنوعی ٹانگیں مہمان خصوصی چوہدری عامر نوید ،نوید ٹریڈرز غلہ منڈی بہاول نگرلگائی گئیں ۔ سن شائن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن بہاولنگر سے اب بے شمار مستحق افراد اپنی مصنوعی ٹانگ اور ہاتھ لگوانے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ سن شائن اپنے وسائل کے مطابق ان کو مصنوعی اعضاء فراہم کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر حضرات اپنی سالانہ اور ماہانہ ذکوٰۃ، صدقات اور خیرات کی ایسی آرگنائزیشنز میں جمع کروائیں تاکہ معاشرے سے معزور افراد کی معذوری کا خاتمہ ہوسکیبات صرف احساس کی ہے۔ آرگنائزیشن کے مطابق اگر ضلع بہاولنگرمیں کم وبیش500 مخیر حضرات تھوڑاتھوڑا تعاون کرنے والے مل جائیں تو اس پراجیکٹ کو بہت اچھے انداز میں چلایاجا سکتا ہے۔ ہم ایک معذور فرد کو اس کی معذوری سے نکال کر اس کو بحالی کی طرف لے آئیں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوکر روزی کمانے کے قابل ہوجائے تویہ بہت بڑا صدقۂ جاریہ ہے۔ معذور افرادہمارے رحم کے نہیں آپ کے پیار کے مستحق ہیں۔

بانی ڈاکٹر محمد رمضان عباسی کی ان تھک کاوشوں کی وجہ سے آرگنائزیشن آج اس مقام پر ہے آپ کوالیفائیڈ آرتھوٹیسٹ ایند پراستھیٹیسٹ ہیں اپنا پرائیویٹ ادارہ بحالی جسمانی معذوراں (RCPD) بھی چلارہے ہیں۔ اس کے باوجود آرگنائزیشن بہت وقت دیتے ہیں جس کی وجہ سے آگنائزیشن دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی جارہی ہے۔ اگست 2018ء میں سان شائن کے الیکشن کے مطابق سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر خالد جاوید DDHOبہاولنگر، سرپرست کمیٹی ممبران ڈاکٹر محمد اسلم چوہدری، خوشی محمد عباسی، ڈاکٹر محمد رفیع عباسی، ڈاکٹر شبیر احمد، محمد رفیق بھٹی۔ صدر پروفیسر محمد اشرف زاہد علوی لیکچرار کامرس کالج بہاولنگر، سینئر نائب صدر چوہدری محمد عامر مشتاق، نائب صدر محمد جاوید عباسی چیف سینٹری انسپکٹر TMAبہاولنگر، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد عمیر عباسی، جوائنٹ سیکرٹری محمد نعمان بھٹی، فنانس سیکرٹری چوہدری محبوب احمد، پریس سیکرٹری شیخ محمد سلمان مبارک۔جبکہ ممبران ایگزیکٹو کمیٹی محمد ساجد نور، محمد فاروق بلوچ، محمد طارق بھٹی، ڈاکٹر محمد اجمل لاشاری، چوہدری محمد عمران، محمد جنید اسماعیل، چوہدری محمداشفاق، ڈاکٹر محمد رمضان عباسی، مختار رسول، محمد بلا سہو، سیدہ شگفتہ فخراز، مسرت چوہدری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں