636

دیہی خواتین کا عالمی دن

تحریر: ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی

15 اکتوبر پاکستان سمیت دنیا بھر میں “دیہی خواتین کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے. اس دن کے منانے کا مقصد بنیادی طور پر خواتین اور خاص طور پر دیہاتی خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کی آگاہی دینا اور ان کو با اختیار بنانے کے لیے اقدامات کا تعین اور معاشرہ میں خواتین کی اہمیت کو واضع کرنا ہے.

پہلے بار15اکتوبر 2008ء کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کو منانے کے لے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا. یہ 18 دسمبر2007 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پاس کردہ قرارداد کے نتیجہ میں ہوا .

عورت بحیثیت مجموعی انسانیت کا نصف اور معاشرے کا وہ ناگزیر عنصر ہے جس کی گود قوموں کی پرورش کرتی ہے اور وہ پھلتی، پھولتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ خاندانی اور اجتماعی زندگی میں عورت چار حیثیتوں سے گزرتی ہے جس میں پہلے بیٹی، بہن اور پھر اسے بیوی اور ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ملک عزیز میں یہ صنف نازک اپنے بنیادی فرائض کی انجام دہی کے باوجود اپنے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ نظر انداز ہوتی رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی مظلومیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں اسے دو حصوں شہری اور دیہاتی عورت میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ شہری اور دیہی عورت کی یہ تقسیم بھی غیر منصفانہ اور غیر عادلانہ ہے۔ شہر کی تعلیم یافتہ عورت کے مقابلے میں دیہات میں بسنے والی ایک عورت کو قانونی، معاشرتی اور معاشی سہولیات اور ضروریات میسر نہیں ہیں۔ اکثر دیہاتوں اور قبیلوں میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ دیہاتی عورت کے مسائل میں سے معاشی مسئلہ سب سے اہم ہے.

دیہاتی عورت کو آرام و آسائش اور اس کے بچوں کو تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات بالکل میسر نہیں۔ اکثر دیہاتی خاندان عورت کی تعلیم کے سرے سے مخالف ہیں ہمارا ناقص نظام تعلیم اور توجہ رہی سہی کسر کو پورا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے دیہاتوں کی اکثر خواتین تعلیم و تربیت کے زیور سے محروم رہتی ہیں. دیہی خواتین سمیت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق، کفالت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کا اولین فرض ہے۔ حکومت وقت کو آگے بڑھ کر ملک عزیز کے اطراف و اکناف میں موجود جہالت و ناخواندگی، ظلم و ناانصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کر کے اسے پوری دیانت داری کے ساتھ نافذ العمل کرنا ہوگا۔

پاکستانی دیہات میں رہنے والی زیادہ تر خواتین کو ورکنگ ویمن بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ صرف گھر اور باورچی خانے کو ہی نہیں دیکھتیں بلکہ وہ کھیتی باڑی میں بھی مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ وہ کپاس چنتی ہیں، مویشیوں کو چارہ ڈالتی ہیں اور فصلوں کی کٹائی میں بھی مدد کرتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ ساری محنت نہ تو پاکستان کے جی ڈی پی میں شمار کی جاتی ہے اور نہ ہی اس محنت کا اسے کوئی مناسب معاوضہ ملتا ہے۔

دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کو صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا بھی رہتا ہے۔ ان کو عام طور پر فرسودہ رسم و رواج اور جاہلانہ روایات کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عورتوں پر تشدد، ونی، کم عمری کی شادیاں اور جائیداد کے تقسیم ہو جانے کے ڈر سے خواتین کی شادی نہ ہونے دینا جیسے واقعات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے. دیہات میں رہنے والی خواتین عام طور ہر سماجی دبائو کا شکار بھی رہتی ہیں جبکہ غربت اور وسائل کی کم یابی بھی دیہی عورتوں کا ایک اہم مسئلہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دیہی عورتوں کے حوالے سے حکومت خصوصی پالیسیاں بنائے اور ان پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے۔ اگر حکومت صرف خواتین کے حوالے سے پہلے سے موجود قوانین پر ہی دیہات میں عملدرآمد کروانے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے بھی صورتحال میں بہت بہتری آ سکتی ہے۔ عورتوں کے وہ تمام شرعی حقوق مثلا زمینوں اور جائیدادوں میں وراثت کا مکمل حق، مالی خود مختاری، فیصلوں میں شرکت ، مہر کی رقم کی مکمل ادائیگی، عورتوں پر جبر اور مار پیٹ جیسی جاہلانہ حرکت، بچیوں کی مرضی کے خلاف جبری شادیاں وغیرہ جیسے واقعات کی فوری روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ خواتین کے استحصال کی تمام شکلوں کا خاتمہ ہو سکے. اس راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے ہی اس دن کے منانے کے اصل مقصد کو حاصل اورپاکستان کے اصل وقار کو بحال کرکے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں