395

سموگ کے پیش نظر بھٹوں کی مجوزہ بندش کی خبروں سے بھٹہ مالکان کی چاندی ہوگئی

پاکپتن ( خصوصی رپورٹ) سموگ کے خدشہ کے پیش نظر بھٹوں پر اینٹوں کی پکائی پر مجوزہ پابندی بھٹہ مالکان کی چاندی اینٹوں کے ریٹ آسمان سے باتیں کرنے لگے تفصیلاتکے مطابق اگلے ماہ سموگ خد شات کی وجہ سے عدالت نے 15 اکتوبر سے 3 ماہ کے لئے بھٹے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ان احکامات کا پتہ چلنے کے بعد بھٹہ ملکان کی چاندی ہوگئی ہے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے پاکپتن میں بھٹہ مالکان نے 1000 اینٹوں کے ریٹ خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے اور بلیک میں اینٹیں و بھٹہ کی دیگر مصنوعات کی فروخت شروع کر رکھی ہے شہریوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل 4000 سے 5000روپے میں ملنے والی اینٹ کا ریٹ اچانک 8000 کردیا گیا ہے. انتظامیہ نے نوٹس لیا تو صرف بھٹہ مالکان کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرکے فی ہزار اینٹ کا ریٹ سات ہزار کے مطالبہ کے بجائے 6200 روہے کرنے کا نوٹیٍیفکیشن جاری کردیا. یاد رہے کہ ساہیوال میں فی ہزار اینٹ کا ریٹ 6900 روپے مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوچکا ہے. جبکہ بہاولنگر ضلع میں فی ہزار اینٹ کا ڈی سی ریٹ 5000 روپر مقرر کیا گیا ہے. عوام اس بات پر حیران وپریشان ہے کہ اس دوران اینٹ تیار کرنے کے حوالے سے آنے والے اخراجات میں کیا تبدیلی آئی ہے کہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے.
سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں لیکن اس کی آڑ میں عوام کا خون چوسنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے. اگر اینٹوں کی پکائی کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے مناسب زرائع استعمال کئے جائیں تو سموگ کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے. واضع رہے کہ پاکپتن میں پولٹری کی ویسٹیج یعنی بیٹیں وغیرہ، ٹائر اور مکئی کے بھٹے اور توڑی وغیرہ استعمال کی جاتی ہے جس سے نا صرف اینٹوں کا معیار ناقص ہوتا ہے سموگ بھی زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا ہے. اگر بھٹوں میں کوئلہ کا استعمال کیا جائے تو اس سے اینٹ کا معیار بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے. اینٹوں کو متعلقہ ضلع تک محدود رکھنے کے لیے اقدامات کئے جائیں تو ریٹ فوری طور پر کم ہوجائے گا. عوام نے حکومت وقت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھٹہ مافیا اور ناجائز منافع خوروں سے بلیک میل ہونے کے بجائے دونوں اطراف یعنی بھٹہ مالکان اور اینٹوں کے خریدار عام شہریوں کے نمائندوں کو بھی بلا کر ان کے مسائل سنے جائیں اور ریٹ طے کرنے کا ایک فارمولا بنایا جائے. اگر ناجائز منافع خوروں کے ہاتھوں انتظامیہ بلیک میل ہوتی رہی تو پھر تبدیلی حکومت کا پچاس لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ تو ایک طرف اپنے طور پر مکانات بناسکنے والے بھی محروم ہی رہیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں