521

میرے معلم تجھے سلام

تحریر: حکیم لطف اللہ

ہم اکیسویں صدی کے اس دور سے گزر رہے ہیں جس میں ساری دنیا سلام ٹیچر ڈے مناتی ہے اپنے اساتذہ کو یاد کرتی ہے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہتی ہے انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کرتی ہے انکے نام پر سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ ان کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔ اس موقع پرہم سلام پیش کرتے ہیں ایسے استاد کو جومعاشرے کی تعمیر کرتا ہے اپنے اندر ملک وملت کے ایثار رکھتا ہے قوم کے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہے حرص اور لالچ نہیں کرتا اور قوم کی تعمیر کے لیے پورا وقت دیتا ہے اور طالب علموں کی شخصی تربیت کرتا ہے۔

دین اسلام میں بھی استاد کو خاص مقام اور حیثیت حاصل ہے۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ کو جب سرکا خطاب ملا تو انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ جب تک میرے استاد محترم سید میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب نہیں دیا جاتا وہ اپنے لیے سرکا خطاب قبول نہیں کرسکتے ۔ ایک انسان کبھی بھی استاد کے بغیر کامیاب حیثیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔

معلم انسانیت حضور نبی اکرم ﷺ کے حالات زندگی اور ارشادات پرغور کرتے ہیں تو ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا مقصد یہی تھا کہ آپ کی امت علم میں دنیا کی ایک بے نظیر قوم بنے اور امت کا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہو علم کا نور اتنا پھیلے کہ جہالت کی تاریکی دور دور تک نظر نہ آئے اور علم کے بل بوتے پر پوری دنیا پر ہماری حکمرانی ہو۔ استاد اور عالم کی فضیلت کی مثال چاند راتوں میں چودھویں رات کی ہے۔ بے شک استاد، عالم اور انبیاء حصول علم کا ذریعہ ہیں۔ ان سے حصول علم کے متعلق حضرت علیؓ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ ’’علم دولت سے بہتر ہے علم حفاظت کرتا ہے جبکہ دولت کی حفاظت کرنا پڑتی ہے، علم حکمران ہوتا ہے اور دولت پر حکمرانی کی جاتی ہے، دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے ۔ آج پاکستان کا بنیادی مسئلہ تعلیم کی کمی ہے جس کی بنا پر ترقی کی رفتار سست ہے۔ ہم آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کا شکار ہیں ملک سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کی بدولت بہت پیچھے جارہا ہے۔ جب تک ہم تعلیم کو پہلی ترجیح نہیں بنائیں گے ترقی کی منازل طے کرنا بہت مشکل ہے۔

مرحوم اشفاق احمد ایک دفعہ روم کی ایک عدالت میں گاڑی کے چالان کے سلسلے میں پیش ہوئے جب بتایا کہ میں ایک استاد ہوں تو پوری عدالت کھڑی ہوگئی کہ آج روم کی عدالت میں ایک استاد کٹہرے میں کھڑا ہے اور ججز نے کھڑے ہوکر اشفاق احمد کی بات سنی۔

ترقی یافتہ ممالک میں بنیادی تعلیم کے لیے پی ایچ ڈی اساتذہ کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ بچوں کی بنیاد مضبوط ہوسکے حکومتیں پوری دنیا سے استادوں کی تلاس میں رہتے ہیں۔ جہاں سے اچھا استاد ملے اسکو بڑا معاوضہ دے کر لے جاتے ہیں ان ممالک میں بچوں کے ساتھ اساتذہ کا معاملہ اور حسن سلوک انتہائی دوستانہ رکھا جاتا ہے۔ بچے بھی استادوں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں محو گفتگو ہوتے ہیں ۔ وہاں ادب وآداب رخنہ انداز نہیں ہوتا اور بچے بلا جھجھک استاد سے تمام سوال کھل کر پوچھتے ہیں یہی ماحول بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور پھر اسی ماحول میں پڑھے بچے تعلیم وترقی کے میدان میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں پروفیشنل ڈاکٹر ، انجینئر اورسائنس دان بن رہے ہیں۔

بچے بلا شبہ قوم کا مستقبل ہیں اور ملک کی تعمیر کی زمہ داری ان ہی کے کندھوں پر ہوگی اس لیے ان کا تحفظ تعلیم وتربیت کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ ہم شرح ومعیار تعلیم میں اقوام عالم کی لائن میں بہت دور کھڑے نظر آتے ہیں گذشتہ ستر سالوں میں ایک بھی ڈھب کی پالیسی نہیں بنا پائے. تجربات پر تجربات کیے جارہے ہیں ۔ ہردفعہ ہنگامی اقدامات، روڈ میپ اور اہداف مرتب کرتے ہیں مگر افسوس نتائج صفر برآمد ہوتے ہیں کیونکہ استاد کرپڑھانے کی بجائے دیگر حکومتی کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں