834

سورائسس یا چنبل

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد
دنیا میں ہر چیز کی پہچان کے لیے ایک خاص شکل ہوتی ہے اسی طرح انسان کی بھی یہی شناخت کی علامت ہے، اس سے ہماری پہچان ہوتی ہے جس طرح جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے ہمیں مختلف قسم کے لباس کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہڈیوں کے ڈھانچے کو ایک مکمل اور خوبصورت شکل بنانے کے لئے ایک سکن کی ضرورت ہوتی ہے انسانی جلد تین تہوں پر مشتمل ہوتی ہے سب سے بیرونی تہہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ جسم کو خطرناک شعاعوں اور موسمی حالات سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہماری سکن بہت سی چیزوں سے مل کر بنتی ہے جن میں پانی، پروٹین، معدنیات وغیرہ وغیرہ ہمیں اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں خوبصورت بنانے کے لیے اپنی سکن کا خیال رکھنا پڑے گا۔ آج کل ہمارے معاشرے میں ناقص غذا اور آلودہ پانی کی وجہ سے بہت سی جلدی امراض لاحق ہورہے ہیں جس کی بنیادی وجہ فضائی آلودگی ہے جس سے جلدکے خلیات کا حد سے زیادہ بڑھ جانا اور وقت مقررہ سے پہلے اپنے افعال سرانجام دیئے بغیر مرجانا ۔ آج ہم جلد کی ایک ایسی بیماری کے بارے میں بیان کرتے ہیں جوان دنوں ساری دنیا میں عام ہے اس کا نام چنبل ہے جس کو انگریزی میں سورائسس کہتے ہیں اس بیماری میں جسم انسانی پر کرسٹلز بن جاتے ہیں جو زیادہ تر کولہوں، گھٹنوں، کھوپڑی اور جسم کے نچلے حصے پر ہوتے ہیں لیکن بعض لوگوں میں چنبل جسم کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے عام طور پر چھوٹے دائروں کی شکل میں ہوتی ہے لیکن وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے مزید بگڑ کر زخم بن جاتے ہیں۔ یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتی ہے لیکن عام طور پر اس کے اثرات درمیانی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتی ہے اس کا اثر مردوں اور عورتوں میں یکساں ہوتاہے اس کے اثرات سب میں مختلف ہوتے ہیں بعض میں معمولی خارش لیکن بعض میں بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

چنبل ایک دائمی بیماری ہے جو زیادہ خطرناک حالت میں ظاہر ہوتی ہے اس کے اثرات کے دوران جسم کے خلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے جو عام طور پر بہت زیادہ ہوجاتے ہیں عام طور پر سکن کے خلیات تین سے چار ہفتوں تک زندہ رہتے ہیں لیکن اس دوران عمر کی یہ حد تین سے سات دن ہوجاتی ہے اسی وجہ سے سکن کے افعال میں گڑ بڑ پیدا ہوجاتی ہے جوسکن پر کرسٹلز کو تشکیل دیتی ہے جو چنبل کو ظاہر کرتی ہے اگرچہ اس کی کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آئی لیکن ایک اندازے کے مطابق اس کا تعلق مدافعتی نظام سے ہے جو ہمارے جسم میں بیماری اور انفیکشن کے خلاف دفاع پیدا کرتا ہے بہت سے لوگوں میں چنبل ایک خاص انفیکشن سے پیدا ہوتی ہے جو آپریشن، زخم، گلے کی بیماریاں اور مختلف قسم کی ادویات کے استعمال کے بعد ہوتاہے لیکن یہ سب میں مختلف ہوتاہے۔ چنبل کی بیماری اس وقت ہوتی ہے جب سکن کے خلیات معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ پیداہوتے ہیں تو مدافعتی نظام میں گڑ بڑ پیداہو جاتی ہے۔ ہمارے جسم کی اندرونی تہہ میں جلد کے نئے خلیات پیداہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ حرکت کرکے بیرونی تہہ تک پہنچتے ہیں جہاں سے خارج ہوجاتے ہیں یہ دورانیہ عام طور پر تین سے چار ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے اس دوران یہ خلیات اپنے افعال کو درست طریقے سے انجام دیتے ہیں لیکن چنبل کے مریضوں کے خلیا ت عام طور پر تین سے سات دنوں میں ہی جلد کی بیرونی تہہ سے خارج ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے جلد کے افعال درست طریقے سے مکمل نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے جلد کے اوپر سرخ رنگ کے سکلز آجاتے ہیں جو چنبل کی علامت ہیں ۔ ہمارے جسم کی بنیادی اکائی خلیہ ہے اور جسم انسانی میں مختلف قسم کے خلیات ہوتے ہیں لیکن جو خلیہ مدافعتی نظام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ان کو ٹی سل کہتے ہیں یہ جسم کے اندر حرکت کرکے بیماریوں اور انفیکشن کے خلاف دفاع پیدا کرتے ہیں جیسا کہ بیکٹیریا وغیرہ اس بیماری کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے لیکن یہ فضائی آلودگی۔ آلودہ پانی اور ناقص غذا کے استعمال سے ہوتی ہے حد سے زیادہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال غیر ارادی طور پر مدافعتی نظام پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں جس سے مدافعتی نظام کو زیادہ خلیے بنانے پڑتے ہیں اور وہ مزید کمزور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے چنبل کے اثرات ظاہرہوتے ہیں اور بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس بیماری کی تشخیص عام طور پر کوالیفائیڈ ڈاکٹر چیک کرسکتے ہیں لیکن اگر سکن کی حالت زیادہ خراب ہوتومریض کی سکن کا ٹکڑا لے کر لیب میں ٹسٹ کے لیے بھیجتے ہیں جس سے تشخیص اور علاج میں مدد ملتی ہے سورائسس یا چنبل کے مرض میں عام طور پر مریض کے جسم پر خشک سرخی مائل سلوری سکلز ہوجاتے ہیں کچھ لوگوں میں اس کے ساتھ خارش اور درد بھی ہوتا ہے اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں بعض لوگوں میں اس کی ایک سے زیادہ قسمیں بھی ہوسکتی ہیں جب چنبل کی ایک قسم دوسری قسم میں تبدیل ہوتی ہے تو پہلے سے زیادہ خطرناک اثرات مرتب کرتی ہے چنبل کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

پلیگ چنبل: یہ سب سے زیادہ اور خطرناک قسم ہے جس سے جسم پر سرخ اور خشک زخم ہوجاتے ہیں جوڑوں کے اردگرد کی جگہ پر کھجلی کرنے سے جلد پھٹ جاتی ہے اور خون نکلنے لگتا ہے۔
سکل(کھوپڑی)کی چنبل: یہ سرکے کسی مخصوص حصے یا پورے سر پر ہوسکتی ہے عام طور پر یہ سرخ رنگ کی ہوتی ہے جس کو سلوری دائروں نے گھیرا ہوتا ہے کچھ لوگوں میں یہ بہت خطرناک حد تک ہوتی ہے جس کی وجہ سے سر کے بال تک گرجاتے ہیں۔
نیلز چنبل: چنبل کے مریضوں میں پچاس فیصد لوگوں میں ناخنوں کی چنبل بھی ہوتی ہے ۔ اس میں ناخن بے رنگ ہوجاتے ہیں یہ غیر معمولی طور پر بڑھنے شروع ہوجاتے ہیں ناخن کی جڑیں کمزور ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے ناخن گرنے لگتے ہیں۔
انورس سورائسس: اس قسم کی چنبل زیادہ تر رگڑ اور پسینے کی وجہ سے ہوتی ہے گرم موسم میں اس کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں اس قسم کی چنبل سینے، ہاتھوں، ٹانگوں اور کھوپڑی پر چھوٹا سا ٹراپ کی طرح کا زخم بنتا ہے یہ چند ہفتوں کے بعد غائب ہوجاتا ہے لیکن کچھ لوگوں میں یہ پلیگ سورائسس کی جانب لے جاتی ہے اس قسم کی چنبل سٹپٹو کوکالی یعنی گلے کی انفیکشن کے بعد ہوتا ہے جو عام طور پر بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ تر ہوتا ہے۔
پستولر سورائسس: چنبل جلد میں پس والے چھالوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
جنرلیزڈپستولر سورائسس: اس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں اور یہ بہت تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے اس کی پس خون کے سفید خلیات پر مشتمل ہوتی ہے یہ چنبل کئی دنوں اور ہفتوں کے بعد ایک سائیکل کی صورت میں دوبارہ آسکتی ہیں اس دوران بخار، وزن کا کم ہونا، تھکاوٹ وغیرہ وغیرہ۔
پلموپلسٹرپستولر سورائسس:اس قسم کی چنبل پاؤں کی ایڑیوں اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر ظاہر ہوتا ہے یہ گول براؤن شکل کے دھبے ہوتے ہیں جو چند دنوں کے بعد دوبارہ ہوتے ہیں۔
اگروپسٹولوسس سورائسس: یہ چنبل کی ایک خاص قسم ہے جو صرف انگلیوں اور گھٹنوں پر ہوتی ہے یہ سرخ شکل کی ہوتے ہیں اس سے ناخنوں پر بہت درد ہوتا ہے۔
ایتھروڈرمک سورائسس: یہ چنبل کی ایک غیر معمولی شکل ہے جو سارے جسم کومتاثر کرتی ہے اس میں بہت زیادہ جلن او رخارش ہوتی ہے یہ جسم میں پروٹین کی کمی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ انفیکشن، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کاسبب بنتی ہے۔ جہاں تک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چنبل کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے لیکن اس کی علامات کی شدت کو کم کرنے کیلئے مختلف قسم کے طریقہ علاج استعمال کیے جاتے ہیں جن میں وٹا من ڈی سے علاج اور سورج سے حاصل ہونے والی شعاعوں یعنی فوٹوتھراپی کے ذریعے سے بھی شدت کو کم کیا جاتا ہے مختلف تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ تین گرام ہلدی کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور دلیے کا پیسٹ جسم پر لگانے سے بھی بہت آرام ملتا ہے ایلوویرا اور ایپل سائیڈر کا استعمال بھی چنبل یا سورائسس کے لئے مفید ہے۔ نیز ہومیوپیتھک طریقہ علاج جوکہ قدرتی اصولوں کے مطابق ہے اس کی ادویات آرسینکم آیوڈائیڈ، چائنا، لائیکوپوڈیم، کالی کارب، سیپیا گریفائٹس، فائٹولاکا، مرک سال اور کینتھرس کو اگر مریض کی مجموعی علامات کے مطابق استعمال کروایا جائے تو چنبل سے چھٹکارہ ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سورائسس یا چنبل

  1. چنبل کےمریضوں کے لیے کون سی غذائیں ا ورفروٹ
    مضر ہیں اور اس کے کیا پرہیز کرنا چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں