220

آرمی چیف مسلمان نہیں ہیں،فوج بغاوت کردے، کون لوگ یہ کہہ رہے ہیں؟ عمران خان کا قوم سے خطاب میں حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد(میڈیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے بعد ایک مختصر خطاب کیا، اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کا فیصلہ آیا ہے، اس فیصلے کا چھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا ہے اور انہوں نے جس زبان میں بات کی، اس پر بات کرنے پر مجبور ہوا ہوں ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو دنیا کی تاریخ کا واحد ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے. پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ججز نے جو فیصلہ دیا وہ قرآن و سنت کے مطابق دیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے آرمی چیف غیر مسلم ہیں، جنرلز کو کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کر دو، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے آپ کو پسند نہیں آئیں گے تو کیا آپ سڑکوں پر آ جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے ججز نے جو فیصلہ دیا ہے وہ آئین کے مطابق ہے، پاکستان عظیم ملک بنے گا تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر بنے گا، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے نبی اکرمؐ کی شان میں گستاخی کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتے، ہم نے حکومت میں وہ کام کیا جو عملی طور پر کسی نے نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ردعمل میں انتہائی غلط باتیں کی جارہی ہیں، میں پہلے ہی کہہ چکاہوں کہ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ انسان کا ایمان مکمل ہی نہیں جب تک نبی ﷺ سے انسان عشق نہیں کرتا ہم نے عملی طورپر اپنی حکومت میں وہ کام کیا جو کسی پاکستانی حکومت نے نہیں کیا، ہالینڈ میں ڈچ پارلیمنٹرین نے نبیؐ کی شان میں گستاخی کی تو دنیا میں واحد پاکستان ہی ایسا ملک تھا جس نے شدید احتجاج کیا اور ہالینڈ کے ساتھ باضابطہ بات چیت کی اور اس چیز کو روکا انہوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ میں بھی یہ ایشو اٹھایا. جس پر یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے پہلی دفعہ فیصلہ کیا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آزادی اظہار رائے میں نہیں آتا. یہ پہلی دفعہ ہوا ہے اور ہم نے عملی طورپر یہ کرکے دکھایا ہے کہ ہم نبی ﷺ کی شان میں گستاخی نہیں دیکھ سکتے، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کی باتیں ہورہی ہیں ججز کو قتل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، حکومت کا کیا قصور ہے اس میں؟ انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی مشکل معاشی بحران سے گزررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست نہیں بنائیں گے تو کوئی مستقبل نہیں، ہم صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ عملی طور پر کرکے دکھایا ہے، میں اور میری کابینہ نے ایک دن کی چھٹی نہیں کی، انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی باتوں اور اکسانے میں نہیں آنا کہ ججز کو قتل کر دو، آرمی چیف کے خلاف بغاوت کر دو، آپ لوگ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ اسلام کی خدمت نہیں ملک دشمنی ہو رہی ہے، یہ اسلام کی خدمت نہیں اپنا ووٹ بینک بڑھا رہے ہیں، ریاست عوام کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے گی، انہوں نے کہا کہ کوئی توڑپھوڑ یا ٹریفک نہیں رکنے دیں گے، ریاست کو کسی قسم کی کارروائی پر مجبور نہ کیا جائے۔ ریاست عوام کی جان و مال کی حفاظت کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں