539

ننھے فرشتے … (شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

تحریر: شگفتہ یا سمین، چیچہ وطنی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

علی حذیفہ جماعت چہارم کا طالب علم تھا وہ اپنی جماعت میں دوسرے بچوں سے دیکھنے میں تو چھوٹا لگتا لیکن قابلیت میں وہ کسی سے کم نہ تھا. استاد کی عزت کرتا اور اپنے ساتھیوں کو بھی عزت کرنے کی تلقین کرتا تھا وہ کبھی اپنے استاد کے آگے نہ چلتا بلکہ احتراما استاد کے پیچھے چلتا. دبلی سی جسامت والا یہ بچہ کوئی بڑے ظرف کا مالک تھا بڑوں کی عزت کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا اس کا شیوہ تہا . آج سکول سے چھٹی ہوتے ہی وہ جب گھر پہنچا تو ماں کو زاروقطار روتا دیکھ کر تیزی سے اس کی جانب بڑھا. “امی کیا ہوا ہے آپ کیوں رورہی ہیں؟” وہ چلایا. بیٹا تمہارے بابا کو فیکٹری میں کام کرتے ہوئے چوٹ لگ گئی ہے. شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں. ماں کی بات سنتے ہی پریشانی اس کے معصوم سے چہرے پر پھیل گئی وہ مرجھائے ہوئے پھول کی مانند ماں کے اوپر جھک گیا وہ ننھا سا بچہ ماں کی ہمت بندھانے کے لیے اپنی آنکھوں سے ٹپکنے والے آ نسووں کو اندر کہیں روح میں جذب کرنے کوشش کرنے لگا. اپنی بکھری ہمت کو سمیٹتے ہوئے وہ بمشکل اٹھا اور ماں کے ساتھ ہسپتال جا پہنچا.

مریض کے گھر سے کون ہے؟ ڈاکٹر نے پوچھا. جی میں ہوں علی حذیفہ نے جواب دیا. ڈاکٹر کہنے لگا.. آپ … آپ تو خود اتنے چھوٹے ہیں. مریض کا کیسے خیال رکھیں گے؟ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ بابا اب کبھی چل پھر نہیں سکیں گے یہ سنتے ہی دونوں میاں بیٹے کےپاوں تلے سے تو جیسے زمین ہی نکل گئی ماں کو زخمی چڑیا کی طرح پھڑ پھڑ اتے ہوئے دیکھ کر علی حذیفہ دم بخود رہ گیا وہ خود ہی میڈیکل سٹور کی طرف دوائیاں لینے دوڑا . اب اس کا بابا جواس زندگی کو کامیاب بناے کے لیے دن رات محنت کر رہا تھا ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانے سے ہمیشہ کےلیے چارپائی سے جالگا. علی ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا امی کیا میں اب کبھی بھی سکول نہیں جاسکوں گا؟ علی حذیفہ کے کہے گئے الفاظ ماں کے سینے کو ایسے چیر گئے جیسے کوئی بجلی کی لہر بدن میں داخل ہوتے ہی سارے جسم میں سرائیت کرگئی ہو. وہ بے حس وحرکت زمین پر بیٹھ گئی اس کے دماغ میں اپنے بچوں کے مستقبل کے علاوہ ان کے لیے روزی روٹی کی بھی فکر سراٹھائے گھڑی تھی معصوم بچے کی آنکھوں می سجے خواب ٹوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جو اس کے باپ نے سجائے تھے کہ وہ پڑلکھ کر ایک بڑا آدمی بنے گا . علی حذیفہ خوف کھاتا ہوا ماں کے ساتھ جا لگا. اپنے تینوں بچوں کو لیے وہ پریشان حال بیٹھی سوچ میں گم تھی کہ اچانک دھیمی سی آواز سنائی دی . حذیفہ… میرے بیٹے … اپنی پڑھائی جاری رکھنا میں تمہیں ایک کامیاب انسان دیکھنا چاہتا ہوں. باپ نے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا. بوڑھی آنکھوں سے پانی بہتے ہوئے گالوں پرٹھہرنے لگا میں پڑھوں گا… میں آپ کے خواب کوپورا کروں گا.. علی حذیفہ یہ کہتے ہوئے گھر سے باہر چلا گیا.

وہ سڑک کنارے بیٹھا سوچتا رہا کہ بابا کے خواب کو کیسے پورا کروں وہ سوچ کے کسی نتیجے پر نہ پہنچتے ہوئے واپس گھر لوٹا بخار سے نڈھال ماں کی گود می آگرا. اپنے بیٹے کو ایسی حالت میں دیکھر کر ماں کا تو جیسے کلیجہ منہ کو آگیا. ٹھنڈے پانی پٹیاں ماتھے پر رکھنے کے باوجود بخار نہ گیا تو اسے سکول سے چھٹی لینے پڑی پڑھائی کا سوق اسے کتابوں کے قریب رکھتا . اس کی کتابوں سے دوستی مضبوط ہوتی گئی.

وہ کمرہ جماعت سے نکلا تو عمیر اس کے ساتھ تھا کدھر جارہے ہو. عمیر نے علی حذیفہ سے پوچھا . میں لائبریری جارہا ہوں . استاد صاحب بتارہے تھے کہ بچوں کی ایک نئی کتاب آئی ہے میں وہ پڑھنا چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلو. علی حذیفہ نے اپنے دوست کو بھی کتاب پڑھنے کامشورہ دیا وہ اکثر سلیبس کی کتابوں کے علاوہ سکول کی لائبریری سے بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں لیتا اور ہوم ورک کرنے کے بعد پڑھتا تاکہ وہ اپنے فارغ وقت سے فائدہ اٹھا سکے.

اس کتاب کا نام کیا ہے؟ عمیر نے پوچھا. ننھے فرشتے .. علی حذیفہ نے جواب دیا عمیر بھی اس کے ساتھ چل پڑا لائبریری سے کتاب لے کر وہ کمرہ جماعت میں داخل ہوئےہی تھے کہ دو بچے آپس میں لڑنے لگے علی حزیفہنے دونوں کی لڑائی ختم کروائی اور بولا لڑنا بہت بری بات ہے . ہمیں مل جل کررہنا چاہئے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے.. علی حذیفہ اور عمیر مل کر وہ کتاب پڑھتے اور جب سکول میں کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی تو وہ دونوں مدد کرتے ان کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی.

محنت میں عظمت ہے.. علی حذیفہ عمیر کے ساتھ لائبریری سے لی گئی کتاب جو بچوں کی اصلاحی کہانیوں پر مبنی تھی پڑھنے میں مصروف تھا. اس کی ماں نے آکر کہا بیٹا! میں نے سموسے بنا لیے ہیں . اب تم ان کو بیچ آو تاکہ میں تمہارے بابا کی دوائی لاسکوں علی حزیفہ شام کے وقت سموسے بیچتا اور اپنی ماں کی مدد کرتا بھائی میں بھی آپ کے ساتھ جاوں گا علی حذیفہ کے ساتھ اسکا چھوٹا بھائی بھی جانے کے لیے کھڑا ہوگیا دونوں کا جذبہ دیکھ کر ماں نے اپنے دونوں بچوں کے ماتھے کو چوما اور کہنے لگی.. میرے ننھے فرشتے .. ماں کے الفاظ سن کر دونوں بھائی ماں کے ساتھ لگ گئے ماں ان کے لیے دنای کی تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاوں کی … مانند تھی .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں