637

ناموس رسالت ﷺ کا مفہوم

تحریر: حافظ احمد ھاشمی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

ناموس کا لفظی معنی ’’عزت عصمت اور لاج و آبرو‘‘ ہے ۔ جبکہ رسالت کا لغوی معنی ’’پیغام پہنچانے کے ہیں‘‘۔ یہاں ناموس رسالت کا مفہوم یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کے ہر نبی کی قدرو منزلت کی جائے کیونکہ وہ ﷲ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔ اور نبی کریم ﷺ چونکہ تمام انبیاء و مرسلین سے فضیلت و مرتبہ میں بڑھ کر ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ مِّنْہُم مَّن کَلَّمَ اللّہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ (سورہ اٰل عمران-253)
ترجمہ: یہ سب رسول ہم نے فضیلت دی ہے ان میں سے بعض کو بعض پر ان میں سے کسی سے کلام فرمایا ﷲ نے اور بلند کئے ان میں سے بعض کے درجے ۔

قرآن و حدیث سے جب حضور ﷺ کو باقی تمام انبیاء و مرسلین سے ہر لحاظ سے مرتبہ و فضیلت حاصل ہے توپھر ان کی عزت اور ناموس بھی باقی تمام انبیاء سے زیادہ ہے ۔ ہر مومن کو چاہئے کہ وہ ہر لحاظ سے آپ کی ناموس کا خیال رکھے اور کسی قسم کا حرف نہ آنے دے اور آپ کی ناموس کی خاطر تن من قربان کر دینا ایمان کی دلیل ہے ۔
بقول شاعر: 
نمازاچھی , زکوٰۃ اچھی , روزہ اچھا , حج اچھا
مگر میں اس سب کے باوصف مسلمان ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

ﷲ سبحانه و تعالیٰ نے حضور ﷺ کی عزت و توقیر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتُعَزِّرُوہُ وَتُوَقِّرُوہُ (سورہ فتح- 9)
ترجمہ: تاکہ (اے لوگو) تم ایمان لاؤ ﷲ پر اور اس کے رسول پر اور تاکہ تم ان کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی عزت و توقیر بھی لازمی امر ہے ۔ حضور ﷺ کی مدد اور اسی طرح آپ کی تعظیم و تکریم یکساں اہمیت کی حامل ہے ۔ 
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
فَالَّذِیْنَ آمَنُواْ بِہِ وَعَزَّرُوہُ وَنَصَرُوہُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِیَ أُنزِلَ مَعَہُ أُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (سورہ اعراف- 157)
ترجمہ: پس جو لوگ ایمان لائے اس (نبی امی) پر اور تعظیم کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی (خوش نصیب) کامیاب و کامران ہیں۔

آیت کے آخر میں بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ بتا دیا کہ فلاح و سعادت سے صرف وہی سرفراز ہو گا جو حضور ﷺ پر سچے دل سے ایمان لایا اور اسکی تعظیم و تکریم میں کوئی کوتاہی نہ کی ۔ 

جو لوگ ناموس رسالت کا پاس نہیں رکھتے اور آپ کی بے ادبی و گستاخی کرتے ہیں اور آپ کو ذہنی جسمانی یا کسی قسم کی اذیت پہنچاتے ہیں انکے لئے دنیا و آخرت میں لعنت اور دردناک عذاب کی وعید قرآن نے سنائی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْناً (سورہ احزاب-57) 
ترجمہ : بے شک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں ﷲ اور اس کے رسول کو ﷲ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے انکے لئے دردناک عذاب ۔ 

اور اب آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے حوالے سے ایک کتے کی غیرت کا حیرت انگیز واقعہ ملاحظہ فرمائیں

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے ایک کتے کا ذکر کیا ہے، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو کاٹ کھایا ….

ایک دن نصاریٰ کے بڑے پادریوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئی۔ جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی، اس تقریب میں ایک عیسائی مبلغ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی بکی، قریب ہی ایک شکاری کتا بندھا ہوا تھا۔ جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا، اور زوردار جھٹکا دے کر رسی نکالی، اور اس بد بخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا، اور اس کو کاٹ لیا۔ لوگوں نے آگے بڑھ کر اس کتے کو قابو کیا اور پیچھے ہٹایا، تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا ہے، اس صلیبی نے کہا، بالکل نہیں۔
بلکہ یہ خودار کتا ہے۔ جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں۔ اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہا ہوں، تو اس نے مجھ پر حملہ کر دیا، یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر گالی بکی۔ اس بار کتے نے رسی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پر چھلانگ لگا کر اس کی منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہو گیا۔

اس کو دیکھ کر 40000 (چالیس ہزار) منگولوں نے اسلام قبول کیا ….

[الدرر الکامنہ 3/ 203]

الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ “معجم الشیوخ صفحہ 387” میں نقل کیا ہے، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ ؛

“اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کو کاٹا اور اس کی گردن کو دبوچا جس سے وہ ہلاک ہو گیا”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں