408

نعت شریف

شاعر: احمد سعید سدھو

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

یہ شان ہے آقا مرے بن کے بشر پہنچے جہاں
کتنے نبی مجھ کو بتا سدرہ تلک پہنچے وہاں
سرکار کایہ مرتبہ جیسا ملا ان کو وہاں
جبریل بھی گو نور ہے کیا آج تک پہچا وہاں
مسلم کوئی کافر کوئی گودین بھی ہیں مختلف
وہ کون ہے جس پر نہیں ان کا کوئی احساں یہاں
جودوسخا، لطف وعطا سب آپ کی ہیں خوبیاں
کیجئے کرم، رکھ لیں شرم ، ہم بے بھرم جائیں کہاں
جبریل سے پوچھا گیا تونے تو دیکھا ہے جہاں
کیا آج تک ان سا حسیں تونے کبھی دیکھا وہاں
جبریل یوں گویا ہوا چھوڑا نہیں میں نے جہاں
ارض وسما، چودہ طبق، کوئی نہیں ان سا وہاں
وہ توبڑا بد بخت ہے جو کہ کرے اس کی نفی
ان کی حیاء ، ان کی ضیاء ان کا چلن ان کا بیاں
حورو ملک تھے دیکھتے حیرت زدہ یہ ماجرا
رتبہ کہاں مل پائے گا جیسا ملا ان کو وہاں
اک روح تھی اک جان تھی تھا جزوکل کا معاملہ
یک جا ہوئے دونور جب پردہ رہا نہ درمیاں
اے کاش اب منظو ہو طیبہ نگر کی حاضری
ہو سبز گنبد سامنے، بس جان ہومیری رواں
ہے بحر عصیاں زور پر سدھوؔ بڑا مغموم ہے
کیجئے کرم اے شہنشاہ تھمنے نہیں اشک رواں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں