354

نعت شریف

شاعر: احمد سعید سدھو

یہ شان ہے آقا مرے بن کے بشر پہنچے جہاں
کتنے نبی مجھ کو بتا سدرہ تلک پہنچے وہاں
سرکار کایہ مرتبہ جیسا ملا ان کو وہاں
جبریل بھی گو نور ہے کیا آج تک پہچا وہاں
مسلم کوئی کافر کوئی گودین بھی ہیں مختلف
وہ کون ہے جس پر نہیں ان کا کوئی احساں یہاں
جودوسخا، لطف وعطا سب آپ کی ہیں خوبیاں
کیجئے کرم، رکھ لیں شرم ، ہم بے بھرم جائیں کہاں
جبریل سے پوچھا گیا تونے تو دیکھا ہے جہاں
کیا آج تک ان سا حسیں تونے کبھی دیکھا وہاں
جبریل یوں گویا ہوا چھوڑا نہیں میں نے جہاں
ارض وسما، چودہ طبق، کوئی نہیں ان سا وہاں
وہ توبڑا بد بخت ہے جو کہ کرے اس کی نفی
ان کی حیاء ، ان کی ضیاء ان کا چلن ان کا بیاں
حورو ملک تھے دیکھتے حیرت زدہ یہ ماجرا
رتبہ کہاں مل پائے گا جیسا ملا ان کو وہاں
اک روح تھی اک جان تھی تھا جزوکل کا معاملہ
یک جا ہوئے دونور جب پردہ رہا نہ درمیاں
اے کاش اب منظو ہو طیبہ نگر کی حاضری
ہو سبز گنبد سامنے، بس جان ہومیری رواں
ہے بحر عصیاں زور پر سدھوؔ بڑا مغموم ہے
کیجئے کرم اے شہنشاہ تھمنے نہیں اشک رواں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں