337

نعت رسول مقبول

شاعر : یاسر رضا آصف
سارا عالم ہی پڑھتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم
دل بھی ذکر یہی کرتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

دل کٹیا میں روشن رت نے آن کے ڈیرے ڈال دیے ہیں
ایک دیا جلتا رہتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

صبح دم جب سارے پنچھی گیت محبت کے گاتے ہیں
میرے ہونٹوں پر آتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

ہاتھوں کو میں دیپ بنا کر جب گریہ زاری کرتا ہوں
شعلہ سا اک جل اٹھتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

مشکل بھی خود ایک نئی مشکل میں یارو پھنس جاتی ہے
جب بھی لب پر آ جاتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

مایوسی کے جنگل میں پھر کتنے جگنو بھر جاتے ہیں
دل یہ وظیفہ جب کرتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

اب تو میں اکثر ہی آصف ان کے در پر ہی ملتا ہوں
ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں