379

ماہنامہ بریلینٹ (ایک تبصرہ)

از قلم: شگفتہ یاسمین . چیچہ وطنی

جب نظر کسی ایسے منظر پر پڑتی ہے. جہاں حسین وادیاں ہوں, جہاں آبشار کی آواز فضاؤں کو موسیقی کی دھیمی دھیمی دُھنیں سنانے پر منحصر ہو, جہاں آبشار سے چھلکتا پانی جھیل کی صورت بہنے پہ خوشی محسوس کرتا ہو, اُس کی ٹھنڈک سارے ماحول کو اپنے حصار میں جکڑکر محسور کُن کیے ہوئے ہو, اور اس حسین وادی کو ہلکے دُھند لکے نیلگوں بادلوں نے ڈھکا ہوا ہو, آسمان کو چھوتے سُرمئی پہاڑ ہوں…..جہاں ستارے سورج کے غروب ہونے کے انتظار میں آسمان پراپنی روشنی بکھیرنے کے لیے بےتاب ہوں تو……. اس منظر پہ نظر پڑتے ہی بے اختیار دل💞 سے ایک آواز نکلتی ہے… شاندار…… اسی طرح طالب علموں میں جب کوئی ایک بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے آتا ہے تو ہم اُسے کہتے ہیں.
بریلینٹ……..
ہاں جی بلکل اسی طرح ایک قابل انسان نے انسانیت کی خدمت کے لیے بریلینٹ کے نام سے ایک میگزین نکالنے کا بیڑا اُٹھایا ہے اور اب ایک ویب سائیٹ کے زریعے پوری دُنیا میں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اس پہ کام کرنا بھی شروع کردیا ہے……وہ کسی تعریف کے محتاج نہیں ہیں اُن کا کام اُن کی پُرکشش شخصیت کے بارے میں منہ بولتا ثبوت ہے, اورخود گواہی بھی دیتا ہے, جی ہاں….. وہ ایک ڈاکٹرہونے کے ناطے وطنِ عزیز میں پھیلنے والی مختلف بیماریوں کے انسداد کے لیے بھی کام کر رہے ہیں کالجز میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے سیمینار منعقد کرواتے ہیں اس کے ساتھ بریلینٹ میگزین کے زریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ان بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر سے بھی آگاہ کرتے ہیں….جی جناب میں بات کر رہی ہوں اس میگزین کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محترم شاہد چشتی صاحب کی جو اپنی مصروفِ زندگی سے وقت نکال کر اس کارِخیر سے منسلک ہیں… اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے نوازے…. آمین
اب کچھ بات ہو جائے…. شہر پاکپتن شریف کی جو ایک ایسی ہستی کا شہر ہے جو انسانیت کو خدا سےمحبت کرنا سیکھا گئی, جو اس مقدس شہر میں ایک شمع بن کر اُبھری اور ساری دنیا کو نُور سے ملامال کرگئی.خدا سے محبت کا واحد ثبوت نماز ہوتی ہے جیسے خدا سے لو ہووہ نمازِپنجگانہ ادا کرنےمیں کوتاہی نہیں برتتا, اور پھر اُس ہستی کی عظمت کے پیچھے ایک اور عظیم ہستی کا ہاتھ تھا جی ہاں… ماں…….. ماں سے بڑھ کر اِس دنیا میں بھلا کون عظیم ہستی ہوسکتی ہے…….آج بھی اُن کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ کاش آج کے دور کی مائیں بھی بابا فرید گنج شکر کی ماں جیسی ہوتیں تو ہمارے معاشرے کواسلامی معاشرہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا……
اُن کی جگہ تو کوئی بھی نہیں لے سکتا مگر اُنھی کے سلسلہِ نسب سے ایک چراغ روشن ہو کر نکلا ہے جو اس مشعل کو فانوس بنانے کی اتھاہ کوشش کرنے میں مصروفِ عمل ہے… ایسا فانوس جس کی روشنی تمام دُنیا کے اندھیرے دور کر سکے, کہتےہیں….
اگر کسی کام کے کرنے کا پکا ارادہ باندھ لیا جائے تو کام مشکل تو ہوسکتا ہے مگر ناممکن کچھ بھی نہیں رہتا…..
اس شہرِ مقدس سے ایک مشعل فانوس بننے نکلی ہے جس کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے…..خدمت تو کسی شکل میں بھی ہوسکتی ہے چاہے بول کی صورت ہو, تحریرکی, عمل کی….. یاآگاہی کی صورت میں ہو……
بریلینٹ نام سے نکلنے والی یہ مشعل جیسے اس شہرِ مقدس کے رہائیشی محترم ڈاکٹر شاہد چشتی صاحب اپنے جذبہِ ایمانی کے ساتھ اپنی ہتھیلی پہ سجائے اس کی روشنی کو پوری دُنیا تک پہنچانے کے لیے نکلے ہیں.اِس چمکتے روشنی بکھیرتے میگزین کی جو زندگی کی ایک نئی کرن اور اُمید لیے پورے آب و تاب کے ساتھ اپنی روشنی بکھیرتا ہوا اب پوری دنیا میں اپنی روشنی پھیلانے کی تگ ودو میں مصروفِ عمل ہے….وہ ایک ایسے فانوس کی ماند زندگی کے سارے رنگ لیے ہوئے ہے کہ جس سے ہم سب فائدہ اُٹھا سکتے ہیں.
بریلینٹ……..
اس میں شاملِ اشاعت جب موضوعات کو پڑھنے کا موقع ملا تو جانکاری ہوئی کہ ماشاءاللہ یہ تو ایسے موضوعات پہ مشتمل ہے کہ جن کو جاننا ہر انسان کے لیے بہت ضروری ہے……..
حمد, نعت کے بعد مجھے اس عظیم انسان کے مضمون کو پڑھنے کا موقع ملا…
پانی زندگی ہے…..
واقع ہی اس مضمون میں مجھے جو پڑھ کر محسوس ہوا کہ ہم پانی کو کیسے کیسے ضائع کرتے رہتے ہیں اور ہمارے وطنِ عزیز سے پانی کی قلت کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے….
انفارمیشن ٹیکنالوجی,گداگری کا خاتمہ وقت کی ضرورت,دورِجدید میں میڈیا کا کردار, شیخ گلزاراحمد فدا, تمباکو نوشی سے پرہیزکریں, پاکستان کے بنیادی مسائل, بریلینٹ گوشہِ اظہار, بریلینٹ طالب علم/بچے,بریلینٹ خواتین, زیابطیس(شوگر),زنا قرآن وحدیث کی روشنی میں…..
یہ سب موضوعات ایسے ہیں جو ہماری روزمرازندگی کا حصّہ ہیں,ایک ساتھ اتنا کچھ پڑھنے کو ملا جس میں خواتین اور بچوں کے لیے تحاریر الگ الگ صفحات پر مبنی تھیں, بیماریوں سے آگاہی حاصل کرنا میرے لیے بہت خوشی کی بات تھی, اس کے علاوہ اس میں میری ایک نظم اور کلام بھی شائع کیاگیا ہے…. جو میرے لیے بہت ہی عزاز کی بات ہے………
میں بریلینٹ کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک اس مشعل کو فانوس بننے میں اپنی خاص مدد فرمائے…. اور بریلینٹ کی پوری ٹیم کو اجرِخیر عطا فرمائے… آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ماہنامہ بریلینٹ (ایک تبصرہ)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں