363

سماجی ترقی میں میڈیا کا کردار

تحریر: شہزار ملک (بھولا پینڈو)

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم بے لگامی کے ماحول میں رہتے ہیں جہاں آزادی رائے کی یہ حالت ہے کہ کسی کی پگڑی اچھالنا، بہتان بازی کرنا یا سفید جھوٹ بولنا بھی قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔ قانون صرف کمزور کے لئے ہے اور حقوق صرف چھین کر ہی لیے جاسکتے ہیں۔ بے انصافی، معاشرتی ناہمواری اور بے لگامی کے اس ماحول مین ہمارے میڈیا پر بہت سی انگلیاں اٹھتی ہیں اور فکری محاذوں پر میڈیا نے قوم کو بہت مایوس کیا ہے۔
میڈیا کو سٹیٹ کا چوتھا ستون اور معاشرے کی آنکھ بھی کہا جاتا ہے۔ میڈیا ہماراروزانہ کا آئینہ ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گزشتہ کل کیا ہوا تھا جبکہ میڈیا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ آج کا منظر نامہ کیا ہے؟ ہمارا آج ہی ہماری تاریخ بنتا ہے۔ اسی لئے اخبارات کو روزانہ کی تاریخ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا کو سپہ سالار انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔ شعور وآگہی کاسب سے مؤثر ذریعہ میڈیا ہی ہے۔ پاکستان کے ماضی قریب میں میڈیانے عدلیہ بحالی اور جمہوریت بحالی تحریک میں صف اول میں مثالی کردار ادا کیاہے۔ میڈیا نے حقوق، اصول، قوانین، عدل وانصاف اور آئین کی سربلندی کیلئے بھر پور آواز اٹھائی ہے۔ عوام کو آگہی دی ہے اور بہت سے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ۔ مذکورہ مثبت اقدامات پر پاکستانی میڈیا بلاشبہ لائق تحسین ہے لیکن ترقی پذیرممالک میں چونکہ کم علمی، ناپختگی اور بے اعتمادی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے میڈیا وہان یلغار بھی کرتا ہے۔ آندھی اور طوفان کی طرح میڈیا سوچوں ، رویوں، نظریات اور جذبات کو الٹ پلٹ بھی کردیتا ہے۔
کم علم اقوام میں غیر ذمہ دار یا کمرشل میڈیا ابہارم، بھنور اور مایوسیاں بھی پھیلاتا ہے۔ پاکستان کی سماجی ترقی میں میدیا نے جہاں بہت سے مثبت رویوں کی آبیاری کی ہے وہاں ہی کئی رحجانات کو فروغ دے کرمایوسیاں پھیلانے، چہرے مسخ کرنے اور اخلاقیات کو بیڑہ غرق کرنے میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے۔
آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ سیاستدان اور مد مقابل دکھائی دیتے ہیں۔ نظام عدل ایسا ہے کہ جمہوریت اور آمریت کے ساتھ ساتھ عدالت خود بھی کٹہرے میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ قومی وقار، جمہوریت اور انصاف کے جنازے بھی سرے بازار مل جاتے ہیں۔ اس ابہامی کیفیت سے ہمیں ذمہ دار میڈیاہی نکال سکتا ہے۔ قلمکار، دانشور اور مبلغین ہی نے ہمارا ہاتھ تھامنا ہے۔
آج ہمارے ہاں پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی بہت ہی طاقتور ہوچکا ہے بلکہ اسے خطرناک اور بے لگام کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسی میں کوئی شک نہیں کہ بے انصافی عروج پر ہو، جب نظام عدل مفلوج یا مجبور ہوجائے اور کرپشن فیشن بن جائے تو پھر میڈیا ہی مظلوموں، مجبوروں اور بے بس لوگوں کی امیدو کا مرکز، سہارا اور ترجمان ہوتا ہے لیکن آج اسی میڈیا کو پاکستان میں ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ اور مفاد پرستی کے لئے بھی میڈیا کا استعمال ہوتا ہے۔ صحافتی اقدار، قلم کا تقدس اور لفظ حرمت کو ایک طرف رکھتے ہوئے بعض میڈیا ہاؤسز نے صحافت کو سرعام بازار بھی بنادیا ہے جہاں نظریات، عقائد اور حقائق کی منڈی لگتی ہے۔ قلم اور ضمیر بیچا جاتا ہے اور ملک کی فکری اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی بجائے تماشا لگایا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج الزام تراشی، بہتان بازی، گالم گلوچ، پگڑی اچھالنے اور بہو بیٹیوں کو بے توقیر کرنے کا شرم ناک فعل بھی میڈیا ہی کرتا ہے اور بعض چینل تو ایسے ہیں کہ شام سات سے رات بارہ بجے تک اگر ان کی نشریات دیکھی جائیں تو اچھا خاصا ناظر نارمل نہیں رہتا اور قیامت کا یقین ہوجاتا ہے۔ دہشت گردوں، چوروں اور وارداتیوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا لاشیں دکھانا، خوف ومایوسیاں پھیلانا بھی ہمارے میڈیا ہی کا کام ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا نام نہاد آزاد میڈیا اصل میں بدترین غلامی کا شکار ہے اور سرمایہ داروں کی چاکری کرنے پر مجبور ہے۔
آج بدقسمتی سے بعض ملاں اور میڈیانے وطن عزیز میں نفرتوں، تفرقوں اور دشمنیوں کو بھی خوب ہوا دی ہے۔ پاکستان میں دوریوں ، بے اعتمادیوں، خوف، تعصبات ، لسانیت، صوبائیت اور برادری ازم کو ختم کیا جاسکتا ہے اگر منبر پر تشریف فرمامذہبی قیادت اور ہمارے میڈیا پرسنز ذمہ داری کا احساس کرلیں تو آگ بجھائی جاسکتی ہے اور محبت بچائی جاسکتی ہے۔
یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے آج ساری دنیا کو ہماری آنکھوں کے سامنے لا رکھا ہے بالخصوص سوشل میڈیا نے ہر شخص کو صحافی بنادیا ہے۔ آج فیس بک، ٹیوٹر، وٹس اپ ودیگر نے انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا کو ایک گاؤں، ایک گھر جیسا ماحول میسر کرددا ہے۔ اب ہم دوسرے کے بارے میں بہت جلد بہت کچھ جان لیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس میں سے بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ناصرف ناقص بلکہ گمراہی یا بے راہ روی پر مبنی ہوتا ہے۔
آج میڈیا کے ذریعے لوگوں کو آپس میں لڑایا بھی جاتا ہے۔ بہکایا اور بھڑکایا بھی جاتا ہے۔ اگر ہم انٹرنیشنل میڈیا کاجائزہ لیں تو ہمیں اس بات کا بکوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ عالمی میڈی امت مسلمہ کے خلاف جانبداری سے کام لیتا ہے اور مسلمانوں کی مظلومیت اور ان پر ٹوٹنے والی قیامتوں کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ کئی مذاہب کے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سے ہمارا مقامی میڈیا بھی اسلامی روایات اور اقدار کے منافی بہت کچھ کر دیتا ہے۔ کئی میڈیا ہاؤسز آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف شرمناک طرز کا اعلانِ جنگ کیے ہوئے ہیں۔ کئی اینکر اور تجزیہ کار بازاری پن سے بھی اگلی منزل پر ہیں۔
میڈیا کی ابتری کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بعض میڈیا مالکان ایک طرف تو اپنے ورکرز کو تنخواہیں دینے کی بجائے ان کا خون چوستے ہیں اور دوسری طرف نظریات، حقائق اور اصولوں کی تجارت کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھر ہرگز نہیں کہ میڈیا بھی گھپ اندھیرا ہے۔ میڈیاجوکبھی مشن تاھ، صحافت جو کبھی عبادت تھی آج انڈسٹری کا روپ دھار چکی ہے لیکن اس میں آج بھی بہت اچھے اور مرد مجاہد موجود ہیں۔ بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت اعلیٰ اوصاف کے مالک ہیں۔ کئی بہترین صحافی، کالمسٹ، آرٹسٹ، تجزیہ کار، اینکرز، پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز آج بھی عامی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہں لیکن پاکستانی میڈیا سے عوام کو شکایات بھی ہیں۔ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والوں، مایوسیاں پھیلانے والوں، قومی وقار مجروح کرنے والوں اور صحافت کو کاروبار بنانے والوں کو ہمارے سامعین، قارئین اور ناظرین ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج پاکستان کو اتحاد، یکجہتی، ہم آہنگی کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے لئے حکمرانوں کو ہی نہیں تمام سماجی طبقات کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ بالخصوص وہ میڈیا جو ہمارا ترجمان، معاشرے کی آنکھ، آج کا آئینہ اور امیدوں کا محور ہے اسے ذمہ داری اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دوسری صورت میں ابہام، مایوسیاں اورالزام تراشیاں ہی ہمارا مقدر بنیں گی۔
آج پاکستان ایک ناقابل تسخیر ملک بن چکا ہے۔ ہم نے عسکری محاذ پر بھی بڑی مضبوطی حاصل کرلی ہے۔ کئی دیگر شعبہ زندگی میں بھی مثالی ترقی کی ہے لیکن ہم فکری محاذ پر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ نظریاتی اور فکری محاذ کے محافظ ہمارے صحافی اور قلمکار ہی ہیں۔ فکری مورچہ میڈیا نے سنبھالنا ہے۔ اگر یہ محاذ غیر محفوظ رہتا ہے تو پھر ہمت اور امیدیں لہولہان ہوتی رہیں گی اور خواب ریزہ ریزہ ہوتے رہیں گے۔ ہمارا میڈیا بھی سالارِ انقلاب بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے خود احتسابی کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں