225

دور جدید میں میڈیا کا کردار

تحریر: حکیم سید اختر علی شاہ . پنڈ دادنخان.

یہ ایک حقیقت ہے کہ صحافت مملکت خداداد کا چوتھا ستون ہے اور جس عمارت کے ستون مضبوط ہوں وہ عمارت بھی مضبوط ہوتی ہے ۔ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے چاروں ستونوں کا مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کے چاروں ستونوں کی اورھالنگ ہونا ضروری ہے میں بقیہ تین ستونوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں صرف چوتھے ستون صحافت کے بارے میں عرض کروں گا.۔ آج سے پچیس، تیس سال قبل اگر کسی اخباری ادارے کو ملک کے مختلف علاقوں سے نمائندگان کی ضرورت ہوتی تھی تو باقاعدگی سے اخباروں میں اشتہارات دیئے جاتے تھے کہ ہمیں نمائندگان کی ضرورت ہے جو افراد صحافت سے دلچسپی رکھتے ہیں اور مندرجہ ذیل کوائف پر پورا اترتے ہیں وہ اپنی درخواستیں مندرجہ ذیل پتہ پر ارسال کریں اس کے بعد باقاعدگی سے ان افراد کے بارے میں تحقیقات کے بعد باقاعدہ امیدوار کو بلایا جاتا تھا ان سے باقاعدہ تحریری امتحان لیا جاتا اس کے بعد انٹرویو۔ اگر دونوں چیزوں میں امیدوار پاس ہوجاتا تو چند دن کے بعد اسے لیٹر روانہ کردیا جاتا کہ آپ باقاعدگی سے خبریں بھیجیں آپ کی کارکردگی کی پڑتا ل کی جارہی ہے۔ چھ ماہ مکمل پڑتال کے بعد ادارے کی طرف سے باقاعدہ پریس کارڈ جاری کردیاجاتا تھا مگر افسوس درافسوس جب سے چھوٹے اخبارات اور نیوز چینل شروع ہوئے ہیں تو انھوں نے سیکیورٹی کے نام پر نمائندگان سے ہزاروں روپے لینے شروع کردیئے ہیں ۔ آپ خود خیال کریں کہ جو شخص خود چند ہزار روپے دے کر کسی نیوز چینل یا چھوٹی اخبار کا نمائندہ بنے گا اور ادارے کی طرف سے بھی کچھ نہ ملے گا اور نہ ہی اس کا اپنا روزگار تو اپنے بچوں کے لیے روزی کہاں سے کمائے گااور وہ صحافت کیسی ہوگی۔

صحافت بنیادی طور پر ایک شعبہ پیغمبری ہے اگر اس کا صحیح استعمال کیاجائے اور معاشرے کی اصلاح اور عوام کے مسائل حل کرانے کی طرف توجہ دی جائے تو اس سے اچھا شعبہ کوئی نہیں۔ جس طرح اولاد پر والدین اور اساتذہ توجہ دے کر بچوں کو معاشرے کے لیے ہیرا بنا دیتے ہیں اس طرح ہی صحافت پر بھی کچھ کنٹرول کچھ سہولیات کچھ توجہ سرکاری طور پر اور اداروں کی طرف سے دی جائے تو صحافی بھی ایک اچھی اور مثبت صحافت کریں گے۔ بھارت اوردیگر ممالک کی صحافت اور ٹی وی اینکرز کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو وہ سب سے پہلے اپنی قوم، اپنی فوج اور اپنے وطن کو اجاگر کرتے ہیں مگر ہمارا میڈیا محب وطن ضرور ہے مگر سیاستدانوں کے معاملات میں کچھ زیادہ ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے. ہمیں بھی چاہیے کہ ہم کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم، بھارتی بربریت اور سرحدوں پر بھارت کی طرف سے ہونے والی اندھا دھند خلاف ورزیوں اور کشمیر کے جذبہ آزادی کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اس طرح افغانستان نہ صرف ہمارا ہمسایہ ہے بلکہ مسلم برادر ملک بھی ہے اور وہاں پر امریکہ کی طرف سے ہونے والے ظلم وستم بربریت اور معصوم لوگوں اور بچوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا چاہیے. جتنے دلیر اور بہادر پاکستان کے صحافی ہیں اتنے بہادر کسی اور ملک کے صحافی نہیں. پاکستان میں صحافیوں کا بے دریغ قتل عام اب ایک روایت بنتی جارہی ہے۔ پنڈدادنخان کا شہیدِ صحافت راجہ اعجاز احمد ہو یا کرچی کا بابر ولی خان یا سیالکوٹ ملک میں سینکڑوں صحافیوں کو قتل کردیا گیا مگر آج تک ان کے قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں نہیں دی گئیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر کے صحافیوں کو تحفظ دیاجائے اور صحافیوں کے قاتلوں کو دہست گردی ایکٹ کے تحت سزا دی جائے۔
***

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں