307

جمال خوشیگی کے قتل کی لرزہ خیز اندرونی کہانی

تحریر: ملک عبدالروف اعوان

( ڈائریکٹر تھنک ٹینک کامن مین ایشوز  ریسرچ کونسل آف پاکستان )

جمال خوشیگی جو کہ سعودی شہری جرنلسٹ ایکس سعودی وزارت اطلاعات کا پیڈ تھا اور ورلڈ فیم واشنگٹن پوسٹ کا نمائندہ تھا اور امریکہ و مغربی دینا میں مستند مڈل ایسٹ اور سعودی عرب کے حالات حاضرہ پر تجزیہ کرنے والا جاندار صحافی تھا اور ان دنوں انٹرنیشنل میڈیا پر MBS کی پالیسوں کے خلاف کھل کر تنقید کر رہا تھا. محمد بن سیلمان ایک نہایت ہی متنازعہ سعودی ولی عہد جسے عرف عام میں MBS کہیتے ہیں کی ظلم اور بربرہیت پر مبنی اندرونی اور اسپشل یمن اور شام پر اندھا دھند بمباری جس سے ہزاروں لاکھوں بے گناہ مسلمان بچے خواتین اور مردوں کا قتل عام ہو چکا ہے. اور اسی طرح اپنے نہایت ہی قریبی رائل فیملی کے تقریبا دو سو سے زاہد شہزادوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پابند سلال کر دینا، ہزاروں کی تعداد میں سعودی علماء ، مفکروں اور میًڈیا سے متعلق افراد کو صرف اس بنیاد پر گرفتار کرنا کہ وہ MBS کی انسانیت سوز پالیسیوں سے آختلاف رکھتے تھے اور رائل کورٹ اور رائل شورہ کے پروٹوکول کی دھجیاں بکھیرتے ہوے شاہ سلیمان نے آوٹ آف ٹرن MBS کو ولی عہد بنانے کے لیے پانچ سنیئر ترین اور معتبر ترین رائل فیملی کے ممبران کو معزول کرکے اس کو ولی عہد بنایا. اندورنی طور پر رائل فیملی اندرہی اندر ایک عرصے سے ہیجانی کیفیت طاری تھی کہ اوپر سے ایک ایسے جرنلسٹ کو نہایت ہی بہیمانہ طریقے سے استنبول سعودی ایمبیسی میں جب جمال خوشیگی اپنی پہلی بیوی کے طلاق کے پیرز سعودی کونسلیٹ سے طے شدہ شیڈول کے مطابق حاصل کرنے کے لیے اپنی منگیتر کے ساتھ آیا. تو اس کی فوٹیج سی آئی اے نےاس کی کلائی پربندھی ہوئی ایپل موبا ئل واچ کے زریعے سے ایمبیسی کے اندر اس پر ہونے والے تشدد اور ظلم کی لمعہ بہ لمعہ خبر بیرونی دنیا کو دے دی. اب یہ ساری نہایت ہی پیچیدہ انٹیلیجنس نیٹ ورک کی کہانی سی آئی اے سے جڑتی ہے اور لگتا یہی ہے کہ امریکہ نے جو جو کام MBS سے لینے تھے وہ لے لیے اور اب صدام , قذافی پیٹرن کی کہانی دہرائی جائے گی. اب امریکہ خوشیگی کا کیس جنرل اسمبلی سے ہوتا ہوا سیکیورٹی کونسل میں پہنچانے کی پوری کوشش کر رہا ہے اور ادھر طیب اردگان نے ترک پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے استنبول سعودی ایمبیسی میں واشنگٹن پوسٹ کے جرنلسٹ اور سعودی شہری وایکس ایڈوایزر ٹو رائل کیبنٹ خشوگی جی کا قتل ایک پلان قتل قرار دیا اور اس کا ذمہ دار سعودی سفارت خا نے کو قرار دیا. اور ان 18ڈیتھ اسکواڈ افراد، جو کہ قتل ہونے والے دن یعنی دو اکتوبر کو نو بجے صبح استنبول سعودی ایمبیسی میں داخل ہوئے اور چار بجے اپنا مشن مکمل کرکے چارٹرڈ سعودی جہاز سے واپس چلے گئے تھے ان 18افراد اور خشوگی کی لاش کو ترک حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا ہے اور طیب اردگان نے کنگ سلیمان سے یہ ڈ یمانڈ کی ہے. خدا خیر کرے! کیوں کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی نہیں سیکھتا !!!!

سی آئی اے کی ایک اور گھناونی چال کامیاب ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے. کیوں کہ MBS رجیم نے تقریبا 3/4 کنفیڈ ینشل statement خوشیگی کے قتل پردے دی ہیں کہ قتل استنبول ایمبیسی کے اندر ہواہے!!! یہ کیس ایک بہت خطرناک رخ اخیتیار کر رہا ہے. اب دیکھتے ہیں کہ امرہکہ سعودی عرب سے خوشیگی کے قتل کے ہونے کے بعد کیا قیمت وصول کرتا ہے!!! عرب مماللک نے مسلم امہ کو ناقابل تلافی نقصان پہچنایا ہے. گویا کہ
“”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے””

نوٹ: یہ تحریر چوہدری انور چوہان آف کھاریاں کی وال سے کاپی کی گئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں