310

صحابہ کرام اور ہمارے ایمان میں اتنا فرق آخر کیوں ؟

تحریر: حافظ احمد ھاشمی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

ہم میں سے بعض لوگ یقینا یہ سوچتے ہونگے ہوں کہ صحابہ کرام اور ہمارے ایمان میں اتنا فرق آخر کیوں ہے؟

اگر ماحول کا شکوہ کریں تو وہاں تو توحید کا نظریہ تب دیا گیا جب کسی کو اسکا خیال تک نہ گزرا تھا اور ہمیں تو بچپن سے اپنے گھروں اپنے ارد گرد کے ماحول سے اللہ کے متعلق بتایا جاتا ہے..۔

صحابہ کے پاس قرآن بھی یہی تھا جو آج ہمارے پاس ہے، ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی تھے جو ہمارے ہیں، سب کچھ تو ایک جیسا ہے پھر؟

ہمارا ایمان ان کے جیسا کیوں نہیں؟

کیا انھوں نے اللہ کو دیکھا تھا؟

کیا انھوں نے جنت اور جہنم دیکھی تھی ؟

تو پھر کیا تھا جو انہیں جنت کا شوق جان دینے سے بھی نہیں روکتا تھا؟

آخر کیا تھا جو انھیں جہنم کے ذکر پر آہ و زاریاں کرنے پر مجبور کرتا تھا؟

آخر کیا تھا کہ قبروں پر انکی داڑھیاں بھیگ جاتی تھیں؟
قرآن سنتے ہی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔۔!!
آخر ایسا کیا تھا کہ انہوں نے اس دین کے لیے اپنے گھر تک چھوڑ دئیے ؟

ہمارے ساتھ ایسا کیوں نہیں؟

کیا اب قرآن کی آیات میں اسی جنت و جہنم کا ذکر نہیں جو اس وقت تھا؟
کیا آج ہمارے اردگرد قبرستان بھرے ہوئے نہیں ؟؟
کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے؟؟
ہم کیوں کسی کے پریشر میں آکر اللہ کی اطاعت چھوڑ دیتے ہیں؟
حتی کہ انکے سوال بھی مختلف ہوتے تھے بس ہمیشہ یہی فکر کہ اللہ کو کیسے خوش کریں؟
اللہ کے نزدیک افضل عمل کونسا ہے؟
جنت کیسے ملے گی؟

اور ہمارے سوال؟
رشتہ نہیں ہو رہا کوئی وظیفہ بتائیں، بیٹے کی جاب نہیں ہو رہی کوئی سورت بتائیں، رزلٹ اچھا آجائے کوئی آیت بتائیں، حتی کہ رنگ صاف کرنے کے لیے بھی قرآن کی آیات کا ورد شروع کردیا۔ لاحول ولاقوة الا بالله، آیت کریمہ کی سوا لاکھ بار تسبیح کرلو اگر کوئی آزمائش آئی ہے، گھر میں مشکلات ہیں سب کو اکھٹا کرکے قرآن کے ختم کروالو، خواہ سورة الفاتحہ کا بھی ترجمہ نہ آتا ہو؟
اصل اسلام تو وه لائے تھے۔
پتہ ہے ہم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟
ان کے اندر یقین بھرا ہوا تھا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں سچی اور والہا نہ محبت تھی ۔

صحابہ کو یقین تھا قران کے ایک ایک لفظ پر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات پر یقین جنت اور جہنم کے وجود پر یقین اور ایسا کہ انہیں جنت کی خوشبوئیں آتی تھیں ۔
انہیں یقین تھا اللہ سے ملاقات پر۔
دراصل حدیث مبارکہ کے مطابق ہمار ے اندر *وہن* بھر گیا ہے۔
اور ہمارا وہن(دنیا سے محبت اور موت سے نفرت) ایسا ہے کہ کوئی جنت کا ذکر کرے تو مزاق لگتا ہے۔ معاذ اللہ
کوئی اللہ کی بات کرے تو موڈ بدل جاتے ہیں
کوئی دین کی نصیحت کرے تو انا کا مسلہ بنا لیتے ہیں.
دنیا کی تعلیم کے لیے 16,16سال لگا لیتے ہیں لیکن قرآن حکیم سمجھنے کے لیے کچھ عرصہ لگانا مشکل لگتا ہے۔

اس کیلئے ڈھیروں بہانے نکل آتے ہیں
کہاں جا رہے ہیں ہم؟
یا تو مرنا نہ ہو اللہ تعالیٰ کے سامنےاکیلے حاضر نہ ہونا ہو یا اسے حساب نہ دینا ہو تو پھر تو انسان کہے آزادی ہے لیکن یہ سب تو ہونا ہے۔

اپنی آ نکھیں بند کر لینے سے حقیقت تو نہیں بدلے گی ہاں البتہ اپنا نقصان ضرور ہو گا

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں
“کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے فائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤگے؟. (23:115)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں