354

شیخ الاسلام و المسلمین حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ

تحریر: مفتی محمد زاہد اسدی

آپؒ ملتان میں569 ء میں پیدا ہوئے آپکا شجرہ نصب حضرت عمر فاروق سے ملتا تھاآپ کی تعلیم کا آغاز والدہ کی گود سے شروع ہوئی والدہ نہایت صالحہ پارسا اور عظیم خاتون تھی۔ حضرت بابا فریدؒ نے 1180 سے 1271 ء تک دنیا میں علم کی شمع کو روشن کئے رکھا۔ آپ نے 90 سال کی عمر پائی۔ ساتویں دھائی میں اجودھن اور آج کا پاکپتن کو اپنا آستاں بنایا اور پاکپتن کو علم کا مرکز بنایا اس وقت کا مرکز گارے مٹی اور بڑی اینٹوں سے بے سروسامانی میں بنایا گیا۔دین اسلام کا پیغام پہنچانا امت مسلمہ کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے۔ جیسے قران میں حکیمانہ انداز میں سے بیان کیا گیا ہے کی ترجمہ:
’’عظیم الشان رسول ﷺ جو آپ کی طرف اپنے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اس کی تبلغ اور اشاعت فرمائیے‘‘

بابافرید الدین مسعود گنج شکر ؒ نے بھی اللہ اور اس کے پیغام کو عوام تک پہچانے کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ آپ کے ہاں حصول علم کے لیے آنے والے سادہ روٹی کھاتے تھے اوراپنے دل میں لیے رب کی تلاش کرتے ، سادہ لباس پہنتے اور کچے فرش پر سوتے تھے۔اس اقامتی یونیورسٹی میں تعلیم و تربیت ، طعام خوراک دستیاب ہوتی تھیں ۔اس یونیورسٹی کا نصاب عقل علم اور عشق الٰہی تھا۔ ایک دفعہ آپ حجرہ کے اندر سربسجود تھے تھوڑی دیر چلنے کو جی چاہا عصا کا سہارا لے کر چند قدم چلے پر چہرے کا رنگ منقسم ہو گیا۔ہاتھ سے عصا چھوڈدیا حضرت نظام الدین اولیا ساتھ تھے۔انہوں نے پریشانی کا سبب پوچھا تو فرمایا عصا پر سہارا لیا تھا تو عتاب نازل ہوا ہے کہتا ہے کہ غیر کا سہارا لیتے ہو تو اسلیے عصا چھوڑ دیا۔
پوری زندگی روزے میں رہے مجلسوں میں بات بات پر روتے تھے بعض دفعہ دھاڑیں مار مار کر روتے تھے۔حضور نبی کریم ﷺ کا نام کر آپ کو خود پر اختیار نہیں رہتا اورآنکھیں زاروقطار اشک بہاتی تھیں۔سنت کا یہ عالم تھا کہ کبھی موکدہ تو دور غیر موکدہ بھی ترک نہیں کی تھیں۔ آپ نے ہمیشہ اسوہ حسنہ کو مشعل راہ بنایا۔آپ نے ساری زندگی قرآن و سنت کی پیروی میں گزاری۔طبیعت میں سادگی اور بے حد انکساری تھی۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں میسر ہونے کے باوجود ان سے پہلوتہی کرکے گزر اوقات کرتے، دل کی نرمی غالب رہتی۔ تمام عمر ریاضت وعبادت میں گزاری جس کی وجہ سے آپ کو زہدالانبیاء کا لقب دیا گیا ۔ آپ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت صوفیاء کرام اور مشائخ عزام میں ٹھوس اور بے مشال کردار ادا کیا ،صوفیائے کرام نے اشاعت اسلام اور تبلیغ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔ احکام خدا وندی کے اہتمام کے لئے اپنے گھروں کو خیر آباد کہہ کر ایسا نکلے کے گھر کا پتہ ہی نا رہا۔ جہاں تبلیغ کا مرکز بنایا وہیں کے ہوکر رہ گئے اور وہیں مدفن ہیں۔ آج جو بر صغیر میں اسلام کا بول بالا ہے یہ انہیں صوفیاء کرام کی وجہ سے ہے، کوئی نبی یہاں ظہور پذیر نہیں ہوا، ا صرف چند ایک صحابہ کے یہاں آنے کے شوابد ملتے ہیں ان حالات میں صوفیاء کرام مشائخ عزام کی مساعی جمیلہ سے اسلام یہاں ترویج پایا، ان حالات میں بزرگان دین کے زبان کی نرمی اور خوش مزاجی ، کردار کی عمدگی اور خوش اخلاقی کو نمایاں مقام حاصل رہا۔صوفیاء کرام نے اسلام کو پھیلانے کے لیے اس ترکیب کا انتخاب کیا۔ حضرت بابا فرید ؒ فرماتے ہیں کہ ’’ علم انسان ایسا حاصل کرے کہ وہ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچائے تو ایسا علم خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک تمام عبادتوں سے افضل ہے۔ آپ کی شخصیت آج بھی ایک نابغہ روزگارشخصیت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ آپ کے وصال کو آٹھ صدیاں ہونے کو ہیں ا س کے باوجود آج بھی آپ کی ریاضت علم و فضل عبادت یتیم پروری خدمت خلق تعلیم و تربیت کے ڈنکے اسی طرح بج رہے ہیں اور آپ کا فیض جاری ہے۔ بابا فرید ؒ اخلاق نبوی کا نمونہ اور پیکر وفا تھے۔ آپ پر ہر وقت خشیت الٰہی اور رقت کا غلبہ رہتا تھا۔ تعلق بااللہ کاتو یہ عالم تھا کہ اکثر اوقات خوف خدا اور روحانی غلبہ ایمانی قوت کے اثرات اور محاسبہ آخرت کے تصور سے بے ہوش ہوجاتے تھے۔آپ فکر استنا میں اعلی مقام رکھتے تھے۔ آپ کی شخصیت مبارکہ شریعت طریقت، عبادت، خدمت، شفقت کا مجموعہ تھے اور ہر اعتبار سے مقام عروج پر پہنچے ہوئے تھے، آج آپ کی تعلیمات اور طرز حیات پر عمل کر کے ایک کامیاب پر امن، مثالی انسانی ، اسلامی معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

حضرت بابا فریدؒ جیسی شخصیات قوموں کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ہمیں ان شخصیات کی حقیقی زندگی کے ان پہلووں کو عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے جس سے انسانیت بھلائی کے راستے کا تعین کرے اور ان کو مشعل راہ بنائے۔ رضائے الٰہی بذریعہ خدمت انسانیت اللہ تعالی کی مخلوق سے بے تعاون کرنا خدمت خلق کہلاتا ہے۔بابا جی ؒ فرماتے ہیں میری زندگی کی ریاضت، زہد تقوٰی، عبادت اپنی جگہ لیکن ان سب سے بڑھ کر جس بات پر اللہ کے رو برو سرخ رو ہوا وہ خدمت انسانیت ہے ۔ بلا شبہ صوفیاء کرام کی یہی روش ہے۔ حضرت بابا فرید ؒ نے پسماندہ غریب ، مفلوک الحال، مفلس اور محرومیت کا شکار کمزور ، نادارو محتاج غیر مسلموں سے بھی مشفقانہ رویہ اپنایا انہیں اپنے قریب جگہ دی عزت و احترام دیا، ان کی معاشی ضروریات کا احترام کیا، ذلت و رسوائی کی گدلاہٹ کو دھوکر ان کو برابری کا درجہ دیا۔ جس کی وجہ سے وہ حلقہ بدوش اسلام جوق در جوق داخل ہوگئے۔ آپ نے بطور آقامہ اجودہن کے اس ہندو علاقے کو اپنا مسکن بنایا۔ تاکہ کفر کی تاریکیوں کو اسلام کی روشنی سے منور کر سکیں، آپ کی مساعی سے اس علاقہ کی کایا پلٹ گئی۔ یقیناًیہ غیر مسلموں سے آپ کی محبت کا ثمر تھا۔ غیر مسلموں کے سخت دل بھی آپ کی اور اسلام کی طرف کھنچے چلے آتے۔غیر مسلم آپ کے آستانے میں بلا جہک اس طرح آتے جیسے وہ اپنے گھر ہی میں ہوں۔آپ کے عقیدت مندوں کا انداز ریاضت و عبادت سے ان کے دلوں میں اسلام کی محبت جگہ کر گئی۔آپؒ کا آستانہ اصحاب صفہ کے ماحول کا عملی مجموعہ تھا آپ مریدوں کے لئے دعا فرماتے اور مناسب علاج کا مشورہ دیتے۔ اور بیماروں کی تیماداری آپ کی زندگی کا معمول تھا۔آپ کی پوری حیات مبارکہ میں فقر افاقہ اور درویشی غالب رہی۔ لباس اور اخلاق میں مکمل سادگی تھی جس کمبل پر دن کو بیٹھتے اسی کو رات کو اوڑھتے تھے۔ عالم یہ تھا کہ سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے۔ لنگر خانے میں مختلف کھانے ہوتے خود نا کھاتے دوسروں کو کھلاتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ افطار کے وقت روٹی پیش کی گئی طبیعت بوجھل ہوگئی معلوم کرنے پر پتہ چلا کے یہ شرابی کے گھر سے آئی تو فورا قے کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں