529

یہ سانحہ مرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا

شہید پاکستان حکیم محمد سعید شہید کی برسی کے موقع پر خوبصورت تحریر
تحریر: حکیم لطف اللہ
شہید پاکستان حکیم محمد سعید کیا نہیں تھے؟ وہ ایک صنعت کار ، ایک منظم، ایک معالج،ایک ماہر تعلیم، ایک مصلح، ایک سیاسی قائد، ایک مصنف، ایک مدبر، ایک سیاح، ایک مقرر اور ایک سکالر تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو فروغ علم کے لیے وقف کررکھا تھا۔ وطن عزیز کی مٹی کا قرض چکانے کے لیے جب شامِ ہمدرد کا پروگرام بنایا تو سائنس دانوں، اہل ثقافت، مؤرخین، ماہرین تعلیم، ادیب، شاعر، ٹیکنوکریٹس، مصنف، معا لجین، مفکرین، محققین وماہرین اقتصادیات، جغرافیہ دانوں، ماہرین آثار قدیمہ، سماجی کارکنوں، اساتذہ، انجینئروں اور سیاست دانوں کی ایک کہکشاں اکٹھی کرڈالی۔
ملک کامسقبل سنوانے کے لیے حکیم صاحب نے پاکستان کے نونہالوں کا ہاتھ تھام لیا۔ بچوں کی تعلیم وتربیت، ان کی ذہنی نشوونما، انھیں خود اعتمادی کی خوبی سے مزیّن کرنا اور ان میں قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر پیدا کرنا، انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا تھا۔

1987ء میں نونہالوں کے لیے نونہال ادب کا شعبہ قائم کیا۔ خبرنامہ ہمدرد نونہال نکالا۔ بچوں کے ادب پر100 سے زائد کتابیں لکھیں۔ سفرنامے لکھے۔ نونہالوں کی ذہنی تربیت کے حوالے سے ہمدرنونہال اسمبلی قائم کی۔ بچوں کوایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا، جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ نونہال اسمبلی ہر ماہ باقاعدگی سے کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں منعقد کرتے رہے۔ شہید حکیم محمد سعید اکثر فرماتے کہ ’’میرے بچو متحد ہوجاؤ۔‘‘ وہ اپنی مثال آپ تھے۔
وہ روزے بہت پابندی سے رکھتے تھے۔ انھوں نے ایک وقت کے کھانے اور صبح کے ناشتے پر زور دیا۔ قوم کو کفایت شعاری کی تلقین کرتے رہے۔ شادی بیاہ پر فضول خرچی سے منع کیا۔ ہرکام وقت پر کرتے۔ زندگی بھر کسی بھی پروگرام یا تقریب میں دیر سے نہیں پہنچے۔ وسائل کے اعتبار سے اپنا طیارہ اور ہیلی کاپٹر رکھنے کی استطاعت تھی، مگر ایک عام سی کار پر سفر کوترجیح دیتے۔
جب گورنر سندھ بنے تو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے بجائے اپنی ذاتی گاڑی میں آنا جانا پسند کرتے تھے۔ گورنر ہاؤس کا باورچی خانہ بند کررکھا تھا، کیوں کہ دوپہر کا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔ آپ کی رہائش گورنر ہاؤس کے بجائے اپنے ہی گھر پر تھی۔ عجزوانکساری ان کی فطرت میں تھی۔ فقر ان کا طریقۂ زندگی تھا۔ تقویٰ اور پرہیز گاری ان کا سلیقۂ زندگی تھا۔ قناعت کا سبق انھیں بچپن کی صعوبتوں نے دیاتھا۔ انھوں نے پاکستانی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کی۔
حکیم صاحب کا نعرہ تھا ’’پاکستان سے محبت کرو، پاکستان کی تعمیر کرو۔‘‘ اخلاق، محبت، خلوص، علم، ایثار، انسان دوستی، فروغ طب وحکمت، وقارِ اطباء، تعمیرِ وطن اور سعی وعمل کی ہمیشہ زندہ رہنے والی تاریخ کا دوسرا نام شہید حکیم محمد سعید ہے۔ اکثر وبیشتر دانش وروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ پاکستان کا نظام درست نہیں ہوسکتا، یہاں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ خراب نظام نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، کچھ کرنا بھی چاہیں تو نظام اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شہید پاکستان نے ان تمام باتوں کو ردکردیا اور تعلیم اور اخلاقی نظام کے لیے سرپرکفن باندھ کر کھڑے ہوئے۔ آج بھی ان کا مشن جاری ہے۔
حکیم صاحب پاکستانے کے ذرّے ذرّے سے محبت کرنے والے ایک ایمان دار اور وضع دار انسان تھے۔ وہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ لفظ ’ہمدرد‘ ان کی زندگی اوران کے بنائے ہوئے اداروں کی پہچان بن گیا۔
شہید حکیم محمد سعید نے حضور نبی اکرم ﷺ کی پسندیدہ لباس کو اپنی پہچان بنایا۔ وہ سفید رنگ کی شیروانی اور کرتا پاجامہ پہنتے تھے۔ یہی لباس وہ شام کو اپنے ہاتھوں سے دھو کرصبح استرے کرکے پہن لیتے اور نماز فجر کے بعد دواخانے پہنچ جاتے۔ شہید پاکستان نے اپنی محنت سے کئی جہان آباد کیے۔ پوری زندگی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ اپنے رب کے دیے ہوئے رزق حلال اور خون پسینے کی کمائی مستحقین کے لیے وقف کردی۔
حکیم صاحب روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کے عادی تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں بیٹی سعدیہ راشد سے فرماتے: ’’بیٹی! کام کو اور تیز کرنے کے لیے لگتا ہے کہ مجھے نیند کے چار گھنٹوں سے ایک گھنٹہ اور کم کرنا پڑے گا۔‘‘ صاحب زادی نے کہا: ’’کہ اباجی! آپ بیمار پڑجائیں گے۔‘‘ انھوں نے زندگی میں کئی بار اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کیا۔
قیام پاکستان کے وقت جب وہ کراچی آئے تو آرام باغ ہمدرد دواخانے سے کام کا آغازکیا۔ پچاس روپے ماہانہ کمرا اور ساڑھے بارہ آنے پر فرنیچر کرائے پر حاصل کیا۔ 1953ء میں ہمدرد کو وقف پاکستان کردیا۔ حکیم صاحب نے اپنی زندگی میں پچاس لاکھ مریضوں کا علاج کیا۔ انھوں نے اپنی کاوشوں سے عالمی ادارۂ صحت (WHO) سے طب یونانی کو سائنس تسلیم کروایا اور طب یونانی، ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کو ایک صفحے پرلانے میں کام یاب ہوئے۔
انھوں نے کراچی میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر 1983ء میں مدینتہ الحکمہ کی بنیاد رکھی، جس میں طب، علم دین، سائنس اور اسپورٹس کے شعبے قائم کیے۔ انھوں نے ہمدرد یونیورسٹی قائم کی، جس کی بنیاد رکھنے والوں میں کئی ممالک کے صاحبانِ علم ودانش شامل تھے، جن سے بنیادوں میں ایک ایک اینٹ نصب کروائی۔ البیرونی، ابن سینا اور دوسرے مسلمان سائنس دانوں پر عالمی کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ یونیسکو میں پاکستان اور اردو پر اتنا کام کیا، جوغالباً پاکستانی سفیروں کے سارے کاموں پر بھاری تھا۔ جس کام کا انھوں نے بیڑا اٹھایا، اس کی تکمیل کے لے وقت، مال اور جان سب کچھ لگادیا۔
انھوں نے ہمدرد یونیورسٹی کو فروغ تعلیم کے ساتھ تخلیقِ علم کا ذریعہ بھی بنایا۔ ہمدرد پبلک اسکول سوایکڑ اراضی پرقائم کیا۔ اس اسکول میں آج ہزاروں بچے علم کی پیاس بجھارہے ہیں۔ بیت الحکمت میں ایشیا کی سب سے بڑی لائبریری قائم کی۔ شہید حکیم محمد سعید ارباب دانش کو ساتھ لے کرچلے۔ جب انھوں نے ہمدرد یونیوروٹی کا افتتاح کیا اور تختی سے پردہ اٹھایا تو ان کا ساتھ دینے والے ہمدرد شوریٰ کے تما م ساتھیوں کے نام اس پر تحریر تھے۔
ان کی شہادت ہمدرد مطب کے دروازے پر ہوئی۔ کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی، ڈھاکا اور لندن میں بغیر کسی ناغہ کے مطب کیا۔ شہید حکیم محمد سعید ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ احترام انسان ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرا ملک سورۂ رحمٰن کی زندہ تصویر ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ سنجیدگی، حساسیت، ہوش وخرد، عقل وشعور، فہم وادراک، تحمل وبردباری، قناعت وصبر، ہمت وجرأت اور جوش وولولہ جیسی خوبیاں اس ایک شخص میں اللہ نے سمودی تھیں۔ وہ ایک ادارہ نہیں، بلکہ کئی اداروں کے بانی تھے۔ 1993ء میں جب گورنر سندہ بنے تو بحثیت گورنر کئی یونیورسٹیوں کااجرا کیا اور اس طرح کراچی یونی ورسٹیوں کا شہر بن گیا۔ شہید حکیم محمد سعید کے بعد اب تو مثال کے طور پر پیش کرنے کے لیے بھی کوئی شخصیت باقی نہیں، جس نے اتنی بامعنی، بامقصد اور مثبت زندگی گزاری ہو۔ لباس کی سادگی، آنکھوں کی حیاء، لہجے کی مٹھاس، کم خوراکی اور مقصد سے لگن ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
صدرجنرل ضیاء الحق نے انھیں آغاشاہی کے بعد وزیر خارجہ بنانا چاہا تو انھوں نے معذرت کرلی۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کے قائم کردہ پروجیکٹس آج بھی کام یابی سے چل رہے ہیں، مثلاً ہمدرد پبلک سکول، ہمدرد کالج آف سائنس، ہمدردکالج آف کامرس، ہمدرد ویلیج اسکول، ہمدرد یونی ورسٹی، ہمدرد لائبریری، ہمدرد کالج آف میڈیسن اینڈ ڈسپنسری، ہمدرد المجید کالج آف ایسٹرن میڈیسن اور ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی۔
ان کے جرائد میں ہمدرد نونہال، خبرنامہ ہمدرد، ہمدرد صحت، ہمدرد اسلامیکس، ہمدرد میڈیکس اور ہمدرد ہسٹاریکس شامل ہیں، جوآج بھی جاری وساری ہیں۔ ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان نہایت اہم اور باوقار ادارے ہیں، جومحترمہ سعدیہ راشدصاحبہ (چیئر پرسن) کی زیرِ نگرانی خدمتِ انسانی کے لیے کوشاں ہیں۔ شہید حکیم محمد سعید کے مشن کی تکمیل ہم سب محب وطن پاکستانیوں پر قرض ہے۔
حکیم سعید جیسی ہستی صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ کیسے عظیم اور وضع دار انسان تھے۔ وہ ایک ایسے شجر سایہ دار تھے، جس کی چھاؤں میں خوشی تھی، آسودگی تھی اور اطمینان تھا:
اداس بیٹھے ہیں گھر کی دیوارپر پر ندے
جو صحن میں تھا شجر، بہت یاد آرہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں