322

غزل . مشکل بنی ہے زندگی جینا بہت دشوار ہے

شاعر: احمد سعید سدھوؔ
مشکل بنی ہے زندگی جینا بہت دشوار ہے
ہے آگ اپنے سامنے اور پشت پہ دیوار ہے
کامیابی کا مرانی ہے چا پلوسی کا ثمر
جن کار ہے وہ بے بدل . دلبر وہی دلدار ہے
مہرووفا لطف و عطا جودوسخا صبرو رضا
ہر وصف ہے عنقا ہوا محرومی کردار ہے
کشتی بھنور میں آ پھنسی بچنا بہت دشوار ہے
ہے ناخدا کمزور تو بپھری ہوئی منجدھار ہے
جائیں تو اب جائیں کہاں ملتی نہیں جائے اماں
یہ جان تنہا ہی یہاں یوں برسر پیکار ہے
ممکن نہیں کہ کہہ سکے کوئی کسی کے سامنے
قانون ہے بے بس یہاں منصف یہاں لاچار ہے
اب عام ہے رشوت یہاں کوئی نہیں پرساں یہاں
اب کرگسوں کے درمیاں شاہین بھی بیزار ہے
فرعونیت کا دور ہے ہر سمت ظلم وجور ہے
اب بول کے دیکھے کوئی پھندا تیار ہے
ایسا کڑا ہے امتحاں ارزاں ہوا انساں یہاں
ہے دین نہ ایماں یہاں حاکم بنا زردار ہے
ناپید ہوتی جا رہی تشہیر میں شرم و حیا
پڑھ لیجئے سورۃ النساء قرآن کا انکار ہے
اسلام کی کرنا نفی اغیار کی کوشش رہی
ان کی یہی فتنہ گری اپنے لئے شاہکار ہے
سدھوؔ نہیں بس میں ترے تو ہے نحیف وناتواں
وہ حل کرے گا مشکلیں جو مالک ومختار ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں