301

غزل

(ڈاکٹر اظہر کمال)
میں نے تو اک چراغ جلایا تھا سامنے
سارا جہان خود چلا آیا تھا سامنے

پھر یوں ہوا کہ ہار مجھے ماننا پڑی
تن کر کھڑا ہوا میرا سایا تھا سامنے

اس نے مجھے دھکیل کے پیچھے ہٹا دیا
میں جس کو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لایا تھا سامنے

سچ پوچھئے تو صرف اناوں کی جنگ تھی
دونوں نے اپنا ہجر منایا تھا سامنے

اے یار خوش جمال ترا آئینہ تھا میں
تونے کبھی مجھے بھی بٹھایا تھا سامنے

تاکہ کوئی بھی غمزدہ چہرہ نہ پڑھ سکے
اظہر نے اک نقاب سجایا تھا سامنے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں