375

تعلیم کی اہمیت

تحریر: حکیم لطف اللہ

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے کرپشن ، چوری ، ڈکیٹی، راہزنی، قتل اور بے ایمانی جیسی مہلک بیماریاں جہالت کی وجہ سے ہیں اور جہالت کا اندھیرا صرف علم کی روشنی سے دور ہوسکتا ہے اور حصول علم کا زریعہ ہمارے تعلیمی ادارے ہیں جہاں ہم 70سال سے تعلیمی پالیسی ہی نہیں دے پائے اور نہ ہی استاد پیدا کرپائے اور وہاں تعلیم اور تربیت نام کی کوئی چیز ہیں نہیں۔ میٹرک تک حصول علم کے ایک درجن تک نظام تعلیم اور اسی طرح ایک درجن تک نظام تعلیم میٹرک سے اوپر کے نظام کے لیے موجود ہیں ۔ گذشتہ 38 سالوں میں پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر نے معاشرے کو ایسے شکنجے میں جکڑا جسکی گرفت اب بہت مظبوط ہوچکی ہے۔ سرکاری اداروں میں کوئی کام کرنے کو تیار ہی نہیں بدنیتی ہر سطح پر آڑے آجاتی ہے۔ حکومتی سطح پر بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہی۔ کالجز اور سکولوں میں دوتین صد طالب علموں کے لیے ایک استاد انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی کلاس کا یہ حال ہے کہ تعداد تو اڑھائی سو کے لگ بھگ ہے استاد ایک اور وہ بھی عارضی بھرتی کیا ہوا معلوم ہوا ہے کہ کالجز میں لیبارٹری موجود ہے تو پریکٹیکل کے لیے سامان اور کیمیکلز نہیں اور خوش بختی سے لیکچرار کی موجیں، پریکٹیکل کیمیکلز کے بغیر کیسے ہوگا اسی وجہ سے طالب علم پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ہمیں تعلیم کے لیے اس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے بجٹ کی ضرورت ہے اور ملک سے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف سکولز اور کالجز کی بہترین بلڈنگز اور دوسرے طرف بچون کے لیے بیٹھنے کی جگہ نہیں ایک تعلیمی ادارہ ایلیٹ کلاس کی تعلیم دے رہا ہے تو دوسرا تعلیمی ادارہ کلرک پیدا کررہا ہے۔ گذشتہ 7 دہائیوں سے ہم نے طبقاتی نظام تعلیم کو فروغ دیا ہے۔ موجودہ حکومت اگر ملک سے اس پراگندہ نظام کو بہتر کرنے اور پہلا قدم تعلیم کے میدا ن میں اٹھائے اس سے بڑی ملک کی خدمت کوئی اور ہو نہیں سکتی۔
اس وقت قریباً ایک لاکھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور پرائمری مڈل اور ہائی سکول ملاکر پونے دولاکھ گورنمنٹ سیکٹرمیں سکول مصروف عمل ہیں پرائیویٹ سکولز سسٹم کا اپنا معیار تعلیم اور گورنمنٹ سطح پر جو معیار تعلیم اس قابل نہیں کہ کمیونٹی اسپر بھروسہ کرے اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ پاکستان کا ہر دسواں بچہ سکول نہیں جاتا اور لٹریسی ریٹ بھارت اور سری لنکا سے بھی کم ہے اور ہم دنیاسے تعلیمی میدان میں ساٹھ سال پیچھے کھڑے ہیں گورنمنٹ سطح پر تعلیمی معیار قابل رشک نہیں ہے اور بھٹہ مالکان اور وکشاپوں پر سختی کا عمل دہرایا گا چائلڈ لیبر کے کام سے سکول قائم ہورہے ہیں جوچھ ماہ سے تنخواہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور پارٹی جو عوامی مینڈیٹ لے کر آئے حکومت کرے مگرخدارا حکومت آتے ہی اپنی پالیسی لاگو اور سابقہ حکومت کی ختم پر کام شروع ہوجاتا ہے ان ڈنگ ٹپاؤ اور مال کماؤ پالیسیوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا اور طبقاتی نظام دن بدن اپنے پنجے اور مضبود کررہا ہے پالیسی بناتے وقت ملک کے تمام سٹیک ہولڈر کو شامل کیا جائے۔ ترقیاتی ممالک کی طرح تھنک ٹینک اسپر کام کریں اور اپنی سفارشات مرتب کرکے حکومتوں کو دیتے رہیں اور تواتر سے کام چلتا رہے غریب بچے کہیں خوار ہورہے ہیں درمیانہ طبقہ سروائیول کے لیے الگ ہاتھ پاؤں ماررہا ہے اور امیر بچوں کی تو بات ہی کیا ان کے شاہانہ تعلیمی ادارے اور موجیں ہی موجیں سب سے پہلے تو ہم امیر غریب اور متوسط کی تفریق کو ختم کریں حضور نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں نظام تعلیم اور دیگر نظام کے لیے ایک ہی نظام لاگو کرنا ہوگا تاکہ ہم الگ الگ سوچ نہ سوچیں ملک وملت کے لیے ایک ہی سوچ کو پروان چڑھائیں یکساں نظام تعلیم میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کریں اورآنے والی نسلوں میں ہم آہنگی پیدا کرکے قوم کو متحد کرکے ایک مہذب قوم بنائیں۔
رٹہ سسٹم کامطلب ہے کسی دوسرے کی تخلیق کی ہوئی تحریر یا علم کو زبانی یاد کرنا ہے۔ رٹا طالب علموں میں سمجھنے کا ادراک پیدا نہیں ہونے دیتا اور سوچنے سمجھنے کی سلاحیتوں کو زنگ آلود کردیتا ہے دنیا بھر کے تعلیمی ادارے معمول کا کام روزکرواکر روزانہ کی بنیاد پر بچے کی مارکنگ کرلیتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی نمبرنگ ہوجاتی ہے اور بچے کو گریڈ دیا جاتا ہے طالب علموں کو ٹیوشن کی اذیت سے نجات ملتی ہے ذہنی نشوونما اور کھیل کود کے مواقع میسر آتے ہیں فن لینڈ دنیا بھر میں تعلیمی میدان میں پہلے نمبر پر ہے 15سال تک بچوں سے کوئی امتحان نہیں لیا جاتا 19 طالب علموں کوایک کلاس اور صرف 2گھنٹے پڑھائی کے لیے ۔ نیویارک میں پرائمری ٹیچر کی تنخواہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے 7لاکھ روپے جبکہ سوئٹزرلینڈ، جرمنی میں تنخواہ کی شرح 6لاکھ روپے ، جبکہ پاکستان میں 25ہزار جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں دوہزارسے دس ہزارروپے تک دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹر انجینئر بننا آسان جبکہ معلم اور استاد کے لیے باقاعدہ امتحان پاس کرنا پڑتا ہے اور پھر کہیں استاد کی سیٹ میسر آتی ہے۔ تعلیم یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کا مقصد طالب علموں کے اندر اعتماد اور ذہانت پیدا کرنا ہوتی ہے۔ وہاں بچوں کو ABC سے نہیں تعلیم کا آغاز اچھی تربیت ، آداب اور اخلاقیات سکھاکر کیا جاتا ہے۔ ماضی میں مسلمانوں نے اقوام عالم میں جو مقام پیدا کیا وہ علم کے بل بوتے پر تھا۔ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نہ صرف اپنا مستقبل سنوارتے ہیں بلکہ اپنے ملک وقوم کا نام بھی روشن کرتے ہیں۔ اور نوجوانوں نے ہی قوموں کی تقدیر سنوارنی ہوتی ہے۔ آج مغرب نے جو ترقی کی وہ علم کے بل بوتے پر کی ہم نے اپنی میراث علم کوکھودیا، بھلادیا اور مغرب نے ہمارے اکابرین کے علم کے ورثہ کو گلے سے لگایا اور ہمارے علم کے خزانوں کے تراجم کراکے آج دنیا پر حکمرانی کررہے ہیں اور ہم زمانے میں رسوا ہورہے ہیں ۔ اسلام نے حصول تعلیم کو عبادت کا درجہ دیا ہے آج بھی دنیا بھر کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں بوعلی سینا کی القانون کے بغیر نصاب مکمل نہیں ۔ دنیاکے تمام علوم مسلمان اکابرین کا ورثہ ہے آج ہمیں سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ وقت دور نہیں جب ہم دوبارہ اپنا کھویا ہو امقام حاصل کرسکتے ہیں۔ جن قوموں نے علم کو اپنی اولین ترجیع سمجھا وہی قومیں سرخرو ہوئیں اور کامیابی نے اس قوم کے قدم چومے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں