328

ذیابیطس (شوگر)

تحریر: رانا توقیر انجم

طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ذیابیطس کا مریض متوازن غذا اور پابندی سے ورزش معمول کا حصہ بنالے تو وہ شوگر کے مضر اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ پرہیزی غذا اور ورزش انسانی جسم میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے اور میٹابولزم کے عمل کومزید فعال کرکے جسم کو چست کرتی ہے۔ انسانی جسم میں میٹابولزم کی کارکردگی سست ہونے سے مدافعتی نظام کمزور پڑجاتا ہے اور کوئی بھی بیماری آسانی سے حملہ کردیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت مند انسان کے خون میں شوگر کی مقدار نہار منہ 60سے120 ملی گرام جبکہ کھانے کے بعد 80سے 180ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ہے۔ ماہرین کے نزدیک ذیابیطس کی مندجہ ذیل اقسام ہیں:
۱۔ امعوی ذیابیطس:
اسے انتڑیوں کی خرابی سے پیداہونے والی ذیابیطس بھی کہا جاتا ہے۔ انتڑیوں کے فعل میں خرابی کی وجہ سے بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہیں اگر ابتدامیں ہی اس خرابی کا مناسب علاج کردیاجائے تو ذیابیطس کی علامات بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ انتڑیوں کی خرابی میں دائمی قبض، آنتڑیوں کی سوزش، آنتڑیوں کی حرکات میں نقص پیدا ہونا، آنتڑیوں میں زہریلی گیسوں کا ٹھہر جانا اور خشکی کی تہہ وغیرہ بن جانا شامل ہیں۔ آنتڑیوں میں فاضل مادوں کے زیادہ دیر تک رکے رہنے کی وجہ سے تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔ مریض پیٹ میں بھاری پن اور بوجھ محسوس کرتا ہے، دن میں کئی بار رفع حاجت کی خواہش تو ہوتی ہے مگر فراغت نہیں ہوتی، پیشاب بار بار آنے لگتا ہے اور ہربار پاخانہ بھی قلیل مقدار میں خارج ہوتا رہتا ہے۔
ماہرین کی پریکٹس میں اس طرح کے بے شمار مریض آچکے ہیں جن کی انتڑیاں درست ہوتے ہی ذیابیطس بھی جان چھوڑ دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی جسم کی بہترکارکردگی میں انتڑیوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہے اور انتڑیوں کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ ثقیل ، نفاخ اور دیر سے ہضم ہونے والی غذاؤں کا بے دریغ استعمال ہے۔
جومعا لجین اسباب مرض دورکرنے پر توجہ دیتے ہیں اور ظاہری علامات کی بجائے مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے محنت کرتے ہیں وہ کافی حد تک مریض کو بیماری سے نجات دلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ مثلاً امعوی ذیابیطس کا علاج کرتے وقت آنتڑیوں کے افعال کو درست کردیا جائے تو ظاہری علامات بھی خود ہی ختم ہوجائیں گی۔
۲۔ معدی ذیابیطس:
معدے کی خرابی کی وجہ سے ہونے والی ذیابیطس معدی ذیابیطس کہلاتی ہے۔ ذیابیطس کے ذیادہ ترمریضوں کو کھانے کی طلب بار بار ہوتی ہے جس سے کچھ مریض اور معالج یہ سمجھ لیتے ہیں کہ معدہ زیادہ بہتر طریقے سے کام کررہا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ بار بار بے وقت کھانے کی طلب ہونا بذات خود ایک بیماری ہے۔ معالج کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرض کی تشخیص مکمل سوجھ بوجھ کرکرے اور مرض کا باعث بننے والے عوامل کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے علاج کرے معدی ذیابیطس سے مریض کو چھٹکارہ دلاسکتا ہے۔
۳۔ کبدی ذیابیطس:
کافی عرصے تک جگر کے مرض میں مبتلا رہنے والے افراد میں بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور اگر درست تشخیص کے بعد جگر کا مکمل علاج کیا جائے تو مریض کی کبدی ذیابیطس کے مرض سے جان چھوٹ جاتی ہے۔ عام طور پر جگر کے امراض میں صفرا کی ذیادتی، جگرکے عوارضات، سوزش جگر (Hepatitis) وغیرہ شامل ہیں لیکن جگر کی خرابی میں پتے اور تلی کے افعال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صفراء سودا کا مرکز پتہ اور تلی ہیں لہٰذا کبدی ذیابیطس کا سبب پتہ اور تلی بھی ہوسکتے ہیں ۔ تشخیص اور علاج کا دارومدار معالج کی معالجاتی بصیرت پر ہے۔
۴۔ دماغی ذیابیطس:
ذہنی امراض کے نتیجے میں ہونے والی ذیابیطس کو دماغی ذیابیطس یا (Brain Sugar) کہتے ہیں ۔ دماغی ذیابیطس کا رجحان ایسے افراد میں زیادہ پایاجاتا ہے جومعمولی بات پر بھی ٹینشن، ڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کچھ اطباء کے نزدیک جسم میں بلغم کی مقدار ضرورت سے زیادہ جمع ہوجانے سے بھی بعض اوقات ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔
۵۔دوران حمل ذیابیطس:
بعض اوقات حمل کے دوران کچھ خواتین میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں مگر بچے کی پیدائش کے بعد یہ علامات خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔
۶۔ جنرل ذیابیطس:
عام حملہ آور ہونے والی ذیابیطس لبلبہ کے فعل میں خرابی پیداہونے سے واقع ہوتی ہے۔ لبلبہ ہمارے جسم میں انسولین کی مطلوبہ ضرورت کو پوراکرنے والا ایک اہم غدود ہے ۔ چونکہ انسانی جسم میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنا انسولین کا کام ہے لہٰذا انسولین کی کمی یا زیادتی سے شوگر کی سطح متاثر ہوتی ہے۔ لبلبہ کے فعل میں خرابی غیر معیاری خوراک، سہل پسندی اور دیگر ماحولیاتی اثرات کے باعث رونما ہوتی ہے۔
نوٹ:
شوگر کی تشخیص اور علاج کے متلعق مزید معلومات مارچ 2017ء کے شمارہ میں شائع کی جاچکی ہیں اس کا مطالعہ بھی سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں