478

دارالامان مجبور خواتین کا سہارا یا۔۔۔

تحریر: ڈاکٹرشاہد مرتضی چشتی۔

دارالامان معاشرے کے ہاتھوں ستائی ہوئی بے سروسامن، بے بس اور مجبور خواتین کا آخری سہارا اور پناہ گاہ ہوتی ہے۔ دکھوں کی ماری خواتین جب اپنوں کے ستم برداشت کرنے کی سکت باقی نہیں رہتی تو انتہائی مجبوری میں گھر کی چاردیواری کو چھوڑ کر دارالامان کی چھت تلے سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔لیکن پاکستان میں دارالامان کی صورتحال بہت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے ۔ اس وقت بیشتر خواتین کو دارالامان میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خواتین سماج کے خونخوار درندوں سے بچنے کے لئے اس پناہ گاہ میں تحفظ تلاش کرتی ہیں لیکن یہاں عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور عزت کا تحفظ ان خواتین کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں اس حوالے سے خبریں نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ ملتان، ڈیرہ غازیخان اور دیگر دارالامان سے ملک کے بااثر افراد کو لڑکیاں سپلائی کرنے کے قصے زبان زد عام ہیں۔اس کے علاوہ یہاں رہنے والی خواتین کو غیر معیاری اور ناقص کھانا دینے، ایک کمرے میں گنجائش سے زائد خواتین رکھنے جس کے نتیجہ میں خواتین کو جلدی امراض لاحق ہونے، بیماری ہونے کی صورت میں مناسب علاج معالجہ کی سہولت نہ دیئے جانے اور قانونی امداد کےلئے لوکلاء کی سہولت میسر نہ آنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں اس وقت حالات نے نیا رخ اختیات کیا کہ جب دارالامان ملتان میں موجود خواتین نے انتظامیہ کے غلط رویے اور بنیادی سہولیات مہیا نہ کرنے پر احتجاجابھوک ہڑتال کر دی۔ انہیں شکایت تھی کہ انہیں غیر معیاری اور کم مقدار میں کھانا فراہم کیا گیا۔خواتین نے دارالمان میں انتہائی ناروا سلوک روا رکھنے کی بھی شکایت کی۔ دوران گفتگو بھی ان کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے جس کا ان کے بچوں پر انتہائی منفی اثر ہوتا ہے۔خواتین نے دارالامان کے رہائشی احاطے کو اندر سے بند کر دیا اورکئی گھنٹے تک بھوک ہڑتال جاری رکھی۔جب کہ دارالامان انتظامیہ نے خواتین کے تمام تر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو یہاں تمام سہولیات میسر ہیں اور انہیں بہترین کھانا مہیا کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سیل نے معاملے کی رپورٹ طلب کر لی۔ اس ضمن میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رانا جاوید محمود نے دارالامان کا دورہ کیا اور متاثرہ خواتین سے ملاقات کی اور شکایات سنیں۔ الزامات سچے ہونے کے باعث ذمہ داران ملازمین کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا۔ ابھی اس واقعے کی انکوائری رپورٹ آنا باقی ہے جس کے سامنے آنے پر ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
ان حالات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں پناہ لینے والی خواتین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ ان خواتین کی نفسیاتی کونسلنگ کابھی اہتمام کیا جائے۔ ملتان کے دارالامان میں بھی ایک ماہر نفسیات تعینات ہے لیکن وہ ہر ہفتہ باقاعدگی سے خواتین کی کونسلنگ کرنے کی بجائے غیر حاضر رہتے ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیئے کہ پنجاب کے دارالامان کے مختص فنڈز بحال کرکے فی الفور جاری کرے ۔وزیراعلیٰ پنجاب کو اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دینی چاہیئے اور یہاں مقیم خواتین کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو ان کاحق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

دارالامان مجبور خواتین کا سہارا یا۔۔۔” ایک تبصرہ

  1. بہت اعلی تحریر ہے اگر لاہور کی معلومات اس میں شامل کرنی ہوں تو میں فراہم کرسکتی ہوں۔۔۔ یہاں اس سے بھی زیاہد سنگین مسائل ہیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں