387

ڈاکیا ڈاک لایا

عالمی یوم ڈاک پر
شاذیہ سعید
کی خصوصی تحریر

خیر ہو! ابھی تک امجد کا خط نہیں آیا ، بول کر تو گیا تھا جاتے ہی خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دے گا۔ اماں بی صحن میں لگے پیپل کے پیڑ تلے چارپائی ڈالے بیٹھی سویٹر بنتے ہوئے پریشانی سے مسلسل بڑبڑارہی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹیلی فون عام نہیں تھے اور اگر گھر کا سپوت کہیں باہر گیا ہوتا تواپنی خیریت بتانے کے لئے اسے ’’خط‘‘ لکھنا پڑتا تھا۔ زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب خط وکتابت عام اور ڈاکیے بہت خاص ہوا کرتے تھے۔ ’’ڈاک‘‘ کا مطلب ہے کہ ایک ایسا نظام جس کے ذریعے خطوط، دستاویزات ودیگر ایسی اشیاء جو لفافے میں بند ہوں ، ایک جگہ سے دوسرے جگہ ، دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہیں ’’ڈاک‘‘ کہلاتی ہیں۔ آج سے سات ہزار سال پہلے فرعون مصر میں ڈاک کا حوالہ ملتا ہے۔ بابلی دور میں تازہ دم اونٹوں اور گھوڑوں کے ذریعے سرکاری اور نجی ڈاک کا نظام قائم ہوا حضرت عمر فاروقؓ نے ڈاک کے نظام پر خصوصی توجہ دی۔ ایک ہزار سالہ اسلامی دور حکومت میں ڈاک کی ترسیل کا تیز ترین، محفوظ ترین نظام کام کرتا رہا، حضرت عمر فاروقؓ نے خاص خاص فاصلوں پر چوکیاں بنائی تھیں، جہاں گزشتہ چوکی کا ہرکارہ ڈاک لے کر پہنچتا تو اگلا ہرکارہ تازہ دم گھوڑا لئے تیار ہوتا۔ اسی طرح یہ سلسلہ قائم رہتا اور بنا کسی تاخیر کے ڈاک ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی۔ بدلتے وقت نے اس میں تبدیلیاں کیں اور موجودہ ڈاک کا نظام قائم ہوا۔

9اکتوبر1874ء میں سوئٹزرلینڈ میں پہلی مرتبہ عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی

9اکتوبر1874ء میں سوئٹزرلینڈ میں پہلی مرتبہ عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی جس میں ’’جنرل پوسٹل یونین ‘‘ نامی تنظیم کی بنیادی ڈالی گئی۔ اس معاہدے کو 22ملکوں نے منظور کیا اور یکم جولائی 1875ء سے یہ نظام نافظ العمل ہوا۔ اسی مناسبت سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہرسال 9 اکتوبر کو ڈاک کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پہلے تو یہ صرف خط پارسل وصول کرنے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کی ایک رسید تھی مگر 1969ء میں ٹوکیو کانگریس نے یہ طے کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک سے جس قدر مقدار میں ڈاک وصول ہوگی، اس اضافی وزن کا معاوضہ انہیں 0.50گولڈ فرانک فی کلوگرام کے حساب سے ادا کیا جائے۔ اس لین دین کے حسابات کو ادارہ یونیورسل پوسٹل یونین UPU دیکھ رہا ہے۔ ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر تمام ممالک ڈاک ٹکٹ کا اجراء کرتے ہیں۔ اس کا مقصد تمام ممالک میں ڈاک کی ترسیل کی ترقی اور ڈاک کے نظام کی بہتری ہے۔ اس ادارے کی ترقی اور کارکردگی کی بہتری کے لئے پاکستان پہلے بھی 20سے زائد تجاویز دے چکا ہے۔

یونیورسل پوسٹل یونین کی سرگرمیوں میں پاکستان کا انتہائی مثبت کردار رہا ہے۔ برصغیر پاک وہند میں پہلا ڈاک خانہ 1837ء میں قیام پذیر ہوچکا تھا لیکن ایک طویل عرسے تک برطانوی ڈاک ٹکٹوں سے کام چلایا جاتا رہا ہے اور بالآخر 1852ء میں Scinde Dawl نامی پہلا ڈاک ٹکٹ سر باٹلے فریئر نے جاری کیا۔ یہ ڈاک ٹکٹ دارصل ’’سندھ ڈاک‘‘ نامی لفظ کا برطانوی تلفظ تھا۔ انگریزوں نے جب سندھ فتح کیا تویہاں موجود ڈاک کا قدیم نظام ان کی ملٹری ضروریات کو پوراکرنے کے لئے ناکافی تھا جس کے سبب انہوں نے ڈاک کا جدید نظام وضع کیا۔ تقسیم ہند کے بعد 15اگست1947ء سے پاکستان پوسٹ نے لاہور سے اپنا کام شروع کیا۔ اسی سال پاکستان یونیورسل پوسٹل یونین کا نواسی واں رکن بنا۔ 1948ء میں پاکستان پوسٹ نے ملک کے پہلے جشن آزادی کے موقع پر اپنے پہلے یادگاری ٹکٹ شائع کئے۔ پاکستان پوسٹ آفس برصغیر کی حکومت کے پرانے اداروں میں سے ایک ہے۔ 1947ء سے اس نے ڈویلپمنٹ پوسٹ ٹیلی گراف کے نام سے کام کا آغاذ کیا ۔ 1962ء میں یہ ٹیلی گراف، ٹیلی فون سے الگ ہوکے آزادانہ ڈیپارٹمنٹ بن گیا۔ پاکستان پوسٹ آفس سارے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور 13000 پوسٹ آفس رکھتا ہے۔ پاکستان پوسٹ آفس یونیورسل پوسٹل یونین کی حکمت علمی پر کام کرتے ہوئے وقت پر ڈاک پہنچاتا ہے اور مناسب پیسے چارج کرتا ہے جو ہر ایک کی پہنچ میں ہیں۔ پاکستان پوسٹ آفس نے 2016ء میں جوٹکٹ جاری کئے ان میں 22مارچ2016ء کو پانی کی آگاہی کے لئے 8روپے کا ٹکٹ نکالا گیا۔ 22اپریل کو کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نام سے جاری ہوا۔ جس کا لوگو Book Leads to Peaceتھا۔ تاریخ پاکستان کی اہم شخصیت دیوان بہادر ایس پی سنگھا کے نام سے 26اپریل کو جاری کیا۔ محسن انسانیت عبدالستار ایدھی کی تصویر والا ٹکٹ جاری کیا گیا۔ ہر سال ایک تھیم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ دنیا نے جتنی بھی ترقی کرلی ہے لیکن اس کے باوجود ہم پوسٹ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ آج بھی ساری سرکاری اور نیم سرکاری دستاویزات ہمیں پوسٹ کے ذریعے ہی موصول ہوتی ہیں اور اور تمام اہم کاموں میں بھی پوسٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
جہاں ہم ڈاک ٹکٹوں کی بات کررہے ہیں تو آپکو بتاتی چلوں کہ پاکستان نے پہلے مرتبہ 1965ء میں عراقی، کویت اور نیپال کے لئے ڈاکٹ ٹکٹ طبع کئے ان تکٹوں کی طباعت سکیورٹی پرنٹنگ پریس کراچی میں عمل میں آئی ۔ پاکستان کا ایٹمی ری ایکٹر اپریل 1966ء میں نصب کیا گیا اس ضمن میں محکمہ ڈاک نے 30اپریل کو 15پیسے کا ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا جس پر ری ایکٹر کی تصویر بھی بنائی گئی۔ کوپرٹیکس پہلا ماہر علم فلکیات ہے جس کی 500ویں سالگرہ پر محکمہ ڈاک پاکستان نے 19فروری1973ء کو ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کا سائز 32.5×44.5 ایم ایم ہے۔ محکمہ ڈاک نے یہ ٹکٹ دس لاکھ کی تعداد میں شائع کئے۔ ٹکٹ سکیورٹی پرنٹنگ پریس نے طبع کیا۔ کوپرٹیکس 19فروری1473ء کو ہالینڈ میں پیدا ہوئے۔

29مئی 1997ء کوجمہوریہ ترکی نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا اس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر بنی ہوئی تھی اس کی قیمت تیس ہزار لیرارکھی گئی

پاکستان میں منعقد ہونے والی اسلامی ممالک کی پہیلی اور ترتیب کے لحاظ سے دوسری سربراہ کانفرنس 22فروری1974ء کو لاہور میں منعقد ہوئی اس میں 37ممالک کے سربراہان اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستان میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی یہ پہلی کانفرنس تھی اور اس میں دوررس فیصلے کئے گئے مثلاً بنگلہ دیش کو تسلیم کیا گیا اور گنی بساؤ( جو آزاد نہ ہواتھا) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اس موقع پر طبع ہونے والے ڈاک ٹکٹوں کی تعداد دو تھی۔ ہر ایک ڈاکٹ ٹکٹ پر اسلامی سربراہی کانفرنس کا نشان بنا ہو اتھا۔ ان کی مالیت علی الترتیب 20پیسے اور 65پیسے تھی۔ نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے جن کی تصویر پہلی بار 16اکتوبر1974ء کو ان کی 23ویں برسی کے موقع پر ڈاک ٹکٹ پرچھپی۔ قائد محمد علی جناح کے صد سالہ جشن پیدائش (25دسمبر1976ء) کے موقع پر 10روپے مالیت کا جوڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا اس ٹکٹ میں پہلی مرتبہ 25ملی گرام (23، 24 قیراط)سونا استعمال کیا گیا۔ اس کی طباعت فرانس میں عمل میں آئی۔ 14اگست1989ء کو یوم آزادی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پہلی مرتبہ خصوصی طور پر قائد اعظم کی پورٹریٹ والی نہایت خوبصورت اور پروقار تصویر کا چھ ٹکٹوں کا ایک سیٹ شائع کیا یہ ٹکٹیں چھ مختلف رنگوں میں تھیں اور ٹکٹوں کی مالیت پچاس پیشہ، ایک روپیہ، دوروپے ، تین روپے ، چار روپے اور پانچ روپے رکھی گئی۔ ان کے لئے کاسنی ، نیلا، پیلا ، سبز اور ہلکے سرخ رنگوں کا امتزاج پیدا کیا گیا۔ 13اکتوبر 1948ء کو ریاست بہاولپور کی پاکستان سے الحاق کی پہلی سالگرہ پر ڈیڑھ آنہ کا یادگاری ٹکٹ ریاست بہاولپور کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس پر امیر آف بہاولپور نواب سرصادق محمد خان عباسی پنجم اور گورنرجنرل آپ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر تھی۔ تصویر کے نیچے دونوں ریاستوں کے پرچم بنے ہوئے تھے۔ ان کی 5لاکھ کاپیاں چھاپی گئی تھیں۔ 29مئی 1997ء کوجمہوریہ ترکی نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا اس پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر بنی ہوئی تھی اس کی قیمت تیس ہزار لیرارکھی گئی پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی غیر ملک نے پاکستانی شخسیت کے بارے میں ڈاک ٹکٹ شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ پاکستان کا پہلا پوسٹل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کراچی میں 1953ء میں قائم ہوا۔ 23فروری 1964ء کادن پاکستان کی ڈاک کی تاریخ میں پہلا دن تھا جب مقامی ڈاک غبارے کی تاریخی پرواز کے ذریعے لانڈھی بھیجی گئی۔ حکومت پاکستان نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی 27دسمبر2008ء کو چار روپے کا یادگاری ٹکٹ اور 20روپے کی سووینئر شیٹ جاری کی ۔ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ کے بارے میں ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک ایک اندازے کے مطابق کم وبیش 1500ڈاک ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں (یہ تعداد ایک اندازے کے مطابق 2006ء تک 1200تھی)۔ ان تمام پر زیادہ تر، بادشاہوں، مشہور شخصیات اور عمارتوں کی تصویریں ہیں لیکن ملک کا عام آدمی، کسان اور مزدور کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ یعنی ان ڈاک ٹکٹوں میں عوام کم نظر آتی ہے اور دنیا میں پاکستان ہی شائد وہ واحد ملک ہوجس میں بانی پاکستان کی تصویر والا ٹکٹ بعد میں شائع کیا گیا۔ پہلے ایک فوجی حکمران کا شائع کیا گیا۔ پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹ پر یوم آزادی 15اگست درج ہے۔ پہلے ڈاک ٹکٹ پر فوری طور پر برطانوی عہد کے ٹکٹوں پر ہی پاکستان کا لفظ بڑا بڑا شائع کیا گیا (پاکستان میں جوڈاک ٹکٹ چلایا گیا ، اس میں بادشاہ کنگ جارج کی تصویر پر پاکستان چھاپا گیا۔ گویا ہم نے پاکستان کی آزادی برطانوی سامراج سے حاصل کی)۔ 11ستمبر1949ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات پر ٹکٹ جاری کیا گیا جس پر قائداعظم محمد علی جناح لکھا ہوا ہے۔لیکن ان کی تصوریر نہیں ہے۔ ایسے ہی علامہ اقبال کے نام کا ٹکٹ پاکستان بننے کے گیارہ سال بعد ان کی 20 ویں برسی پر شائع ہوا اس میں بھی علامہ اقبال کی تصویر نہیں تھی۔ ملیریا کی بیخ کنی کے لئے حکومت نے 7اپریل1961ء میں مچھر کی تصویروں والی دو ٹکٹیں جاری کیں۔ فوجی جوانوں کے چہرے وہ پہلے انسانی چہرے ہیں جو ڈاک ٹکٹوں پر ظاہر ہوئے۔ یہ ٹکٹ 1965ء کی جنگ کے بعد اسی سال دسمبر میں جاری کئے گئے۔ نومبر1966ء میں کسی شخص کی تصویر پہلی بار دو ڈاک ٹکٹون پر شائع کی گئی اور وہ تھے فوجی حکمران جنرل ایوب خان۔ اس وقت تک قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تصویر کے ٹکٹ بھی منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ 31دسمبر1966ء کو پہلی بار قائد اعظم کی تصویر والے ٹکٹ جاری ہوئے۔ ایک سال بعد علامہ اقبال کی تصویر ٹکٹوں کی زینت بنی۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر اپنے دور حکومت میں ایک ڈاک ٹکٹ کا اجراء کیا جس میں روضۂ رسول اور قرآن کریم کو اوپر دکھایا درمیان میں لکھا کہ ’’اور کہہ دو حق آیا اور باطل مٹ گیا‘‘ یعنی اس ڈاک ٹکٹ کے ذریعے پورے عالم اسلام کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہمارا ایمان قرآن پر ہے وہی سب سے اعلیٰ نظام ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی محکمہ ڈاک اپنی افادیت قائم رکھے ہوئے ہے اور ملک کے طول وعرض میں موجود اپنے وسیع نیٹ ورک کے سبب عوام تک مؤثر ترین رسائی رکھتا ہے۔ پاکستان پوسٹ اپنے مونوگرام میں تحریر بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودہ تین سنہری اصول اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں پر کاربند رہ کرملک کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ (بشکریہ: نوائے وقت سنڈے میگزین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں