259

”ایوان اقتدار سے ڈی چوک کی بڑھکوں کی گونج”

تحریر: پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ بہاولنگر

گزشتہ چند روز سے واویلا ہےکہ عمران خان نے فرانسیسی صدر کی ٹیلی فون کال سننے سے انکار کردیا ۔ دیکھیں جناب وہ کتنی اخلاقی جرات اور قومی غیرت کا مالک ہے ۔ ہمیں عمران خان کی ذہنی سوچ کا تو کوئی اندازہ نہیں مگر اتنا ضرور علم ہوا ہے کہ عمران خان کے کنٹینر کے گرد ناچنے والوں اور اب اس کی حکومت کے دوران اس کے گرد موجود فواد چوہدری جیسے بزرجمہر واقعی عمران خان کو ایک کامیاب وزیراعظم بنتے دیکھنا نہیں چاہتے اور ہر وقت اس تاڑ میں ہیں کہ عمران خان کو پریشان اور متفکر رکھا جائے تاکہ یہ کام نہ کرنے پاۓ۔ ممکن ہے اس کے پیچھے بھی نواز لیگ کے اور عمران خان کے دشمن موجود ہوں مگر عمران خان کو انتہائی سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے اپنے لوگ کیوں ہاتھ دھو کر اس کو ناکام اور پریشان کرنے کے فل موڈ میں نظر آتے ہیں۔ جو بلاوجہ ایک چھوٹی سی اور غیر اہم چیز کو لیکر نئی حکومت کےلئے پریشانی کا سبب ہیں۔ کہیں مخالف جماعتوں کا یہ دعوی درست نہ ہو جائے کہ کپتان کے پاس تو اتنے بڑے ملک اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کو چلانے والی حکومتی ٹیم ہی نہیں بلکہ سارے لوگ ہی ڈی چوک کے کنٹینر پر کھڑے ہو کر ناچنے گانے والے ہی تھے۔اب یہی دیکھیے کہ فرانسیسی سفارت خانے اسلام آباد نے کال کی کہ فرانس کے صدر عمران خان کو مبارک باد دینا چاہتے ہیں ، ان کی اور پاکستان کے وزیر اعظم کے درمیان کونسا وقت ٹیلی فونک ملاقات کے لئے رکھا جائے ، جسے کپتان کے ساتھ جی ایچ کیو جانے والے لوگوں نے بتنگڑ بنا دیا کہ عمران خان نے فرانسیسی صدر کا فون سننے سے انکار کردیا۔عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے پاکستانی عوام جیسی بےوقوف قوم ملی ہے جو ہر کام پر ناچنا پہلے شروع کردیتی ہے اور پتہ بعد میں چلتا ہے کہ ہوا کیا تھا؟ کچھ بھی ہو فرانس دنیا کی تیسری بڑی طاقت اور طاقتور ترین معیشت ہے ، کیا ان کے سفارت کاروں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ دو ملکوں کے سربراہان کے درمیان ملاقات کیسے کروائی جاتی ہے؟

ہم پاکستانیوں کے خیال میں تو فرانس کے صدر نے ڈائریکٹ اپنے موبائل فون سے عزت مآب وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان فاتح ٹیم کرکٹ ورلڈ کپ کو کال کردی کہ جناب آپ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے ہیں اور میری مبارکباد پیش ہے وصول کرلیں۔ نہیں تو آج رات سارے فرانس کو نیند نہیں آۓ گی اور میں باہر نکل کر اپنی قوم کو کیا جواب دوں گا اور وزیراعظم عمران خان کا پی اے سرکاری موبائل فون اٹھا کر وزیراعظم عمران خان کے پیچھے پیچھے پھرتا ہے کہ جناب مہربانی فرما کر آپ فرانس کے صدر سے بات کرلیں ، میں نے انکی ٹیلی فون کال انتظار پر لگا رکھی ہے. عقل کے اندھوں کو اتنی سمجھ بوجھ تو ہونی چاہیے کہ یہاں ہمارے ملک میں ڈسٹرکٹ بار بہاولنگر کے صدر کو اگر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر یا واپڈا کے ایکسین سے بات کرنی ہو تو وہ پہلے اس کے پی اے کو فون کرکے وقت لیتا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر سے صدر ڈسٹرکٹ بار بہاولنگر کی کب اور کتنے بجے ملاقات ہوسکتی ہے یا ان سے فون پر بات ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ عہدوں کا اپنا ایک پروٹوکول ہوتا ہے۔ یہاں ہماری ساری قوم کا دو روز سے واویلا ہےکہ وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر کا فون سننے سے انکار کردیا۔ دیکھیں جناب !یہ ہوتی ہے قوم کی عزت اور لیڈر کی غیرت؟ پہلے بھی ایسے ہی 1998میں ایٹمی دھماکہ کے وقت ہمارے ایک وزیراعظم نوازشریف نے امریکی صدر کی پانچ مرتبہ ٹیلی فون کال نہیں سنی تھی اور ایٹمی دھماکہ کردیا تھا تو اگلے سال ہی انکی حکومت ہماری اسی وفادار مسلح افواج کے ایک کمانڈر انچیف کے ہاتھوں ختم کروا دی گئی اور دو تہائی اکثریت سے منتخب عوامی وزیراعظم نوازشریف کو ہماری افواج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف پھانسی دینے لگے تھے کہ سعودی عرب کے بادشاہ امریکی صدر کی منت سماجت کرکے اسے پاکستان سے جلاوطن کروا کر سعودی عرب لے گئےتھے۔

اصل میں پی ٹی آئی والے اور عمران خان کے چاہنے والے بےچار ے کیا کریں ؟ ان بےچاروں کا تو مقابلہ ہی نوازشریف سے ہےوہ کسی بھی طرح عمران خان کو نوازشریف سے ہرصورت بہتر اور اچھا ثابت کرنے کے زعم میں مبتلا ہیں ، ان کا عشق عمران خان اس وقت سر چڑھ کر بول رہا ہے اور انہیں یقین نہیں آرہا کہ وہ ڈی چوک کے کنٹینر سے ایوان اقتدار میں پہنچ چکے ہیں۔ وہ بےچارے ابھی بھی وہیں کھڑے نوازشریف کے بھوت کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کی کوشش میں جتے ہیں. وہ اس بات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اکیلا نوازشریف نہیں تھا جس نے امریکی صدر کی ٹیلی فون کال نہیں سنی تھی،ہمارے پاس ملک کی تقدیر بدل دینے والا ایک اور لیڈر بھی موجود ہے جو جی ایچ کیو کے جنرلوں کی موجودگی میں صدر فرانس کا ٹیلی فون سننے سے انکار کرسکتا ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ؟

عمران خان کے پروانوں اور عقل کے اندھوں کو کون سمجھا ۓ کہ دنیا کی نظر میں پاکستان اور فرانس کی پوزیشن میں کتنا فرق ہے؟ مگر جب تک عمران خان کے پاس فواد چوہدری جیسے سقراط موجود ہیں ، عمران خان کچھ کیے بغیر بھی پاکستان کا عظیم ترین لیڈر ہے جو پچپن روپے فی لیٹر میں ہیلی کاپٹر پر سفر کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے؟ ہم تو دل سے چاہتے ہیں کہ اللہ کرے تبدیلی آۓ اور عمران خان ملک کو صحیح لائن پر لانے میں کامیاب ہو جائے لیکن ڈی چوک کے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑھکیں مارنے میں اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر ملک وقوم کے لئے اقدامات کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے اور یہی بات عمران خان کے پروانون اور عاشقوں کو سمجھنے کی سخت ضرورت ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

”ایوان اقتدار سے ڈی چوک کی بڑھکوں کی گونج”” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں