340

گھسیٹنے سے لیٹنے تک کا سفر

تحریر: طارق محمود کمبوہ (پاکپتن شریف)
مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی گرفتاری اور سابق صدر و پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصٖف علی زرداری پرچلنے والے کیسز کے بعد کافی دنوں سے خبریں زیر گردش تھیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دیگر سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر حکومت مخالف کوئی بڑی تحریک شروع کرنے جارہی ہیں مگر اس حوالے سے کھل کر وضاحت سامنے نہیں آرہی تھی کبھی اقرار اور کبھی انکار کا سلسلہ جاری تھا اسی دوران گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں صدر مسلم لیگ ن اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف زرداری کی ایک ساتھ انٹری،دونوں رہنما لابی سے ایک ساتھ ہنستے مسکراتے اور خوشگوار موڈ میں گفتگو کرتے ہوئے اسمبلی کے فلور پر داخل ہوئے دونوں کی ایک ساتھ انٹری نے جہاں سب کو حیران کیا وہیں کچھ سوالات بھی پیدا ہوئے دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے زیادہ دور کے نہیں بلکہ چند ماہ پہلے کے خطابات بھی ذہن میں گردش کرنے لگے مثال کے طور پر 4 اپریل 2018 بلاول بھٹو زرداری صاحب نے گڑھی خدابخش جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاتی امراء اوربنی گالہ میں سرمایہ دار جمع ہوچکے ہیں، نواز،عمران ایک دوسرے کو نیچا صرف اقتدار کے حصول کیلئے دکھارہے ہیں بڑے میاں ہوں یا چھوٹے میاں،آپ سے ملک نہیں چلے گا مجھے لوگ بتا تے ہیں کے نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی تحریک چلا رہے ہیں تو مجھے ہنسی آتی ہے،جس نے اپنی پوری زندگی ووٹ کو عزت نہیں دی وہ آج ووٹ کی عزت کی بات کر ے،یہ مذاق نہیں تو کیا ہے؟ ٹھہرئیے آپکے سامنے اسی جلسہ میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری صاحب کے خطاب کو بھی رکھتے ہیں جناب نے فرمایا تھا کہ تخت رائیونڈ کو فتح کریں گے ہم کسی کے ساتھ بھی حکومت بنائیں مگر میاں صاحب کے ساتھ نہیں بنائیں گے۔ ابھی آپکو میاں نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کا 19مارچ 2018میں سانگلہ کے جلسہ کے خطاب کی طرف لے چلتے ہیں محترمہ نے فرمایا تھا کہ شیر کے خوف سے عمران اور زرداری کو ہاتھ ملانا پڑ گئے اگر یہ لوگ تم سے ووٹ مانگنے آئیں تو نعرہ لگانا کہ زرداری عمران خان بھائی بھائی۔زرداری اور عمران خان ایک دوسرے کو برا بھلا، چور اور ڈاکو کہتے تھے لیکن اندر سے یہ لوگ ملے ہوئے ہیں۔اسی جلسہ میں میاں محمد نواز شریف نے دوران خطابت فرمایا کہ زرداری اور عمران خان بھائی بھائی اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، یہ روایتی سیاست کرنے والے لوگ ہیں جو نئے پاکستان کے نام پر عوام کو دھوکا دے رہے ہیں، ایک دوسرے کو چور کہنے والوں نے نواز شریف کے خوف سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیا۔ابھی پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی بات کرلیتے ہیں میاں شہباز شریف صاحب نے 27 اپریل 2018کو کاہنہ نو لاہور میں ٹی ایچ کیو ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ زرداری صاحب نے کراچی کو کرچی بنا دیا ہے۔ ایک ہی سکے کے دو رخ زرداری اور نیازی مل چکے ہیں۔ بلاول ہاؤس اور بنی گالہ ہم پیالہ ہم نوالہ ہیں۔ اور پھر 23جنوری 2018 لیہ میں جلسہ عام سے خطاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب شیروانی پہن کر کہتے ہیں کہ میں میاں صاحب سے کرپشن کا حساب لوں گا۔ آصف زرداری نے سندھ میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور جو شخص سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا اس کا کرپشن پر بات کرنا قیامت کی نشانی ہے۔ جی تو جناب بلاول صاحب بقول آپ کے جس نے ساری زندگی ووٹ کو عزت نہیں دی وہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا تھا تو آپ کو مذاق لگتا تھا اور ہاں بقول آپکے بڑے میاں اور چھوٹے میاں سے ملک نہیں چلنے والا تھا میرا خیال ہے اسی لئے آپ لوگ آل پارٹی کانفرنس بلا نا چاہتے ہیں کہ ملک چلانے میں میاں برادران کو کندھا دے سکیں یا کوئی اور وجہ ہے اس کی وضاحت بھی کسی دن سامنے آہی جائے گی ۔اور جناب زرادی صاحب آپ تو تخت رائیونڈ کو فتح کرنے والے تھے اور جناب کا یہ بھی نظریہ تھا کہ کسی کے ساتھ بھی حکومت بنا لیں مگر میاں صاحب کے ساتھ نہیں بنانی ۔ ویسے کسی حد تک آپ کا نظریہ ٹھیک ہی تھا آپ تو اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں تخت رائیونڈ تک بھی پہنچ رہے ہیں اور میاں برادران کے ساتھ حکومت بھی نہیں بنا رہے بلکہ یہ قدم تو آپ میاں صاحبان کے ساتھ ملکر حکومت گرانے کیلئے اٹھا رہے ہیں ۔محترمہ مریم نوازصاحبہ موجودہ حالات کی بھی تھوڑی وضاحت دے دیں کہ اب شیر کو کونسا ڈر آن پہنچا تو زرداری سے ہاتھ ملازنے کی نوبت آگئی اور ہاں یہ بھی بتا دیں کہ اگر اب عوام کے پاس ووٹ مانگنے آئیں تو کونسا نعرہ مناسب رہے گا؟میاں نواز شریف صاحب سے بھی پوچھ لینا چاہیئے کہ جناب عمران اور زرداری تو ایک ہی سکے کے دو رخ تھے تو ایسی کیا وجہ بنی کہ سکے کے ایک رخ کے خلاف سکے کا دوسرا رخ استعمال کرنا پڑگیا آپ تو شیر ہیں پھر ایک دوسرے کو چور کہنے والوں سے ہاتھ کیوں ملا رہے ہیں ؟ صدر پاکستان مسلم لیگ ن جناب میاں محمد شہباز شریف صاحب سے بھی چند سوالات کی گستاخی کرلیں ۔ ارے میاں صاحب آپکی تو کیا ہی بات ہے کتنے سادہ ہیں کہ زرداری کے ساتھ بیٹھنے سے پہلے آپ یاد رکرلیں کہ بقول آپ کے بنی گالہ اور بلاول ہاؤس ہم پیالہ ہم نوالہ ہیں اور پھر آپ ہی نے کہا تھا کہ زرداری سند ھ میں کرپشن کا بازار گرم کررکھا ہے زرداری سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ۔ میاں صاحب آپ نے تو چند سال قبل زرداری کو لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات بھی کی تھی خیال رکھیں میاں صاحب جس شخص کے بارے میں آپ کے ایسے نظریات ہوں اسے سر نہیں بٹھایا جاتا ہوسکتا ۔ معذرت کے ساتھ یاد آیا آپ سب لوگ ملکر بیٹھنے کی باتیں اپنے مفادات کیلئے تھوڑی کررہے ہیں آج تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن عوامی مفادات کی جنگ لڑرہی ہے اور سنا ہے کہ پیار اور جنگ میں سب جائز ہے ایک دوسرے کے بارے میں آپ لوگوں کے بدلتے ہوئے نظریات کو دیکھ کر بس اتنا ہی کہوں گا کہ ۔ بدلتا ہے آسمان رنگ کیسے کیسے۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں