433

میڈ ان چائنہ قرض کا جال ہے یا ترقی کا موقع؟

حال ہی میں امریکی نائب صدر مائیک پنس کی جانب سے چین پرتنقیدی حملہ کرتے ہوئے ایک مضمون شائع ہوا ہے ،جس میں لکھا گیا ہے کہ چین ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کو بنیادی تنصیبات کی تعمیر کے لیے جو کئی کھرب امریکی ڈالرز کا قرض فراہم کرتا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض کا جال پھیلایا جا رہا ہے ۔ مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ امریکہ متعدد ممالک کے لیے چین کے اختیارا ت کا متبادل فراہم کرے گا۔
دراصل چین کی جانب سے قرض ترقی پزیر ممالک کے لیے جال ہے یا موقع ؟ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے پرچم بردار منصوبے کی حیثیت سے چین پاک اقتصادی راہداری اس سوال کے جواب کے طور پر سب سے اچھا ثبوت ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے پاکستانی پارلیمنٹ کو پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق چین سےلیا گیا قرض پاکستان کے تمام ترغیر ملکی قرض کا محض بارہ فیصد بنتا ہے۔چین پاک اقتصادی راہداری کے تحت تعمیر کی جانے والے بائیس منصوبہ جات میں سے اٹھارہ منصوبوں میں چین نے براہ راست سرمایہ لگایا یا امداد فراہم کی ۔ان میں سے صرف چار پروجیکٹس ہیں کہ جن کے لیے چین کی جانب سے رضاکارانہ طور پر قرض دیا گیا ہے،جس کی شرح صرف دو فیصد ہےجو کہ مغربی ممالک کی جانب سے دیئے گئے قرض کی شرح سے کہیں کم ہے۔حالیہ برسوں میں چین پاک اقتصادی راہداری سے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کی خدمات سالانہ ایک تا دو فی صد ہیں ۔پاکستان میں ستر ہزار سے زائد ملازمت کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔جب مغربی میڈیا نے یہ خبر دی کہ پاکستان قرض کے جال میں پھنس گیا تواس حوالے سے پاکستانی حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ حقائق کی نفی ہے۔مذکورہ مثال سے ظاہر ہوا کہ چین سے متعلق امداد اور قرض کسی بھی جال میں پھنسے بغیر اقتصادی ترقی کا موقع ہے۔ (بشکریہ سی آر آئی . اردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں